’ناشتہ بادشاہ کی طرح کرو، دوپہر کا کھانا کسی شہزادے کی طرح اور رات کا کھانا ایک غریب آدمی کی طرح کھاؤ (یعنی کم کھاؤ)۔‘
جب میں نے اپنے ایک ہسپانوی دوست سے اُن کے ملک میں کھانے پینے کی عادات کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے اِس کا جواب کچھ اِن الفاظ میں دیا۔ میرے ہسپانوی دوست ہرش فیلڈ کے مطابق یہ ایک معروف کہاوت ہے جو انھیں بچپن میں سکھائی گئی تھی۔
لیکن سپین میں عام طور پر دوپہر کے وقت لوگ سب سے زیادہ سِیر ہو کر کھاتے ہیں جبکہ رات کا کھانا نسبتاً ہلکا پُھلکا ہوتا ہے۔
ہرش فیلڈ کہتے ہیں کہ ’کچھ لوگ تو رات کا کھانا بالکل ہی نہیں کھاتے یا پھر صرف کوئی ایک پھل اور دہی کھانے پر اکتفا کرتے ہیں۔‘
دوسری جانب برطانیہ اور امریکہ میں اس کے برعکس دوپہر کا کھانا عام طور پر ہلکا جبکہ رات کے کھانا پر نسبتاً زیادہ دھیان دیا جاتا ہے۔
لیکن ایسا عین ممکن ہے کہ شاید ہمارا روزمرہ کا کھانے کا معمول غلط ہو۔ یہ دعویٰ ایک نسبتاً نئے سائنسی شعبے ’کرونو نیوٹریشن‘ سے سامنے آ رہا ہے۔ سائنس کے اِس شعبے کے مطابق صحتمند غذا کا تعلق صرف اس بات سے نہیں کہ ہم کیا کھاتے ہیں بلکہ اس بات سے بھی ہے کہ ہم کب کھاتے ہیں۔
موٹاپے میں کمی سے لے کر دل کی بیماریوں سے بچاؤ تک کے متعلق کی جانے والی متعدد تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ہمارے جسم کی اندرونی گھڑی، جسے ہم ’سرکیڈین رِدھم‘ بھی کہتے ہیں، خوراک کو ہضم کرنے طریقے اور مجموعی صحت پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ماہرین اب اس بات پر بھی توجہ دینے کا مشورہ دیتے ہیں کہ آپ کھانا کس وقت کھاتے ہیں۔

Leave a Reply