کالم:شاہنواز فاروقی
پہلے ایک علمی بات، اقبال نے کہا ہے
غلامی کیا ہے؟ ذوقِ ح±سن و زیبائی سے محرومی
جسے زیبا کہیں آزاد بندے ہے وہی زیبا
غلاموں کی بصیرت پر بھروسا کر نہیں سکتے
کہ دنیا میں فقط مردانِ ح±ر کی آنکھ ہے بینا
اب ایک فلمی بات۔ معروف کالم نویس سہیل وڑائچ نے ایک دست شناس کو اپنا ہاتھ دکھایا تو دست شناس نے کہا تم ڈیڑھ سو سال تک غلام رہو گے۔
”اور اس کے بعد؟“ سہیل وڑائچ نے ایک ا±مید کے ساتھ پوچھا۔
”اس کے بعد تمہیں غلامی کی عادت ہو جائے گی“ دست شناس نے کہا۔
دست شناس کی بات سو فی صد درست ثابت ہوئی ہے۔ سہیل وڑائچ صاحب کو غلامی کی عادت ہوگئی ہے۔ اس کا ایک ثبوت 26 اپریل 2026ءکے روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والا ان کالم ہے، کالم کا عنوان ہے ”ہر بار میں کیوں ہارتا ہوں؟۔ کالم میں سہیل وڑائچ نے مسلمانوں کی بڑی بڑی فتوحات کو معمولی بنا کر پیش کیا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کی کئی فتوحات کو شکست کے روپ میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے سوویت یونین کے خلاف افغانوں کی فتح کو ایک فقرے میں نمٹادیا ہے اور فرمایا کہ اس کے بعد مسلمان پوری دنیا فتح کرنے کے خواب دیکھنے لگے اور یہ کام ممکن نہ ہوسکا۔ چنانچہ یہ مسلمانوں کی ہار ہے۔ پھر اسامہ بن لادن نے امریکا کو شکست دینے کا اعلان کیا اور وہ بھی ہار گیا۔ طالبان نے نائن الیون کے بعد امریکا کو فتح کرنے کی کوشش کی مگر امریکا کو شکست دینے کے بعد انہوں نے امریکا سے معاہدہ کرکے حکومت بنالی۔ یعنی یہ بھی مسلمانوں کی ہار ہی تھی۔ پھر حماس نے اسرائیل کے خلاف اعلان جنگ کردیا مگر اسرائیل کے ”علم“ نے حماس کا بھی بھرکس نکال دیا اور گویا حماس کو بھی شکست ہوگئی۔ اب مسلمانوں کی ساری امیدیں ایران سے وابستہ ہیں مگر امریکا نے پہلے ہی دن ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کو شہید کردیا۔ مسلمانوں کو یقین ہے کہ نیتن یاہو کے ٹینکوں میں کیڑے پڑیں گے۔ سہیل وڑائچ کا اصرار ہے کہ اصل چیز علم ہے اور علم کا مفہوم ان کے نزدیک صرف سائنس اور ٹیکنالوجی ہے۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ جب تک مسلمان ”علم“ میں ترقی نہیں کریں گے شکست ان کا مقدر بنتی رہے گی۔ آئیے اقبال کا ایک شعر پھر پڑھ لیں۔
غلاموں کی بصیرت پر بھروسا کر نہیں سکتے
کہ دنیا میں فقط مردانِ ح±ر کی آنکھ ہے بینا
دنیا میں مسلمانوں کی فضیلت تین چیزوں پر کھڑی ہے۔ ایمان، علم اور عمل صالح۔ لیکن اسلام میں سب سے بڑا علم مابعد الطبیعیات ہے۔ خدا کی ذات اور صفات کے بارے میںایک بات کا علم مادی دنیا کی ایک لاکھ باتوں کے علم پر فوقیت رکھتا ہے۔ لیکن اسلام سائنس اور ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں۔ خدا نے قرآن میں مسلمانوں سے کہا ہے کہ دشمن کے مقابلے پر اپنے ”گھوڑے“ تیار رکھو۔ اس کا مطلب ہے کہ مسلمانوں کو دشمن کے مقابلے کے لیے ایٹم بم کے مقابل ایٹم بم۔ میزائل کے مقابلے پر میزائل اور ہوائی جہاز کے مقابلے پر ہوائی جہاز تیار رکھنے چاہئیں۔ لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کی اصل طاقت ایمان ہے۔ سیدنا عمرؓ نے اپنے زمانے میں وقت کی دو سپر پاورز یعنی قیصر و کسریٰ کو منہ کے بل گرایا تو ایمان کی طاقت سے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی طاقت سے نہیں۔ طارق بن زیاد نے 18 ہزار فوجیوں کی مدد سے کفار کے ایک لاکھ کے لشکر کو شکست دی تو ایمان کی قوت سے سائنس اور ٹیکنالوجی کی قوت سے نہیں۔ محمد بن قاسم نے 17 ہزار فوجیوں کے ذریعے راجا داہر کی 50 ہزار سپاہ کو شکست دی تو ایمان کے زور پر سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے نہیں۔
عہد ِ جدید میں مسلمانوں کی متعدد فتوحات ہیں۔ مسلمان 1857ءکی جنگ آزادی تقریباً جیت گئے تھے اور انگریز 1947ءسے 100 سال پہلے برصغیر سے رخصت ہوجاتے مگر انگریزوں نے پنجابی اور پشتون مسلمان فوجیوں کی کمک منگالی اور انگریز کے پٹھو پنجابی اور پشتون فوجیوں نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔ لیکن مسلمان گھبرائے نہیں۔ انہوں نے برصغیر میں پاکستان کے نام سے ایک الگ ریاست کا مطالبہ کردیا اور وہ بھی اسلام کے نام پر۔ مسلمانوں کو ایک طرف وقت کی واحد سپر پاور یعنی سلطنت برطانیہ سے مقابلہ درپیش تھا۔ دوسری جانب برصغیر کی ہندو اکثریت پاکستان کے مطالبے کے سخت خلاف تھی۔ اس کے باوجود مسلمانوں نے کسی فوج، کسی سائنس اور کسی ٹیکنالوجی کے بغیر پاکستان بنا کر دکھادیا۔ یہ مسلمانوں کی ایک بہت ہی بڑی فتح تھی اور اس فتح کی پشت پر صرف مسلمانوں کے نظریے کی طاقت تھی۔ وہ نظریہ جس نے محمد علی جناح کو دیکھتے ہی دیکھتے ”قائداعظم“ بنادیا۔ سہیل وڑائچ پڑھنے لکھنے والے آدمی ہیں مگر وہ بھول گئے کہ الجزائر کے مسلمانوں نے بھی کسی سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد کے بغیر ہی 20 ویں صدی میں فرانس سے آزادی حاصل کی۔ الجزائر کے مسلمانوں کی جدوجہد آزادی اتنی ولولہ انگیز تھی کہ فرانس کا ممتاز فلسفی ڑاں پال سارتر بھی اس سے متاثر ہوا اور اس نے الجزائر کی آزادی کے لیے آواز اٹھائی۔
سہیل وڑائچ نے افغانستان میں سوویت یونین کی شکست کو ایک فقرے میں نمٹا دیا حالانکہ افغانستان میں سوویت یونین کی شکست کے بیان کے لیے ایک انسائیکلوپیڈیا بھی کم ہے۔ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جہاد شروع ہوا تو ہم یونیورسٹی کے طالب علم تھے۔ ہمارے دوستوں میں این ایس ایف کے کئی نوجوان شامل تھے۔ ہم افغانستان میں مجاہدین کی فتح کی بات کرتے تو ہمارے این ایس ایف کے دوست کہتے کہ تم اتنے پڑھنے والے ہو مگر تمہیں یہ بات بھی معلوم نہیں کہ سوویت یونین جہاں جاتا ہے وہاں سے کبھی واپس نہیں آتا۔ دوسری بات یہ کہ افغان مجاہدین 19 ویں صدی کے ہتھیاروں سے وقت کی ایک سپر پاور کے خلاف جہاد کررہے ہیں۔ چنانچہ ان کی کامیابی کا ایک فی صد بھی امکان نہیں۔ مگر اس کے باوجود سوویت یونین کو افغانستان میں ایسی شکست ہوئی کہ وہ اپنا وجود بھی نہ سنبھال سکا اور ٹوٹ کر ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ حد تو یہ کے سوویت یونین کا نظریہ سوشلزم ہی دنیا سے غائب ہوگیا۔ اہم بات یہ ہے کہ مجاہدین نے یہ کامیابی کسی سائنس اور کسی ٹیکنالوجی کے بغیر حاصل کی۔ اس سلسلے میں لوگ امریکا کے اسٹنگر میزائلوں کا ذکر کرتے ہیں۔ لیکن یہ میزائل جہاد کے آخری برسوں میں مجاہدین کو ملے۔ یہ میزائل مجاہدین کو نہ ملتے تو بھی سوویت یونین کو شکست ہوتی۔ 1988ءنہیں تو دو سال بعد۔ ہمیں یاد ہے کہ ہماری یونیورسٹی کے ابتدائی برسوں میں بھارت کے ممتاز ماہر غالبیات کمال صدیقی کراچی آئے ہوئے تھے۔ وہ پکے مارکسٹ تھے۔ ہم نے ان سے انٹرویو کیا تو ان سے عرض کیا کہ مولانا مودودی 1954ءمیں کہہ چکے ہیں کہ ایک وقت آئے گا سوشلزم کو ماسکو میں پناہ نہیں ملے گی۔ ہم نے انٹرویو میں کمال صدیقی سے سوال کیا کہ کیا وہ وقت قریب آچکا ہے کہ جب ماسکو میں سوشلزم کو پناہ نہیں ملے گی تو وہ پہلے ہنسے پھر غصے سے کہنے لگے۔ جس دن ایسا ہو آپ مجھے میرے بھارت کے پتے پر خط ضرورت لکھیے گا۔ 1990ءمیں جب ایسا ہوا تو ہم نے سوچا کہ کمال صدیقی کو خط لکھنا چاہیے۔ لیکن پھر ہم نے یہ سوچ کر خط نہیں لکھا کہ وہ شرمندہ ہوں گے۔
سہیل وڑائچ صاحب نے افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں امریکا اور اس کے 47 اتحادیوں کی شکست کو بھی چند فقروں میں یہ کہہ کر نمٹا دیا کہ طالبان نے امریکا سے معاہدہ کرلیا۔ ارے بھائی یہ اسلام کی اتنی بڑی فتح تھی کہ اتنی بڑی فتح عیسائیت، یہودیت، ہندو ازم یا سیکولر ازم کو نصیب ہوتی تو اب تک اس فتح پر ہالی وڈ اور بالی وڈ میں درجنوں فلمیں بن چکی ہوتیں۔ درجنوں ڈراما سیریلز وجود میں آچکے ہوتے۔ درجنوں دستاویزی فلمیں تخلیق ہوچکی ہوتیں۔ اس موضوع پر بڑی زبانوں میں پچاسوں کتب لکھی جاچکی ہوتیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طالبان اور امریکا کی سیاسی طاقت میں ایک اور ایک لاکھ کی نسبت تھی۔ ان کی معاشی طاقت میں ایک اور ایک کروڑ کی نسبت تھی۔ ان کی عسکری طاقت میں ایک اور ایک ارب کی نسبت تھی۔ طالبان کے پاس صرف ایمان اور شوق شہادت تھا۔ ان کے پاس نہ کوئی سائنس تھی نہ ٹیکنالوجی۔ ان کے پاس وہ مشہورِ زمانہ ”اسٹنگر میزائل “ بھی نہیں تھے جو سوویت یونین کے خلاف دادِ شجاعت دینے والے مجاہدین کے پاس تھے۔
سہیل وڑائچ نے اپنے کالم میں تاثر دیا ہے کہ حماس کو بھی گویا اسرائیل سے شکست ہوئی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حماس نے دو سال تک اسرائیلی جارحیت کو جھیلا ہے۔ اس عرصے میں 80 ہزار سے زیادہ افراد شہید ہوئے ہیں۔ ایک لاکھ سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ غزہ پورا ملبے کا ڈھیر بن گیا ہے مگر اس کے باوجود حماس نے اسرائیل کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔ اسی لیے ہم نے اپنے ایک کالم میں عرض کیا تھا کہ جیسا ایمان غزہ کے مسلمانوں کے پاس ہے ویسا ایمان کہیں نہیں پایا جاتا۔ مکے اور مدینہ میں نہیں۔ جیسی استقامت غزہ کے لوگوں کے پاس ہے ویسی استقامت کہیں موجود نہیں۔ جیسا صبر جمیل اہل غزہ کے پاس ہے ویسا صبر جمیل بھی کہیں موجود نہیں۔ کیا یہ اسلام اور مسلمانوں کی معمولی فتح ہے؟ کیا اس فتح میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا کوئی حصہ ہے؟
امریکا اور اسرائیل پر ایران کی فتح بھی بالکل سامنے کی چیز ہے۔ امریکا ایران میں حکومت بدلنے آیا تھا۔ دو ماہ کی جنگ کے باوجود وہ ایسا نہیں کرسکا۔ امریکا اور اسرائیل نے ایران کے لوگوں کو حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسایا مگر ناکام رہے۔ امریکا نے اپنی فوج ایران میں ا±تارنے کی دھمکی دی وہ نہیں ا±تار سکا۔ یہ امریکا کی کھلی ناکامی اور ایران کے کھلی کامیابی ہے اور اس کامیابی کا سبب بھی ایران کا ایمان اور جذبہ ”حریت“ ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی نہیں۔
کیا مسلمان ہمیشہ ہارتے ہی رہتے ہیں؟
adminshuja
← پچھلی خبر
سفارت کاری اور تیل: غیر یقینی کی معیشت

Leave a Reply