کالم:شاہنواز فاروقی
اقبال نے مدرسہ اور خانقاہ پر چار ہولناک مگر بالکل درست اعتراضات کیے ہیں۔ اقبال نے کہا ہے۔
ا±ٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناک
نہ زندگی، نہ محبت، نہ معرفت، نہ نگاہ
اقبال کے زمانے میں مدرسے اور خانقاہ کے حالات آج کی طرح خراب نہیں تھے۔ ان دونوں اداروں نے اقبال کے زمانے میں بڑے عالم اور صوفی پیدا کیے۔ مگر ہمارے زمانے تک آتے آتے مدرسے اور خانقاہ کا حال ابتر ہوچکا ہے۔ خانقاہ تو گویا ہمارے زمانے میں ہے ہی نہیں۔ البتہ ملک میں 50 ہزار سے بھی زیادہ مدارس ہیں مگر ان کا حال ابتر ہے۔ ہمیں مدارس کے اساتذہ اور طلبہ سے ملتے ہوئے اب 30 سال ہوگئے ہیں۔ ہمیں مدرسے کا کوئی استاد ملتا ہے تو ہم اس سے پوچھتے ہیں کہ کیا آپ کے یہاں تخصص کے طلبہ میں سے کسی نے قرآن کے کسی موضوع پر کوئی مقالہ یا کتاب لکھی ہے؟ حدیث کی روایت پر کوئی قابل ذکر علمی کام کیا ہے؟ سیرتِ طیبہ پر کوئی کتاب تحریر کی ہے؟ ان کا جواب ہوتا ہے نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے دینی مدارس علم دین کو حاصل تو کررہے ہیں مگر وہ اس علم میں معمولی سا اضافہ بھی نہیں کررہے ہیں۔ جس طرح ہمارے جدید اردو اور انگریزی اسکول، کالج اور جامعات رٹو توتے پیدا کررہے ہیں اسی طرح ہمارے مدارس بھی رٹو توتوں کی فوج پیدا کررہے ہیں۔ بلاشبہ دینی علوم کو رٹنا بھی اہم ہے کیونکہ اس طرح ان علوم کی ایک نسل سے دوسری نسل تک ترسیل ممکن ہوجاتی ہے۔ مگر اصل بات نئے علم کی تخلیق ہے اور ”نیا علم“ نہ جدید تعلیمی اداروں سے پیدا ہورہا ہے نہ قدیم اداروں سے جنم لے رہا ہے۔
تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کی علمی اور تخلیقی صلاحیتوں کی نشوونما میں چار عناصر کی اہمیت بنیادی ہے۔
(1) زبان، (2) ماحول، (3) مطالعہ، (4) استاد
بدقسمتی سے ہمارے زمانے تک آتے ہمارے طلبہ کو کوئی زبان نہیں آتی۔ اپنی مادری زبان بھی نہیں۔ جن لوگوں کی مادری زبان اردو ہے انہیں اردو نہیں آتی۔ جن لوگوں کا ذریعہ تعلیم پہلی جماعت سے انگریزی ہوتا ہے انہیں انگریزی نہیں آتی۔ امریکا اور یورپ میں ایسے چیمپئنزیز موجود ہیں جو تصویروں کی مدد سے 800 الفاظ کو پہچان لیتے ہیں۔ لیکن ہمارے یہاں ایم اے کی سطح کے طلبہ کا ذخیرہ الفاظ بھی 800 الفاظ سے کم ہوتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ ہماری نئی نسل کے اکثر لوگوں کا ذخیرہ الفاظ بندروں سے بھی کم ہوتا ہے۔ اتنے کم ذخیرہ الفاظ میں عام گفتگو یا عام علمی کام تو ہوسکتا ہے مگر اس ذخیرہ الفاظ سے کوئی علمی گفتگو یا کوئی بڑا علمی اور تخلیقی کام نہیں ہوسکتا۔
ہمیں بچپن میں دس بارہ سال تک گھر سے باہر جا کر کھیلنے کی اجازت نہیں تھی چنانچہ ہمارا بچپن گھر پر گزرا۔ اس کا فائدہ یہ ہوگیا کہ ہم زیادہ سے زیادہ بڑوں کی صحبت میں رہے۔ اس صحبت کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ہم نے بڑوں کی زبان سیکھ لی اور ہمارا ذخیرہ? الفاظ دس سال کی عمر میں بھی 500 الفاظ سے زیادہ ہوگیا۔ ہمارے بڑے ماموں سید نفیس حسن کو عالم اسلام بالخصوص پاکستان اور ہندوستان کی سیاست سے گہری دلچسپی تھی۔ چنانچہ وہ روز شام سے رات تک ریڈیو پر خبروں کی تین بلیٹن سنتے تھے۔ پہلے وہ بی بی سی اردو سروس کا سیربین سنتے تھے۔ رات 8 بجے وہ ریڈیو پاکستان سے خبریں ملاحظہ کرتے تھے اور اس کے بعد رات ساڑ ھے آٹھ بجے وہ آکاش وانی سے خبریں سماعت کرتے تھے۔ وہ ریڈیو بلند آواز سے سنتے۔ چنانچہ یہ ساری خبریں ہم سمیت پورا گھر سنتا تھا۔ اس تجربے سے ہم بچپن ہی سے سیاست میں دلچسپی لینے لگے۔ ہمیں معلوم ہوگیا تھا کہ مسلمانوں کے ایک ہیرو شاہ فیصل ہیں۔ دوسرا ہیرو یاسر عرفات ہے۔ تیسرا ہیرو ذوالفقار علی بھٹو ہے۔ ہمارے ماموں کی وجہ سے ہمارے گھر میں تین اخبار آتے تھے۔ چنانچہ ہمیں بچپن ہی سے اخبار پڑھنے کی عادت ہوگئی۔ یہ بات ہمارے محلے کے بزرگوں کے ایک گروپ کو بھی معلوم ہوگئی۔ چنانچہ انہیں کوئی اخبار پڑھنے والا نہ ملتا تو وہ ہمیں بلا کر اخبار سنانے کے لیے کہتے۔ ہمارے بڑے ماموں اور بڑی ممانی کہانیوں کی چلتی پھرتی کان تھے۔ انہیں بادشاہوں، پریوں اور جنوں کی درجنوں کہانیاں یاد تھیں۔ ہم رات کا کھانا کھالیتے تو ماموں اور ممانی سے کہانیاں سنتے۔ کہانیوں سے جہاں ہماری زبان مزید بہتر ہوئی وہیں ہمارے تخیل کو بھی پر لگ گئے۔ ہم آٹھ سال کے ہوئے تو ہماری خالہ امی رئیسہ خاتون نے ہمیں آٹھ دس قصص الانبیا خرید دیے۔ ہم اسکول سے آکر ان میں سے کوئی قصہ اٹھالیتے اور گھنٹوں پڑھتے رہتے۔ اس طرح ہمارے ماحول نے کتب بینی کو بھی ہماری عادت بنادیا۔ ہمارے گھر میں قصہ چار درویش بھی موجود تھی۔ ہفتے میں ایک دوبار ایسا ہوتا کہ ہماری ماموں زاد بہن آپا قیصر پورے گھر کو قصہ چار درویش کا کوئی حصہ سناتیں۔ ہم میٹرک میں آئے تو ہم نہ صرف یہ کہ جسارت اور انگریزی اخبار ڈان کی خبریں پڑھنے لگے بلکہ ان کے کالموں کا بھی مطالعہ کرنے لگے۔ اس وقت تک ہماری 27 کتب شائع ہوچکی ہیں۔ ان میں سے ایک چیز بھی ایسی نہیں جس پر ہمارے بچپن کی ماحول اور تجربات کی چھاپ نہ ہو۔
بدقسمتی سے ہمارے میٹرک کرنے کے زمانے تک آتے آتے اسکول، کالج اور یونیورسٹی سے ”استاد“ غائب ہوچکا تھا۔ ہم نے اشاعت القرآن گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول ناظم آباد نمبر 5 سے میٹرک کیا۔ مگر اسکول میں ایک بھی قابل استاد موجود نہیں تھا۔ چنانچہ اسکول کا ہر دن اداس اور بور کرنے والا ہوتا تھا۔ اسکول کا حال یہ تھا کہ میٹرک میں چھے ماہ تک ہمیں ریاضی پڑھانے والا استاد ہی موجود نہیں تھا۔ چھے ماہ بعد اسکول نے ریاضی پڑھانے والے ایک استاد کا تقرر کیا تو وہ پشتون تھے اور انہیں اردو بولنی نہیں آتی تھی۔ چنانچہ ان کی کوئی بات بھی ہمیں سمجھ میں نہ آتی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ طلبہ نے ریاضی کے استاد کی کلاس کا بائیکاٹ کردیا۔ ہمارا میٹرک کا رزلٹ آیا تو ہم 69.9 فی صد نمبروں سے کامیاب ہوگئے تھے۔ ہم اسکول سے اپنی مارکس شیٹ لے کر جارہے تھے تو سر عمر نے ہمیں روک لیا۔ کہنے لگے ذرا اپنی مارکس شیٹ تو دکھاﺅ۔ ہم نے مارکس شیٹ ان کے حوالے کردی۔ مارکس شیٹ دیکھ کر کہنے لگے۔ آپ کی شاندار کامیابی صرف آپ کی محنت کا حاصل ہے اس میں اسکول کا کوئی کردار نہیں۔
انٹر ہم نے گورنمنٹ پریمیئر کالج ناظم آباد نمبر 2 سے کیا۔ اس زمانے تک آتے آتے ہمارا مطالعہ وسیع ہوچکا تھا اور اب ہم سلیم احمد کے کالم، ان کی تنقید اور شاعری بھی پڑھنے اور سمجھنے لگے تھے۔ سلیم احمد کا شعری مجموعی اکائی آیا تو ہر طرف اس کا چرچا ہونے لگا۔ ہم نے بھی یہ مجموعہ خریدا اور ایک ہی رات میں پڑھ ڈالا مگر اس کی ایک نظم چاند پر نہ جاﺅ ہماری سمجھ میں نہ آئی۔ ہم یہ نظم لے کر اپنے کالج کے استاد کے پاس پہنچے۔ وہ نظم دیکھ کر کہنے لگے کہ تم کل آﺅ۔ ہم اگلے دن ان کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ سلیم احمد جدید نظم کے آدمی ہیں ان کی یہ نظم علامتی ہے اور میری سمجھ میں یہ نظم نہیں آئی۔ ہم حیران رہ گئے۔ جو شخص 20 سال سے اردو پڑھا رہا تھا اسے سلیم احمد کی ایک نظم سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔
ہم انٹر کے دوسرے سال میں آئے تو ہمارے کالج نے ایک میگزین کی اشاعت کا اعلان کیا۔ ہمارے دوست اور کلاس فیلو عمران نے کہا تم بھی تو شاعر ہو اپنی دو چار غزلیں میگزین میں اشاعت کے لیے دو۔ ہم اگلے دن دو غزلیں اور ایک ملّی نظم لے کر میگزین کے انچارج سر سعید کے پاس گئے۔ ہماری غزلیں پڑھ کر کہنے لگے ایسی غزلیں تو بڑے بڑے شاعروں کے پاس نہیں ہوتیں تم نے یقینا کہیں سے چرائی ہوں گی۔ ہم نے کہا نہیں سر یہ ہماری ہی غزلیں ہیں۔ کہنے لگے اچھا یہ بتاﺅ ان غزلوں میں ردیف کون سا لفظ ہے اور قافیہ کون سا لفظ ہے۔ ہم اس وقت تک مشتعل ہوچکے تھے چنانچہ ہم نے اپنی غزلیں ان کی میز سے اٹھاتے ہوئے کہا سر یہ تو مجھے پتا نہیں، کہنے لگے اسی لیے میں کہہ رہا ہوں یہ چرائی ہوئی غزلیں ہیں۔بدقسمتی سے یونیورسٹی میں بھی کہیں کوئی ”استاد“ موجود نہیں تھا۔ ہم نے ایم اے میں سلیم احمد کی کالم نویسی پر دو سو صفحات پر مشتمل ایک تحقیقی مقالہ لکھا۔ اس مقالے میں سلیم احمد کے 750 کالموں کا تجزیہ تھا۔ جامعہ کراچی کا شعبہ ابلاغ عامہ 1957ئ سے کام کررہا تھا اور 1990ئ تک اس میں کسی بھی طالب علم نے کوئی تحقیقی مقالہ نہیں لکھا تھا۔ ہمارا مقالہ شعبے کی تاریخ کا پہلا مقالہ تھا مگر ہمیں اس مقالے پر ہمارے استاد نثار زبیری صاحب نے صرف 75 نمبر دیے۔ ہم نے کم نمبروں کی شکایت کی تو کہنے لگے آپ نے اپنے مقالے میں سلیم احمد کو فرشتہ بنادیا ہے۔ صرف انہیں پَر نہیں لگائے۔ ہم نے کہا آپ دو سو صفحے کے مقالے کی ایک سطر ایسی نکال کر دکھائیے جس کی ”دلیل“ ہم نے مقالے میں پیش نہ کی ہو۔ ایم اے کے دوسرے سمسٹر میں ہم نے ممتاز محقق اور کالم نگار مشفق خواجہ کی کالم نویسی پر مقالہ لکھا۔ اس مقالے میں ہم نے مشفق خواجہ کے 450 کالموں کا تجزیہ کیا۔ یہ مقالہ ہم نے میڈم شاہدہ مرزا کی نگرانی میں لکھا۔ اس مقالے پر بھی ہمیں 75 نمبر ملے۔ ہم نے شکایت کی تو میڈم شاہدہ مرزا نے جواب دیا کہ اگر تمہارا یہ مقالہ بھی سلیم احمد پر لکھے گئے مقالے کے برابر ضخیم ہوتا میں تمہیں زیادہ نمبر دیتی۔ مزے کی بات یہ کہ یہی شاہدہ مرزا ہمیں ٹیلی وڑن جرنلزم بھی پڑھاتی تھیں اور ٹیلی وڑن جرنلزم کا ”رّٹے“ پرچہ تھا اس پرچے میں انہوں نے ہمیں 100 میں سے 83 نمبر دیے۔ ظاہر ہے کہ جب ہماری نئی نسلوں کی زندگی سے زبان، ماحول، مطالعہ اور استاد یکسر غائب ہوجائے گا تو پھر ہمارے تعلیمی ادارے رٹو توتوں کے سوا کیا پیدا کریں گے؟

Leave a Reply