ہمارا دماغ جسم کے کنٹرول سینٹر کی حیثیت رکھتا ہے جو دل کی دھڑکن جاری رکھتا ہے، پھیپھڑوں کو سانس لینے اور ہمیں چلنے، پھرنے، سوچنے اور محسوس کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
مگر عمر کے ساتھ ہر فرد کے دماغ میں تبدیلیاں آتی ہیں اور ذہنی افعال بھی تبدیل ہوتے ہیں۔
عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ تنزلی کا شکار ہونے لگتا ہے اور اس کا نتیجہ بڑھاپے میں الزائمر اور ڈیمینشیا جیسے امراض کی شکل میں بھی نکل سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق چند آسان عادات کو اپنانے سے دماغ کو ہر عمر میں صحت مند رکھنا ممکن ہو سکتا ہے۔
ر رات 6 سے 8 گھنٹے کی اچھی نیند دماغی صحت کے لیے بہترین چیزوں میں سے ایک ثابت ہوتی ہے۔
نیند سے دماغ کو نئی تفصیلات کا تجزیہ کرنے میں مدد ملتی ہے، یادیں تشکیل پاتی ہیں، نئے تصورات یا خیالات ذہن میں ابھرتے ہیں جبکہ الزائمر کا خطرہ بڑھانے والے پروٹین کا اجتماع نہیں ہوتا۔
نیند سے دماغی لچک بھی بڑھتی ہے اور اس کے لیے نئی چیزوں سے مطابقت پیدا کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
نئی چیزوں کو اپنانے سے عمر بڑھنے کے باوجود دماغی افعال بہتر ہوتے ہیں اور تنزلی کے شکار نہیں ہوتے۔
ماہرین نے بتایا کہ روزانہ ورزش کرنا دماغ کو صحت مند رکھتا ہے۔
جسمانی سرگرمیوں سے دماغ کے لیے خون کا بہاؤ بڑھتا ہے اور اس کے لیے مضبوط دل کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ دماغ کو درکار خون مسلسل فراہم کر سکے۔
تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ ورزش کرنے کے عادی افراد میں الزائمر امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے جبکہ عمر بڑھنے کے باوجود دماغی تنزلی کا سامنا نہیں ہوتا۔
ماہرین نے بتایا کہ جس حد تک ممکن ہو جسم کو متحرک رکھیں کیونکہ کچھ نہ کرنے سے تھوڑی ورزش کرنا بہتر ہوتا ہے۔

Leave a Reply