صوبائی مشیر برائے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نسیم الرحمن خان ملاخیل نے کہا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی اس وقت پوری دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، اور اگر بروقت و مو¿ثر اقدامات ات نہ کیے گئے تو اس کے منفی اثرات انسانی زندگی، زراعت، جنگلات، آبی وسائل اور مجموعی ماحول پر مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل اور خوبصورتی سے مالا مال صوبہ ہے، جس کے ماحول کا تحفظ ہم سب کی قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی، گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں، فیکٹریوں کا غیر معیاری فضلہ، پلاسٹک بیگز کا بے تحاشا استعمال اور صفائی کے ناقص نظام نے ماحول کو شدید متاثر کیا ہے۔
ماحولیاتی آلودگی کے باعث مختلف سانس اور جلدی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے عوام کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہیں نسیم الرحمٰن خان ملاخیل نے کہا کہ حکومت بلوچستان ماحولیات کے تحفظ کے لیے مربوط اور دیرپا پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ صوبے بھر میں شجرکاری مہمات، ماحول دوست منصوبوں، گرین انرجی کے فروغ اور صنعتی اداروں کی نگرانی کے عمل کو مزید مو¿ثر بنایا جا رہا ہے تاکہ آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں۔انہوں نے نوجوانوں، طلبہ، سماجی کارکنوں اور میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ماحولیات کے تحفظ کے لیے عوامی شعور بیدار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہر شہری اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرے، درخت لگائے، صفائی کا خیال رکھے اور ماحول دوست عادات اپنائے تو ہم آنے والی نسلوں کو ایک صاف، سرسبز اور محفوظ پاکستان دے سکتے ہیں۔صوبائی مشیر نے مزید کہا کہ حکومت عوام کے تعاون سے بلوچستان کو ماحولیاتی حوالے سے ایک مثالی صوبہ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی، کیونکہ صاف ماحول ہی ایک صحت مند اور خوشحال معاشرے کی بنیاد ہے۔

Leave a Reply