پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں امن وامان کی خراب صورتحال پر مسلط نام نہاد صوبائی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ضلع پشین کے علاقے سرانان، سمیت قلعہ عبداللہ ، چمن ، زیارت ، سنجاوی، ہرنائی ، کوئٹہ میں سرعام مسلح سرکاری جتوں کی کارروائیوں کے واقعات کی پارٹی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور ان واقعات سے مسلط نام نہاد اور فارم47کی حکومت خود کو بری الذمہ نہیں کرسکتی۔ یہ واقعات نہ صرف امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالیہ نشان ہیں بلکہ ان سے عوام میں شدید خوف و ہراس پھیل رہا ہے اور شہری خود کو اپنے ہی گھروں میں غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔پولیس تھانوں کو نذرِ آتش کرنے کے واقعات نہ صرف قابلِمذمت ہیں بلکہ صوبے کی اپنی فورسز پہلے مرحلے میں لیویز فورس کو پولیس میں ضم کیا گیا اور اب لیویز وپولیس فورس دونوں کو نشانہ بنایا جارہے اور روزانہ کی بنیاد پر واقعات رونماءہورہے ہیں جن میں فورسز اور غریب بے گناہ نہتے انسان لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے بالخصوص جنوبی پشتونخوا کے تمام اضلاع میں اس وقت بدامنی کی لہر موجود ہے ، سرعام مسلح افراد اور جتوں کا قانون کو ہاتھ میں لینا، سرکاری املاک کو نشانہ بنانا اور پولیس تھانوں پر حملے کرنا ریاستی رٹ اور قانون کی بالادستی کے لیے انتہائی خطرناک صورتحال ہے۔

Leave a Reply