Daily Shujaat Quetta
June 26, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
ایران جنگ میں اللہ نے پاکستان سے کام لیا، دنیا ہمیں پیس میکر کے نام سے جانتی ہے: اسحاق ڈارملک بھر میں 9 محرم الحرام کے جلوس اور مجالس کا انعقادنیتن یاہو کی مشکلات میں مزید اضافہ، ٹرمپ امریکا ایران ڈیل کو اسرائیلی مؤقف پر ترجیح دینے لگےامریکا کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کیساتھ براہ راست رابطے کا فیصلہایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنایران جنگ میں اللہ نے پاکستان سے کام لیا، دنیا ہمیں پیس میکر کے نام سے جانتی ہے: اسحاق ڈارملک بھر میں 9 محرم الحرام کے جلوس اور مجالس کا انعقادنیتن یاہو کی مشکلات میں مزید اضافہ، ٹرمپ امریکا ایران ڈیل کو اسرائیلی مؤقف پر ترجیح دینے لگےامریکا کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کیساتھ براہ راست رابطے کا فیصلہایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکن

بیمار کا حال اچھا ہے!

کالم:عالیہ زاہد بھٹی
سنتے آئے ہیں کہ صحت ہزار نعمت ہے اور یہی حقیقت بھی ہے صحت نہ ہو تو کچھ بھی نہیں اچھا لگتا ہر ایک نعمت، خوشی، راحت، سب ہی کچھ صحت اور عافیت کے ساتھ ہی اچھی لگتی ہے اگر صحت اور عافیت نہ ہو تو ہزارہا نعمتیں سامنے دھری کی دھری رہ جاتی ہیں کچھ بھی من کو نہیں بھاتا سب سے بڑھ کر یہ کہ جب انسان بیمار ہوتا ہے تو اس کی تیمارداری بھی فرض سمجھی جاتی ہے دینی لحاظ سے دیکھیں تو فرض ہے بھی مریض کی عیادت اسلام میں بہت بڑی نیکی اور اجر کا کام ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا: ”جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کے لیے جاتا ہے تو وہ واپسی تک جنت کے پھل چنتا رہتا ہے“۔ (صحیح مسلم) اسی حوالے سے اللہ کی طرف سے خاص انتباہ موجود ہے نبی کریم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے ابنِ آدم! میں بیمار ہوا تو تو میری عیادت کے لیے نہ آیا۔ بندہ کہے گا: اے میرے ربّ! تو تو ربّ± العالمین ہے، میں تیری عیادت کیسے کرتا؟ اللہ فرمائے گا: کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا؟ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا“۔ (مسلم) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیمار کی عیادت اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
ہم میں سے جو بھی فی زمانہ مریض کی عیادت کو بوجھ سمجھنے لگے ہیں ان کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ اس عیادت کے عوض ہمیں کیا کیا ملنے والا ہے رسول اللہ نے فرمایا: ”جو مسلمان صبح کے وقت کسی بیمار کی عیادت کرے تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں، اور جو شام کو عیادت کرے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے دعا کرتے رہتے ہیں، اور اس کے لیے جنت میں باغ تیار ہوتا ہے“۔ (سنن ترمذی) مسلمان کے حقوق کے بارے میں رسول اللہ نے فرمایا: ”مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں: سلام کا جواب دینا، مریض کی عیادت کرنا، جنازے کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا اور چھینکنے والے کو دعا دینا۔ (بخاری) رسول اللہ مریض کے لیے یہ دعا پڑھتے تھے: کوئی حرج نہیں، ان شاء اللہ یہ بیماری گناہوں کو پاک کرنے والی ہے۔ (بخاری)
عیادت کے حوالے سے یہ خوبصورت باتیں بہت اہم ہیں لیکن ہوتا یہ ہے کہ فی زمانہ ہم نے بیمار کی عیادت کو کچھ اس طرح بنا دیا ہے کہ وہ عیادت سے زیادہ زحمت محسوس ہوتی ہے بعض اوقات یہ جانتے ہوئے بھی کہ مریض یا مریضہ گھر میں اکیلآاکیلی ہے اور مکمل صاحب فراش ہے کوئی ایک آدھ بچہ یا گھر کا کوئی فرد اس کی داد رسی کو اس کے پاس رہتا ہے ایسے میں معاشرتی اور سماجی لوازمات کی ادائیگی ان کے لیے ممکن نہیں ہے لیکن یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ باجماعت مریض کے گھر پر ہلہ بول دینا اس کے گرد جمگھٹا لگا کر بیٹھ جانا اس کو بار بار مخاطب کرنا اس کی بیماری سے متعلق مختلف سوال جواب کرنا کیوں کیسے کیا کب ہوا اب کیا محسوس کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ ان سب کو تیمارداری سمجھا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مریض اپنے مرض سے پہلے ہی نالاں ہوتا ہے بعض اوقات اس کا جی نہیں چاہتا کہ اس حوالے سے کوئی بات کرے مریض کو اس وقت شدت سے اپنے صحت والے معمولات یاد آرہے ہوتے ہیں اس کا جی چاہتا ہے کہ وہ بھی ان صحت مند افراد کی طرح ان کے ساتھ مل بیٹھ کر کھائے پیے ہنسے بولے لیکن وہ یہ سب نہیں کر سکتا ایسے میں تیمارداری کے لیے آنے والے اسے دوبارہ ان ہی لمحات کی اذیت میں دھکیل دیتے ہیں جنہیں وہ محسوس نہیں کرنا چاہتا ایسے میں یہ تیمارداری اس پر گراں گزرتی ہے۔
فی زمانہ بہت سے لوگ ان کیفیات کا احساس کرتے ہوئے انفرادی اور نہایت کم وقت میں تیمارداری کو ترجیح دیتے ہیں اور ایسا ہی ہونا چاہیے بجائے اس کے کہ ہم بیمار کی عیادت کے لیے جائیں اور ان کے گھر کے افراد کو اس تیمارداری کے عوض مہمان داری کی مشقت میں مبتلا کر دیں۔ ہمارا مریض کے گھر جانا اشد ضروری ہے تو اس کے دینی لوازمات کو ضرور اپنایا جائے جن میں دعاﺅں کے ساتھ دواﺅں اور خوراک میں بھی اپنا حصہ ڈالنا چاہیے کسی بھی مد میں کسی بھی طرح چاہے لفافے میں نقد کی صورت چاہے ایک پیالی سالن کچھ پھل یہ پھول ساتھ لے جا کر اس کے سرہانے رکھ دیے جائیں اس سے خوش کن باتیں کی جائیں، امید افزائ آنے والے کل کی بات کی جائے، جب وہ صحت مند ہو کر اپنے ربّ العالمین کی عطاءکردہ صحت مند زندگی جیے گا اس سے پریشان کن لہجہ بنا کر ہمدردانہ انداز جتا کر مزید ڈپریشن میں دھکیلنے کے بجائے اس کی تسلی آس امید بن کر اس کے پاس جائیں تاکہ جتنا وقت اس کے ساتھ رہیں وہ اپنے دکھ تکلیف بھول کر آپ سے امید ویقین پائے۔ مریض کی عیادت میں پھل یا کھانا لے جانا براہِ راست الفاظ میں کسی صحیح حدیث میں لازمی حکم کے طور پر نہیں آیا، لیکن مریض کو کھانا کھلانا، تحفہ دینا اور اس کی دلجوئی کرنا احادیث سے ثابت ہے۔ اسی سے علماءنے عیادت میں پھل وغیرہ لے جانا مستحب قرار دیا ہے۔
رسول اللہ نے فرمایا: ”جب تم مریض کے پاس جاﺅ تو اس کی خواہش کے مطابق کھانا کھلاﺅ، کیونکہ یہ اس کے دل کو خوش کرتا ہے“۔ (سنن ابن ماجہ) اس حدیث سے واضح ہے کہ مریض کی پسند کی چیز لے جانا سنت کے مطابق عمل ہے۔نبی کریم نے فرمایا: ”جو کسی بیمار کو کھانا کھلائے، اللہ اسے جنت کے پھل کھلائے گا“۔ (سنن ترمذی) اسی وجہ سے مریض کے لیے پھل، جوس یا ہلکی غذا لے جانا مستحب سمجھا جاتا ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا: ”آپس میں تحفے دیا کرو، اس سے محبت بڑھتی ہے“۔ (موطا امام مالک) جب عام حالات میں تحفہ دینا محبت بڑھاتا ہے تو بیماری میں تحفہ دینا زیادہ افضل ہے کیونکہ مریض کو دل کی خوشی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ صحابہ کا عمل (فقہی استدلال) محدثین اور فقہائ لکھتے ہیں کہ: مریض کے لیے ہلکی غذا، پھل، شوربہ وغیرہ لے جانا دلجوئی اور تسلی کا بہترین طریقہ ہے۔ یہ عمل عیادت کی روح کے مطابق ہے۔ مستند احادیث سے درج ذیل باتیں ثابت ہیں: مریض کو کھانا کھلانا سنت ہے۔ مریض کی پسند کا خیال رکھنا سنت ہے۔ تحفہ دینا سنت ہے اسی لیے عیادت میں پھل لے جانا سنت کے مطابق مستحب عمل سمجھا جاتا ہے۔ ان سب باتوں کے بعد یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں لیکن بر سبیل تذکرہ بیان کر دینا ضروری ہے کہ تحائف کے حوالے سے بھی موجودہ دور میں افراد مادیت پرستی کا شکار ہو چکے ہیں تحائف کا لین دین راحت کے بجائے وبال بن گیا ہے اکثر تقاریب پر جانا محال سمجھا جانے لگا ہے دعوتوں کو ٹھکرا دیا جاتا ہے محض اس لیے ان دعوتوں میں دینے کے لیے شایان شان تحائف موجود نہیں ہوتے اور یہ کیفیت یک طرفہ نہیں دو طرفہ ہے اگر دینے والا اپنی حیثیت کے مطابق کچھ دے بھی دے تو لینے والا (ظاہری طور پر نہ سہی دلی طور پر ہی سہی) اس کی تضحیک کرتا ہے کہ یہ کیا اٹھا کر لے آئے حالانکہ اس حوالے سے واضح طور پر احکامات موجود ہیں۔
تحفہ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، اسلام میں اسے حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس بارے میں رسول اللہ کی بہت خوبصورت احادیث موجود ہیں: معمولی تحفہ بھی رد نہ کریںرسول اللہ نے فرمایا: ”اے مسلمان عورتو! کوئی عورت اپنی پڑوسن کے تحفے کو حقیر نہ سمجھے، اگرچہ وہ بکری کا ایک کھر ہی کیوں نہ ہو“۔ (بخاری، مسلم) یہ حدیث واضح بتاتی ہے کہ چھوٹا تحفہ بھی عزت کے ساتھ قبول کرنا چاہیے۔ تھوڑا بھی صدقہ و تحفہ قابل ِ قدر ہے۔ نبی کریم نے فرمایا: ”آگ سے بچو چاہے آدھی کھجور کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو“۔ (بخاری) اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے نزدیک معمولی چیز بھی بڑی اہم ہو سکتی ہے۔ تحفہ محبت بڑھاتا ہے۔
نبی کریم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جو مسلسل ہو، چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو“۔ (بخاری، مسلم) اسی اصول پر علماءفرماتے ہیں کہ چھوٹا تحفہ بھی محبت اور اخلاص کی وجہ سے بڑا بن جاتا ہے۔ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے: چھوٹا تحفہ بھی حقیر نہ سمجھیںتحفے کی قیمت نہیں، نیت اہم ہے۔ یہ وہی تالیف قلب ہے۔ جب دلوں کو فتح کر لیا جاتا ہے تو ان دلوں کو پیدا کرنے والے خالق کی نگاہ میں مقام بنانا آسان ہو جاتا ہے اس دنیا میں ہم جو بھی کرتے ہیں جیسا بھی کرتے ہیں اگر ان سب میں خالص رضائے الٰہی اور طریقہ محمدی? کو اختیار کر لیا جائے تو نہ صرف زندگی آسان ہو جائے گی بلکہ بعد از موت ہماری قبروں میں حشر کے میدان تک راحت ہی راحت مل جائے گی یہ وعدہ ہے اس ربّ± العالمین کا کہ جس کے قبضے میں ہماری جانیں ہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *