ای پی آئی بلوچستان کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر آفتاب کاکڑ نے کہا ہے کہ صوبے میں بچوں کو حفاظتی ٹیکہ جات لگانے کی شرح 53 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور کوریج میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ ہدف ہے کہ کوئی بھی بچہ ویکسینیشن سے محروم نہ رہے۔کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر آفتاب کاکڑ نے بتایا کہ 24 سے 30 اپریل تک صوبے میں حفاظتی ٹیکہ جات کا عالمی ہفتہ منایا گیا، جس کا مقصد عوام میں آگاہی بڑھانا اور بچوں کو بیماریوں سے محفوظ بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معمول کی ویکسینیشن نہ صرف بچوں کو مہلک امراض سے بچاتی ہے بلکہ پولیو کے خاتمے کی قومی کوششوں کو بھی تقویت دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں میرٹ کی بنیاد پر ویکسینیٹرز کی بھرتی کی گئی ہے اور ای پی آئی پروگرام نے معمول سے ہٹ کر مو¿ثر اقدامات کیے ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پروگرام کی کارکردگی کو باقاعدہ طور پر جانچا بھی جا سکتا ہے اور ادارہ محض دعوو¿ں تک محدود نہیں۔ڈاکٹر آفتاب کاکڑ نے مزید بتایا کہ ای پی آئی کی بہتری کے لیے پروونشل ٹاسک فورس بھی قائم کی گئی ہے جو مختلف اقدامات کی نگرانی کر رہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان، صوبائی وزیر صحت اور چیف سیکرٹری بلوچستان کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومتی حمایت کے باعث پروگرام کو مزید تقویت ملی ہے۔

Leave a Reply