کالم:وجیہ احمد صدیقی
کیا عالمی تباہی کا دروازہ کھل گیا؟ 12 اپریل 2026 کی رات اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں 21 گھنٹے تک چلنے والے سنسنی خیز اور انتہائی تناوبھرے مذاکرات اچانک ختم ہو گئے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس واپس امریکا پرواز کرگئے، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ”امریکا نے اعتماد نہیں جیتا“ کا بیان دے کر میز توڑ دی۔ نتیجہ؟ آبنائے ہرمز پر امریکی بحریہ کی فوری بندش، تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونا شروع ہوگئیں، اور خطے میں جنگ کی آگ دوبارہ بھڑکنے کا شدید خطرہ! پیدا ہوگیا۔ فروری 2026 سے جاری اس خونریز جنگ نے ہزاروں جانیں لے لی ہیں۔ اب جنگ بندی صرف دو ہفتوں کی ہی ہے اور 22 اپریل کے قریب ختم ہونے والی ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی یہ تاریخی ملاقات پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن گئی تھی۔ مگر جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ”ایران نے ہماری حتمی اور بہترین پیشکش مسترد کر دی“ تو فضا میں دھماکے کی سی آواز گونج اٹھی۔ نائب صدر وینس نے واضح الفاظ میں کہا: ”ہم نے ریڈ لائنز واضح کر دی تھیں۔ ایران نے ہماری شرائط ماننے کا انتخاب نہیں کیا۔ یہ ایران کے لیے بری خبر ہے!“ امریکا کی شرائط انتہائی سخت اور واضح تھیں: ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا واضح اور حتمی عہد کرے۔ یورینیم کی افزودگی کا پورا پروگرام فوری طور پر ختم کر دے۔ موجودہ تقریباً 900 پونڈ افزودہ یورینیم کا مکمل ذخیرہ حوالے کر دے۔ آبنائے ہرمز پر عالمی جہاز رانی کی مکمل آزادی کو تسلیم کرے اور کوئی بھی ”ٹول“ یا رکاوٹ نہ ڈالے۔ لبنان، یمن اور دیگر مزاحمتی محاذوں پر فوری اور غیر مشروط جنگ بندی تسلیم کرے۔
امریکا کا موقف تھا کہ یہ “final and best offer” ہے۔ وینس نے کہا کہ امریکا ”بہت لچکدار“ اور ”اچھی نیت“ سے آیا تھا، مگر ایران نے ان شرائط کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ نتیجتاً وینس فوری طور پر واپس ہو گئے اور صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کا مکمل بحری حصار بنانے کا حکم دے دیاہے۔ اگرچہ پہلے بھی امریکا نے یہ حصار بنایا تھا جو کامیاب نہیں رہا اب بھی اس کی کامیابی کے امکانات کم ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ اب ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو روکے گی، زیر آب مائنز صاف کرے گی اور کسی ایرانی حملے پر “BLOWN TO HELL” کا جواب دے گی۔ اس صورتحال کے نتیجے میں تیل کی عالمی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
ایران نے الزام لگایا کہ بات چیت امریکی حکام کا بہت زیادہ اور انتہا پسندانہ مطالبات وجہ سے ناکام ہوئی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا: ”امریکا میز پر وہ حاصل کرنا چاہتا تھا جو جنگ میں نہ حاصل کر سکا۔ یہ غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے!“ قالیباف نے کہا کہ امریکا نے ایران پر اعتماد ہی نہیں کیا وہ اس عمل میں مکمل ناکام رہا۔ ایران کی شرائط بھی انتہائی سخت اور واضح تھیں: آبنائے ہرمز پر مکمل خودمختاری کا اعتراف (کرپٹو کرنسی میں ٹول کی تجویز)۔ جنگ کے مکمل نقصانات کی تلافی۔ منجمد ایرانی اثاثوں کی فوری بحالی (تقریباً 27 بلین ڈالر)۔ لبنان اور دیگر مزاحمتی محاذوں پر حقیقی اور پائیدار جنگ بندی (صرف عارضی نہیں)۔
ایرانی فوجی ذرائع یعنی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا: ”ڈپلومیسی اور ڈیٹرنس دونوں فعال ہیں۔ ہمارے ہاتھ ٹرگر پر ہیں!“ پریس ٹی وی نے الزام لگایا کہ امریکا کی زیادہ خواہشوں نے نہ صرف بات چیت کا عمل ختم کیا بلکہ عالمی معیشت کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔ جب دو ملکوں کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو فریقین میں اس قسم کی کشیدگی کا ہونا ایک فطری امر ہے۔ ضروری نہیں کہ پہلے مرحلے میں امن مذاکرات کامیاب ہو ہی ہو جائیں، لیکن کوشش کی جاتی ہے اور دونوں فریقوں پر دباو ڈالتے ہیں۔ دیگر ممالک بھی اور دیگر ثالث بھی اس کام میں شامل ہوتے ہیں تاکہ یہ سلسلہ آگے بڑھے۔ مگر بھارت اور پی ٹی آئی ان دونوں کا رویہ نہ صرف پاکستان دشمنی ہے بلکہ انسان دشمنی بھی ہے۔ ساری دنیا اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار ہے بلکہ توانائی کا بحران سنگین تر ہوتا جا رہا ہے ایسے موقع پر پاکستان کو کو ناکام قرار دینا اس کی اس کوشش کا مذاق ا±ڑانا اور اس کے حوالے سے منفی گفتگو کرنا بڑی زیادتی ہے۔ یہاں پر میں پاکستان کے اندر بیٹھے ہوئے چند کینہ پرور قسم کے مسخرے یوٹیوبرز کا بھی محاسبہ چاہوں گا کہ کھوسہ نامی ایک مسخرے نے پاکستان کی ثالثی کا جس طرح مذاق ا±ڑایا اس کو بھارت میں پسند کیا گیا۔ یہ ایک انتہائی شرمناک بات تھی اسی طریقے سے آفتاب اقبال نے پاکستان کی اس کوششوں کا مذاق ا±ڑایا یہ بھی نہایت شرمناک بات تھی آفتاب اقبال تو پہلے ہی پاکستانی پنجاب کو بھارت میں شامل کرنے کے لیے سانجھا پنجاب کی تحریک چلا رہے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارتی میڈیا اور تحریک انصاف کے بیرون اور اندرون ملک بیٹھے لوگ اسے پاکستان کی ”شرمناک ناکامی“ کیوں قرار دے رہے ہیں؟ ری پبلک، انڈیا ٹوڈے اور ٹائمز آف انڈیا نے فوراً شور مچا دیا: “Pakistan’s mediation collapsed!”, “Pak fails again!”۔ بھارتی کانگریسی لیڈرز نے مودی حکومت پر تنقید کی کہ ”وشو گرو“ بننے والا بھارت کیوں خاموش رہا جبکہ پاکستان عالمی ثالث بن گیا۔ پی ٹی آئی کے بیرون اور اندرون ملک حامیوں نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا: ”پاکستان کی امریکی غلامی ناکام ہو گئی“، ”فوج نے ملک کی ساکھ داو? پر لگا دی“۔
جب پوری دنیا۔ چین، روس، سعودی عرب، حتیٰ کہ امریکا اور ایران پاکستان کا شکریہ ادا کر رہے ہیں، تو بھارت اور پی ٹی آئی دونوں نے انصاف سے کام نہیں لیا۔ ان کا مقصد امن کی کوشش کو سراہنا نہیں بلکہ پاکستان کو نیچا دکھانا تھا۔ افسوس کی بات ہے کہ جب امن کی کوششیں کی جاتی ہیں تو ان کا مقصد ”کامیابی یا ناکامی“ نہیں ہوتا۔ مقصد ہوتا ہے جنگ کی آگ کو ٹالنا، اور انسانی جانوں کو بچانا۔ پاکستان نے جو کیا وہ عالمی سفارت کاری کی تاریخ میں سنگ میل ہے۔ ایک معاشی دباو والا ملک ایک سپر پاور اور ایک برادر ملک کو ایک میز پر بٹھا سکا! بھارت اپنے ملک میں توانائی کی صورتحال کو دیکھے تو اسے اس معاملے میں پاکستان کی مدد کرنی چاہیے تھی۔ پاکستان کی کوششوں کو سراہنا چاہیے تھا۔ کیونکہ اس کے نتیجے میں اگر یہ کوششیں کامیاب ہو جاتی تو بھارت میں گیس سلنڈر گیس سے بھر جاتے، لوگوں کے گھروں کے چولہے جل جاتے اور دنیا اور دنیا کی رسائی ایران کے تیل اور گیس تک ہو جاتی ایک عرصے سے یہ سلسلہ رکا ہوا تھا۔ لیکن ان لوگوں نے صرف حسد اور جلن کی وجہ سے پاکستان کی مخالفت کی ہے۔
میرے تجزیے اور نقطہ نظر کے مطابق ایران کو اس موقع پر کچھ لچک دکھانی چاہیے تھی۔ لیکن اپنا فیصلہ کرنے میں ایران آزاد ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ موجودہ جنگ آبنائے ہرمز اور ایرانی تیل کے بے پناہ ذخائر پر قبضے کی جنگ ہے۔
اگر ایران کچھ عرصے کے لیے اپنے ایٹمی پروگرام سے ”ہٹ کر“ کام کرتا، ابھی جنگ سے گریز کر کے، شرائط مان کر ہرمز پر اپنا قبضہ برقرار رکھتے ہوئے ایران اپنے تیل کی تجارت کو عالمی سطح پر آزادانہ کر سکتا تھا۔ امریکا، وینزویلا، روس، سب تیل کی سپلائی کر سکتے ہیں۔ مگر اگر ایران ڈٹا رہا تو دنیا اس کی زیادہ مخالف ہو سکتی ہے۔ سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ کے تیل پر قبضہ کر لے اور پھر معاملہ پچھتاوے کی طرف چلا جائے۔ پاکستان کی ثالثی کے باوجود یہ کوشش ناکام نہیں تھی۔ اس نے جنگ کو روکا، وقت دیا اور عالمی توجہ پاکستان کی طرف مبذول کی۔
اس قلیل مدت میں تیل کی قیمتیں آسمان چھوئیں گی، سیز فائر ٹوٹ سکتا ہے، بلاک ایڈ شروع ہو گا اور علاقائی تناﺅ بڑھے گا۔ درمیانی مدت میں پاکستان، چین یا روس کی ثالثی سے دوبارہ بات چیت ممکن ہے۔ طویل مدت میں اگر ایران اپنی ریڈ لائنز پر ڈٹا رہا تو خونریز علاقائی جنگ بڑھ سکتی ہے۔ لیکن ایران نے اگر لچک دکھائی تو مستقل امن کا راستہ کھل سکتا ہے۔ مگر امریکا کو بھی ایران کی شرائط تسلیم کرنا ہوں گی اور صرف اپنا رعب خطے میں قائم کرنے کے لیے ایسی کڑی شرائط نہ لگائیں جو دوسری قوم کو مزاحمت پر مجبور کر دے۔ آخر میں، یہ پاکستان کی شرمندگی نہیں بلکہ کارنامہ ہی ہے۔ ایک ایسا ملک جو جنگ زدہ خطے میں امن کا پیغام لے کر آیا۔ بھارت اور پی ٹی آئی کو چاہیے کہ پاکستان دشمنی چھوڑ کر حقیقت دیکھیں۔ دنیا امن چاہتی ہے، نہ کہ نفرت اور تباہی۔ پاکستان نے جو کیا وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا – باقی سب سازشیں وقت کی نذر ہو جائیں گی۔ کیا عالمی معیشت اس دھماکے کا شکار ہوگی؟ کیا آبنائے ہرمز خون سے لال ہو جائے گا؟ اگلے چند دن فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔
آبنائے ہرمز پرخونریز جنگ کا خطرہ!
adminshuja
اگلی خبر →
بدلتا عالمی منظر نامہ اور پاکستان
← پچھلی خبر
احتیاط لازم ہے… اعتماد کے ساتھ

Leave a Reply