گرینڈ الائنس کے مرکزی آرگنائزر پروفیسر عبد القدوس کاکڑ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ میں پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے اور صوبائی آفس سیکریٹری ندا سنگر سے تفصیلی اور اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں صوبے کی مجموعی سیاسی و انتظامی صورتحال، ملازمین کی جاری احتجاجی تحریک، حکومت کے غیر سنجیدہ طرزِ عمل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ حکومتی رویے پر نہایت سخت اور واضح مو¿قف اختیار کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وفد اور پارٹی قیادت کے درمیان صوبے میں جاری ملازمین کی تحریک، حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات، مطالبات کی عدم منظوری اور مسلسل غیر سنجیدگی پر مبنی طرزِ عمل پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ وفد نے ملازمین کو درپیش سنگین مسائل، ان کے دیرینہ مطالبات، تنخواہوں اور مراعات کے معاملات، سروس اسٹرکچر، الاونسز اور حکومتی وعدہ خلافیوں کو تفصیل کے ساتھ اجاگر کرتے ہوئے واضح کیا کہ اب مزید تاخیری حربے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوں گے۔ اس موقع پر نصراللہ خان زیرے نے انتہائی سخت لہجے میں کہا کہ ملازمین کسی بھی ریاستی ڈھانچے کی بنیاد، انتظامی نظام کی روح اور حکومتی مشینری کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں، مگر بدقسمتی سے میں انہی ملازمین کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے آل پارٹیز کمیٹی کے پلیٹ فارم پر گرینڈ الائنس کے ساتھ جو واضح وعدے، یقین دہانیاں اور معاہدے کیے تھے، ان پر عملدرآمد نہ کرنا حکومتی سنجیدگی، نیت اور صلاحیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کے مسائل محض چند افراد یا محکموں کے مسائل نہیں بلکہ یہ پورے صوبے کے انتظامی، تعلیمی، طبی اور ترقیاتی نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب ملازمین ذہنی دباو¿، معاشی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوں تو اس کے اثرات براہِ راست عوامی خدمات پر پڑتے ہیں۔ لہٰذا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔

Leave a Reply