کراچی میں ٹرانسپورٹ کا میگا منصوبہ بی آر ٹی ریڈ لائن ایک بار پھر مسائل کا شکار ہے، لاٹ ٹو کے کام کی رفتار اور معیار پر ایشیائی ترقیاتی بینک کے اعتراضات کے بعد ٹرانس کراچی نے لاٹ ٹو کے کنٹریکٹر سے معاہدہ ختم کرکے دفتر سیل کردیا۔
کراچی میں غیرمعمولی تاخیر کا شکار بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گیا۔
گزشتہ ہفتے جیو نیوز نے لاٹ ٹو کے مسائل اور کام کی رفتار متاثر ہونے پر ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کی خبر نشر کی تھی۔
آج گلشن اقبال میں لاٹ ٹو کا دفتر سیل کیے جانے کے موقع پر متعلقہ حکام نے ابتدائی طور پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔بعد ازاں ٹرانس کراچی کی جانب سے جاری اعلامیے میں صورت حال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا کہ لاٹ ٹو میں مسلسل تاخیر اور غیر تسلی بخش کارکردگی کے باعث کنٹریکٹ ختم کردیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک کے وفد نےکنٹریکٹر کی کارکردگی، کام کی رفتار، صحت و تحفظ اور ماحولیاتی معیار پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
ٹرانس کراچی کا کہنا ہےکہ لاٹ ٹو میں ترقیاتی کام مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اتر رہا تھا جب کہ معاہدے کے خاتمے کے لیے باضابطہ کارروائی جاری ہے۔
کراچی میں 50 کروڑ ڈالر کا میگا منصوبہ بی آر ٹی ریڈ لائن 2022 میں شروع ہوا تھا جسے 2025 میں مکمل ہونا تھا، بعد ازاں اس کی ڈیڈلائن بڑھا کر 2026 کر دی گئی، تاہم موجودہ رفتار اور مسائل کو دیکھتے ہوئے منصوبہ جلد مکمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

Leave a Reply