کالم:محمد حسین محنتی
عالمی سیاست کے موجودہ ہنگامہ خیز ماحول میں بعض قومیں اپنے کردار، حوصلے اور استقلال کے باعث نمایاں ہو کر سامنے آئی ہیں۔ ایران ان ممالک میں سرفہرست دکھائی دیتا ہے، جس نے سخت ترین عالمی دباو، معاشی پابندیوں اور مسلسل عسکری خطرات کے باوجود اپنی خودمختاری، وقار اور مزاحمتی پالیسی کو برقرار رکھا ہے۔ حالیہ برسوں میں پیش آنے والے واقعات نے ایک بار پھر یہ واضح کیا ہے کہ کوئی قوم اگر اپنے نظریے، قیادت اور اجتماعی شعور پر مضبوطی سے قائم ہو تو وہ بڑی سے بڑی طاقت کے سامنے بھی ڈٹ سکتی ہے۔ جون 25 اور اس کے بعد معرکوں میں، ایران نے جس ہمت اور جرآت کا مظاہرہ کیا ہے، اس نے عالمی مبصرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ امریکا اور اسرائیل جیسے جدید ترین عسکری طاقتوں کے سامنے 40 روز تک سینہ سپر رہے اور کسی بھی امریکی دباوو خا طر میں نہیں لائے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر بھی اپنے قومی مفادات کی خاطر کوئی سمجھوتا نہ کرنا، اس بات کی دلیل ہے کہ ایران محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک عظیم نظریاتی اور عملی قوت بن کر ابھرا ہے۔
ایران کی قوت کا اصل سرچشمہ اس کا نظریہ اور اسلامی عقائد ہیں۔ ان کے ہاں دین اسلام محض عبادات تک محدود نہیں بلکہ اجتماعی زندگی، معیشت، سیاست اور دفاع کا بھی محور ہے۔ اللہ تعالیٰ پر توکل، آخرت کی جواب دہی پر یقین اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا جذبہ ان کے معاشرے میں گہرائی سے موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشکلات اور آزمائشیں ان کے حوصلے کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کرتی ہیں۔ اتحاد و یکجہتی ان کی اندرونی مضبوطی کا راز ہے۔ کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کا اتحاد ہوتا ہے۔ ایران نے داخلی سطح پر اختلافات کے باوجود قومی مفاد کے معاملے میں یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ بیرونی خطرات کے وقت ان کی قوم سیاسی، مذہبی اور سماجی تقسیم سے بالاتر ہو کر ایک صف میں کھڑی ہو جاتی ہے۔ یہی اتحاد ان کی بقا اور قوت کا اہم سبب ہے۔استقامت اور صبر ہی آزمائشوں میں کامیابی کا راستہ ہے۔ ایران کی تاریخ استقامت اور صبر سے عبارت ہے۔ طویل جنگوں، پابندیوں اور عالمی دباو کے باوجود انہوں نے پسپائی اختیار نہیں کی۔ ان کا یہ طرزِ عمل ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قومیں وقتی مشکلات سے نہیں بلکہ حوصلہ ہارنے سے شکست کھاتی ہیں۔ ایران نے ہر مشکل کو موقع میں بدلنے کی کوشش کی ہے۔ ایرانی معاشرے میں معرکہ کربلا اور نواسہ رسول سیدنا امام حسینؓکی شہادت نے اس قوم کو یہ سبق دیا ہے کہ ”خون شمشیر پر فتح پالیتا ہے“ شہادت کا یہی شوق اور جذبہ جہاد انہیں موت کے خوف سے آزاد کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بڑی سے بڑی طاقت کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوتے۔ حق کی خاطر اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانا، حق کے لیے قربانی دینا، اور باطل کے سامنے سر نہ جھکانا یہ تمام اقدار ان کے اجتماعی شعور کا حصہ بن چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی ان کے اندر مزاحمت اور قربانی کا جذبہ زندہ رہتا ہے۔
ایرانی قوم میں اپنے نظریے اور وطن کے دفاع کے لیے جذبہ جہاد و شوق شہادت میں جان قربان کرنے کا جذبہ نمایاں ہے۔ ان کے نزدیک شہادت محض موت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ایک عظیم کامیابی ہے۔ یہی تصور انہیں میدانِ عمل میں ثابت قدم رکھتا ہے اور دشمن کے لیے ایک نفسیاتی چیلنج بن جاتا ہے۔ دہائیوں سے لگی پابندیوں کے باوجود ایران نے جس طرح معاشی ترقی کی وہ دنیا کے لیے ایک کیس اسٹڈی ہے۔ انہوں نے ”اقتصاد مزاحمت“ Resistance Economy کا نظریہ اپنایا جس کے تحت اپنی مقامی صنعتوں کو فروغ دیا اور بیرونی امداد کے بجائے خود انحصاری پر توجہ دی۔ اجناس کی پیداوار سے لے کر نینو ٹیکنالوجی تک، ایران نے ثابت کر دیا کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو پابندیاں ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ نئی راہیں کھولنے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ ایران پر طویل عرصے سے سخت معاشی پابندیاں عائد ہیں، اس کے باوجود انہوں نے خود انحصاری کی پالیسی اپنائی۔ مقامی صنعتوں کو فروغ دیا، سائنسی تحقیق پر توجہ دی اور زراعت و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پیش رفت کی۔ انہوں نے درآمدات پر انحصار کم کر کے اپنی معیشت کو داخلی بنیادوں پر مضبوط بنانے کی کوشش کی، جو دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی ایک سبق ہے۔
ایران نے اپنی عسکری اور جنگی تیاریاں محض روایتی اسلحہ تک محدود نہیں رکھیں بلکہ انہوں نے ڈرون ٹیکنالوجی، میزائل پروگرام اور سائبر وار فیئر میں وہ مقام حاصل کرلیا ہے جس کا اعتراف خود دشمن بھی کرتا ہے۔ ایٹمی سائنسدانوں، فوجی جنرلوں اور سیاسی قائدین کی شہادتوں نے ان کی تحریک کو کمزور کرنے کے بجائے مزید جلا بخشی ہے۔ ایک لیڈر گرتا ہے تو اس کا پرچم تھامنے کی لیے سیکڑوں مزید تیار کھڑے ہوتے ہیں جدید میزائل سسٹمز، دفاعی ٹیکنالوجی اور مقامی اسلحہ سازی نے انہیں ایک مضبوط عسکری قوت میں تبدیل کیا ہے۔ ان کی حکمت عملی روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ غیر روایتی انداز پر بھی مشتمل ہے، جو بڑی طاقتوں کے لیے ایک چیلنج بن جاتی ہے۔ ایران کی اعلیٰ قیادت، خصوصاً آیت اللہ علی خامنہ ای، نے مشکل حالات میں قوم کی رہنمائی کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ ایٹمی سائنسدانوں، فوجی جنرلوں اور سیاسی رہنماوں کی شہادتوں کے باوجود قوم کا حوصلہ پست نہیں ہوا بلکہ مزید مضبوط ہوا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ان کے ہاں افراد نہیں بلکہ نظریہ زندہ ہوتا ہے۔
آبنائے ہرمز جیسے حساس سمندری راستے پر کنٹرول اور عالمی تیل کی سپلائی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت نے ایران کے ہاتھوں میں ترپ کا پتا دے دیا ہے۔ اسی وجہ سے ایران نے پوری دنیا کی معیشت کو تلپٹ کرکے رکھ دیا ہے۔ اس کو کھولنے کے لیے امریکا نے اپنی پوری جنگی اور عسکری قوت کو داو پر لگایا ہوا ہے۔ اس وقت اس جنگ کا فیصلہ آبنائے ہرمز پر ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تہذیب کو نیست و نابود کرنے کی سخت دھمکیاں ہوں یا حالیہ امریکی اسرائیلی حملے ہوں، ایران نے ہمیشہ ”اینٹ کاجواب پتھر سے دینے“ کی پالیسی اپنائی انہوں نے ثابت کیا کہ وہ نہ تو دھمکیوں میں آتے ہیں اور نہ ہی مذاکرات کی میز پر اپنا وقار نیلام کرتے ہیں۔ اپنی تہذیب و ثقافت اور قومی غیرت پر پہرہ دیتے ہوئے یہ پیغام دیا ہے کہ ایک غیرت مند قوم کبھی غلامی قبول نہیں کرتی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نفرت آمیز بیانات کے باوجود ایران نے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا۔ یہ رویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قومی وقار اور خودمختاری ان کے لیے محض نعرہ نہیں بلکہ عملی پالیسی ہے۔ ایران کا تجربہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اگر کسی قوم کے پاس مضبوط عقیدہ، متحد و مخلص قیادت، خود انحصاری کی معیشت اور قربانی کا جذبہ موجود ہو تو وہ بڑے سے بڑے چیلنجز کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات مختلف ہوتے ہیں، لیکن ایران کی استقامت، خود اعتمادی اور نظریاتی وابستگی پر غور و فکر ہمارے لیے کا ایک اہم نکتہ ہے۔
ہمارا ملک پاکستان ایک بڑا اسلامی ایٹمی ملک ہے جو اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے۔ پاکستانی بھی ایک عظیم زندہ قوم ہے۔ کرپشن، بگڑی ہوئی معیشت، نااہل و غیر ذمے دار بیوروکریسی و انتظامیہ اور مفاد پرست سیاست دانوں کی تطہیر و اصلاح پر فوری اور مکمل توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔ نیک، صالح اور ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ رکھنے والی قیادت کو منتخب کرکے انقلابی اصلاحات کا فوری آغاز کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو اسلام کا ایک بابرکت عادلانہ نظام عطا فرمائے اور ہماری نصرت فرمائے۔ اللہ تعالیٰ بکھری ہوئی مسلم امہ میں اتحاد عطا فرمائے۔ دین اسلام محض عبادات تک محدود نہیں بلکہ اجتماعی زندگی، معیشت، سیاست اور دفاع کا بھی محور ہے۔ اللہ تعالیٰ پر توکل، آخرت کی جواب دہی پر یقین اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا جذبہ ان کے معاشرے میں گہرائی سے موجود ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مشکلات اور آزمائشیں ان کے حوصلے کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کرتی ہیں۔ اتحاد و یکجہتی ان کی اندرونی مضبوطی کا راز ہے۔ کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کا اتحاد ہوتا ہے۔ ایران نے داخلی سطح پر اختلافات کے باوجود قومی مفاد کے معاملے میں یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ بیرونی خطرات کے وقت ان کی قوم سیاسی، مذہبی اور سماجی تقسیم سے بالاتر ہو کر ایک صف میں کھڑی ہو جاتی ہے۔ یہی اتحاد ان کی بقا اور قوت کا اہم سبب ہے۔استقامت اور صبر ہی آزمائشوں میں کامیابی کا راستہ ہے۔ ایران کی تاریخ استقامت اور صبر سے عبارت ہے۔ طویل جنگوں، پابندیوں اور عالمی دباو کے باوجود انہوں نے پسپائی اختیار نہیں کی۔ ان کا یہ طرزِ عمل ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قومیں وقتی مشکلات سے نہیں بلکہ حوصلہ ہارنے سے شکست کھاتی ہیں۔آمین
ایران: استقامت اتحاد و شوق شہادت سے بھرپور ایک عظیم قوم
adminshuja
اگلی خبر →
دروازہ بند نہیں
← پچھلی خبر
مذاکرات کی نئی بیٹھک

Leave a Reply