چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہاہے کہ بلوچستان کے ضلع زیارت میں 30 پولیس اہلکاروں کی شہادت انتہائی دلدوز , افسوسناک اور قابل مذمت واقعہ ہے یہ حملے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے خلاف بزدلانہ کاروائی ہیں بلکہ ریاستی امن، عوامی تحفظ اور بلوچستان کے استحکام کو نشانہ بنانے کی کوشش بھی ہیں ان شہداءنے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ملک کے امن اور شہریوں کے تحفظ کا فریضہ انجام دیا۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے یہ واقعات ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ بلوچستان میں بھارت کی پشت پناہی سے امن کے یہ دشمن عناصر اب بھی متحرک ہیں جنکا قلع قمع فوری طور پر ضروری ہے شدت پسند گروہوں کو بیرونی سرپرستی، تربیت اور مالی معاونت حاصل ہے. پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے . بیرونی عناصر پاکستان کے داخلی امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں اس لیے عالمی برادری بھی اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کی شہادت پر وزیراعظم شہباز شریف کا کوئٹہ کا دورہ اہم اقدام ہے۔ انہوں نے شہداءکے خاندانوں سے اظہار تعزیت کر کے یہ پیغام دیا کہ ریاست اپنے بہادر اہلکاروں اور ان کے لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے۔ اگرچہ کسی بھی نقصان کا ازالہ ممکن نہیں، لیکن اعلیٰ قیادت کی موجودگی متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ محض تعزیت اور مذمت کافی نہیں۔ حکومت کو دہشت گردوں، انکے سہولتکاروں اور مالی معاونین کے خلاف بلاامتیاز اور فیصلہ کن کاروائی کرنا ہوگی۔ انٹیلی جنس نظام کو مزید مضبوط، سرحدی نگرانی کو مو¿ثر اور پولیس و سیکیورٹی اداروں کو جدید وسائل سے لیس کرنا ناگزیر ہے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا ہے کہ بلوچستان میں پائیدار امن صرف طاقت کے استعمال سے ہی نہیں بلکہ ترقی، روزگار، تعلیم اور عوامی اعتماد کی بحالی سے بھی ممکن ہوگا۔ ریاست کو دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ عوام کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ انکا مستقبل امن، ترقی اور استحکام سے وابستہ ہے۔ شہداءکی قربانیاں اسی عزم کا تقاضا کرتی ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ہر قیمت پر منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔

Leave a Reply