عمر میں اضافہ ایسی چیز ہے جس کی روک تھام ممکن نہیں۔
مگر کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ عمر میں اضافے کے ساتھ ہمارے چلنے کی رفتار سست ہو جاتی ہے اور تھکاوٹ بھی ظاہر ہونے لگتی ہے۔
اب ایک نئی تحقیق میں اس سوال کا جواب دیا گیا ہے۔
آسٹریلیا کی فلینڈرز یونیورسٹی اور کینبرا یونیورسٹی کی تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی تھی کہ عمر میں اضافے کے ساتھ ہمارے چلنے کا انداز اور رفتار کیوں بدل جاتے ہیں۔
حقیق میں دریافت کیا گیا کہ عمر میں اضافے کے ساتھ ہمارا جسم تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے اور سیدھا رہنے سمیت استحکام کو ترجیح دیتا ہے جبکہ رفتار کی اہمیت گھٹ جاتی ہے۔
تحقیق کے مطابق یہی وجہ ہے کہ معمر افراد چلنے کے دوران بہت تیزی سے تھک جاتے ہیں جبکہ ان کے گرنے کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔
اس تحقیق میں 107 صحت مند افراد کو شامل کیا گیا جن کی عمریں 26 سے 86 سال کے درمیان تھیں۔
ان افراد کی جسمانی حرکت کا تجزیہ کیا گیا اور دریافت ہوا کہ عمر کے ساتھ ٹخنوں اور دیگر مسلز کی حرکت میں ہر قدم کے ساتھ فرق آتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ ٹخنے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں اور لوگوں کو آگے چلنے میں مدد بھی فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عمر میں اضافے کے ساتھ جسم افادیت کی بجائے استحکام کو ترجیح دینے لگتا ہے جس سے ہمیں سیدھا کھڑے ہونے میں مدد ملتی ہے، مگر چلنے میں زیادہ محنت لگتی ہے۔
محققین نے دریافت کیا کہ معمر افراد ٹخنے کے اردگرد موجود مسلز کو مخالف سمت میں حرکت دیتے ہیں جس سے ٹخنوں کے جوڑ زیادہ اکڑتے ہیں اور جسمانی توازن بہتر ہوتا ہے۔
مگر ایسا کرنے سے مسلز کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے جس سے تھکاوٹ جلد طاری ہو جاتی ہے جبکہ رفتار بھی سست ہو جاتی ہے۔

Leave a Reply