کالم:وزیر علی جمالی
نائلہ رند، نمرتا کماری، سنیہا کیسوانی، نوشین کاظمی کے بعد اب ایک بار پھر میرپورخاص کے محمدی میڈیکل کالج کی تیسرے سال کی طالبہ فہمیدہ لغاری کے مبینہ خودکشی کے واقعے نے پوری سندھ کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک نوجوان طالبہ، جو اپنی محنت اور جدوجہد سے مستقبل میں ڈاکٹر بننے کے خواب دیکھ رہی تھی، آخر ایسے ذہنی دباو، خوف اور مایو سی کا شکار کیوں ہوئی کہ اسے اپنی زندگی کا چراغ بجھانے جیسا انتہائی قدم اٹھانا پڑا؟ یہ سوال صرف فہمیدہ لغاری کے خاندان کا نہیں بلکہ پورے معاشرے، تعلیمی ادارو ں اور حکومت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والا ہے۔ سندھ میں ویسے تو خواتین اور بچیوں کے ساتھ معاشرے کا رویہ ہمیشہ نامنا سب رہا ہے، لیکن گزشتہ چند برسوں سے خاص طور پر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طالبات کو ہراسانی اور بلیک میلنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے باعث وہ انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے اپنی زندگی ختم کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ میرپورخاص میں بھی پیش آیا ہے، جہاں ایک نجی میڈیکل کالج کی تیسرے سال کی طالبہ فہمیدہ لغاری نے خود پر پستول سے فائر کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ ان کے والد کے مطابق عابد لغاری نامی استاد انہیں ہراساں کرتا تھا۔ فہمیدہ لغاری کی بہن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ”میری بہن نے کہا تھا کہ اگر میں مر جاوں تو میرا کیس لڑنا تاکہ کسی اور بچی کے ساتھ ایسا نہ ہو“۔
سندھ میں جہاں پر پہلے ہی بڑی مشکل اور جدوجہد کے بعد بچیوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ملتی ہے، وہاں اکثر لڑکیاں میٹرک یا انٹر کے بعد گھر بیٹھ جاتی ہیں۔ ایسے میں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طالبات کو ہراساں کرنے اور بلیک میل کرنے کا بڑھتا ہوا رجحان ایک سنگین سماجی، اخلاقی اور تعلیمی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ تعلیم، جو انسانی ترقی کا بنیادی ذریعہ سمجھی جاتی ہے، بعض مقامات پر خوف، دباو اور استحصال کا مرکز بن گئی ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف طالبات کی ذہنی اور جذباتی صحت کو متاثر کیا ہے بلکہ ان کے تعلیمی سفر اور مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ سندھ یونیورسٹی جامشورو کی طالبہ نائلہ رند، آصفہ ڈینٹل کالج لاڑکانہ کی نمرتا کماری اور نوشین کاظمی سمیت کئی طالبات اپنی زندگیوں کا چراغ بجھا چکی ہیں، اور اب تازہ واقعہ میرپورخاص کے ایک نجی میڈیکل کالج کا ہے جہاں فہمیدہ لغاری نے بھی مبینہ طور پر خودکشی کر لی ہے۔ سندھ کے تعلیمی اداروں میں ایسے کئی واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں جہاں طالبات کو اساتذہ، انتظامیہ یا بااثر افراد کی جانب سے ہراساں کیا جاتا ہے۔ جب وہ مزاحمت کرتی ہیں یا انصاف کا مطالبہ کرتی ہیں تو انہیں مختلف طریقوں سے بلیک میل اور ہراساں کیا جاتا ہے، ان کے تعلیمی کیریئر کو تباہ کرنے، کردار پر سوال اٹھانے یا ادارے سے نکالنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ نتیجتاً، بہت سی طالبات یا تو تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہیں یا انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہیں، جن میں خودکشی جیسے افسوسناک واقعات بھی شامل ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے سندھ کے تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے واقعات بڑھ رہے ہیں، جس سے طالبات میں خوف پیدا ہو رہا ہے۔ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو والدین اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے اداروں میں بھیجنے سے بھی ہچکچائیں گے، جو ایک بڑی سماجی اور تعلیمی پسماندگی کا سبب بن سکتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اگر نائلہ رند، نمرتا کماری اور نوشین کاظمی کے مقدمات میں نامزد ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جاتی تو شاید آج فہمیدہ لغاری ایسا قدم نہ اٹھاتی۔ ان واقعات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اکثر لڑکیوں کے خاندان بدنامی کے خوف سے خاموش رہتے ہیں۔ متاثرہ لڑکیاں اور ان کے اہلِ خانہ انصاف کے لیے آگے آنے سے کتراتے ہیں، جس سے معاشرے کے درندہ صفت عناصر کو مزید حوصلہ ملتا ہے اور استحصال کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اگرچہ طالبات کے تحفظ کے لیے قوانین اور پالیسیاں موجود ہیں، جیسے ہراسانی کے خلاف ضابطے اور اداروں میں شکایتی سیل، لیکن افسوس یہ قوانین صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہیں اور ان پر بہت کم عمل ہوتا ہے۔ کئی اداروں میں شکایتی سیل موجود ہی نہیں یا غیر فعال ہیں، اور جہاں ہیں بھی وہاں طالبات ان پر اعتماد نہیں کرتیں کیونکہ شفافیت اور رازداری کا فقدان ہے۔ فہمیدہ لغاری کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بیٹی کی شکایات کے بعد کالج کے پرنسپل سے ملاقات کی اور ہراسانی کرنے والے استاد کے خلاف شکایت بھی کی، مگر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ واقعے کے بعد درج مقدمے میں کالج کے اساتذہ، طلبہ اور انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ الزام ہے کہ فہمیدہ کو نمبروں اور دیگر سہولتوں کے بہانے ناجائز تعلقات پر مجبور کیا جا رہا تھا۔ اگر بروقت کارروائی کی جاتی تو شاید یہ سانحہ پیش نہ آتا۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر طالبہ کی شکایات کو سنجیدگی سے لیا جاتا، شفاف تحقیقات کی جاتیں اور اسے تحفظ فراہم کیا جاتا تو شاید وہ اپنی قیمتی جان نہ گنواتی۔ اسی لیے کئی سماجی رہنما کہتے ہیں کہ ہراسانی کے ذریعے کسی کو اس حد تک مجبور کرنا کہ وہ اپنی جان لے لے، دراصل قتل کے مترادف ہے۔
فہمیدہ لغاری کے جنازے میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا سانحہ بن چکا ہے۔ ہر شخص کے ذہن میں یہی سوال گونج رہا ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے طالبات کو تحفظ کیوں فراہم نہیں کر سکتے؟ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ تعلیمی ادارے صرف تعلیم دینے کے مراکز نہیں بلکہ طلبہ کی شخصیت، اعتماد اور تحفظ کے ضامن بھی ہوتے ہیں۔ اگر ان اداروں میں طالبات خود کو غیر محفوظ محسوس کریں تو یہ پورے نظام کی ناکامی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے حکومت، تعلیمی ادارے، والدین، میڈیا اور سول سوسائٹی سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایسے واقعات کو اجاگر کرنے سے نہ صرف شعور بڑھے گا بلکہ حکام پر دباو? بھی بڑھے گا کہ وہ عملی اقدامات کریں۔ ساتھ ہی متاثرہ افراد کی عزت اور رازداری کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ سندھ کے وزیر اعلیٰ نے اس واقعے کا نوٹس لے کر تحقیقات کا حکم دیا ہے اور پولیس نے بھی انکوائری کمیٹی قائم کی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف نوٹس لینے سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟ ماضی میں بھی کئی کیسز میں یہی ہوا کہ وقت کے ساتھ سب کچھ بھلا دیا گیا۔ اگر اس کیس میں بھی ایسا ہوا تو یہ انصاف کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوگا۔ ہم اس افسوسناک واقعے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کی شفاف اور غیر جانبدار عدالتی تحقیقات کرائی جائیں، ترجیحاً سندھ ہائی کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جائے۔ کالج انتظامیہ کو بھی اس غفلت پر جوابدہ ٹھیرایا جائے۔ اگر کوئی بھی شخص، چاہے استاد ہو، طالب علم ہو یا انتظامیہ کا رکن، ہراسانی میں ملوث ثابت ہو تو اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ دوسروں کے لیے مثال قائم ہو۔ ساتھ ہی تعلیمی اداروں میں مضبوط اور موثر ہراسانی مخالف نظام قائم کیا جائے، جہاں طالبات بلا خوف اپنی شکایات در ج کرا سکیں۔
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ کھل کر بات کریں تاکہ وہ کسی بھی مسئلے کو بلا خوف بیان کر سکیں، اور اساتذہ کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ صرف تعلیم دینے والے نہیں بلکہ طلبہ کے محافظ بھی ہیں۔ فہمیدہ لغاری کا واقعہ ہم سب کے لیے ایک کڑا سبق ہے۔ اگر ہم آج بھی آنکھیں بند کیے بیٹھے رہے تو ایسے واقعات دوبارہ بھی پیش آسکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس صورتحال نے نہ صرف طالبات کی ذہنی اور جذباتی صحت کو متاثر کیا ہے بلکہ ان کے تعلیمی سفر اور مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ سندھ یونیورسٹی جامشو رو کی طالبہ نائلہ رند، آصفہ ڈینٹل کالج لاڑکانہ کی نمرتا کماری اور نوشین کاظمی سمیت کئی طالبات اپنی زندگیوں کا چراغ بجھا چکی ہیں، اور اب تازہ واقعہ میرپورخاص کے ایک نجی میڈیکل کالج کا ہے جہاں فہمیدہ لغاری نے بھی مبینہ طور پر خودکشی کر لی ہے۔ سندھ کے تعلیمی اداروں میں ایسے کئی واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں جہاں طالبات کو اساتذہ، انتظامیہ یا بااثر افراد کی جانب سے ہراساں کیا جاتا ہے۔ جب وہ مزاحمت کرتی ہیں یا انصاف کا مطالبہ کرتی ہیں تو انہیں مختلف طریقوں سے بلیک میل اور ہراساں کیا جاتا ہے، ان کے تعلیمی کیریئر کو تباہ کرنے، کردار پر سوال اٹھانے یا ادارے سے نکالنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں
اعلیٰ تعلیمی ادارے یا بچیوں کے مقتل؟
adminshuja
← پچھلی خبر
بدلتا عالمی منظر نامہ اور پاکستان

Leave a Reply