چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ پاکستان اور کینیڈا کے درمیان تعلقات کو نئی جہت دینے کا یہ ایک موزوں وقت ہے دونوں ممالک باہمی اعتماد، مشترکہ مفادات اور مو¿ثر سفارت کاری کے ذریعے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، تعلیم، ٹیکنالوجی، ترقیاتی تعاون اور عوامی روابط کے شعبوں میں غیر معمولی پیش رفت حاصل کر سکتے ہیں۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کینیڈا کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے، سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے، زرعی تحقیق، فوڈ سیکیورٹی، قابلِ تجدید توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور صنعتی تعاون کو فروغ دینے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ کینیڈا کی جدید مہارت اور پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور معاشی استعداد ایک مضبوط اقتصادی شراکت داری کی بنیاد بن سکتی ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو صرف وقتی سفارتی رابطوں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں ادارہ جاتی بنیادوں پر استوار کیا جانا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس، پارلیمانی روابط، اقتصادی کمیشنز اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے جامع فریم ورک تشکیل دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ تعاون کا دائرہ مزید مو¿ثر اور نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ علاقائی امن، انسدادِ دہشت گردی، افغانستان کی صورتحال، سرحد پار دہشت گردی، جنوبی ایشیا کے حساس تنازعات اور مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت اہم علاقائی امور پر کینیڈا کا متوازن، تعمیری اور اصولی کردار نہ صرف خطے میں استحکام کے لیے سودمند ہوگا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان دیرپا اور مضبوط شراکت داری کو بھی فروغ دے گا۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی مکمل پاسداری بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کا بنیادی تقاضا ہے۔

Leave a Reply