کالم:رمیصاءعبدالمھیمن
سفارت کاری کو اکثر اس فن سے تعبیر کیا جاتا ہے جس میں سخت ترین پیغام بھی اس انداز میں دیا جائے کہ مخاطب اسے سننے پر آمادہ رہے۔ عالمی سیاست کی تاریخ بارہا یہ ثابت کرتی ہے کہ طاقت کا اصل امتحان میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اس لمحے میں ہوتا ہے جب فریقین لڑائی روک کر مذاکرات کی میز پر آمنے سامنے آتے ہیں۔ یہاں ہتھیار خاموش ہو جاتے ہیں مگر مقاصد نہیں اور الفاظ محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہتے بلکہ دباﺅ، حکمت ِ عملی اور کنٹرول (اختیار) کا وسیلہ بن جاتے ہیں۔ اسی مرحلے پر جنگیں ختم نہیں ہوتیں بلکہ اپنی شکل بدل لیتی ہیں۔جنگ بندی (سیز فائر) کے اعلانات ہو چکے ہیں، امن مذاکرات کے کئی ادوار مکمل ہو چکے ہیں، اور اسلام آباد اس پورے عمل میں ایک مرکزی اسٹیج (مرکزی پلیٹ فارم) کے طور پر سامنے آچکا ہے۔ کسی بھی بڑی جنگ کو عموماً ساٹھ دن کی مدت کے اندر کسی نہ کسی شکل میں چاہے وہ کامیابی ہو یا وقتی نقصان قابو میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے، اور ہم اس ساٹھویں دن کے آخری ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں۔ کشیدگی میں کمی کا مرحلہ (کولنگ پیریڈ) بھی مکمل ہو چکا ہے، جس کے بعد بظاہر یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ تصادم اپنے انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مگر عالمی طاقت کی سیاست میں یہی وہ نازک لمحہ ہوتا ہے جہاں جنگ کے خاتمے کا اعلان حقیقت سے زیادہ ایک تاثر بن جاتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں جنگ کے اختتام سے زیادہ اس کی نئی شکل اہم ہو جاتی ہے۔
جب جنگ اپنی صورت بدلتی ہے تو طاقت کا توازن بھی بدل جاتا ہے اور یہی حقیقت ایران اور امریکا کے موجودہ تصادم میں نمایاں طور پر سامنے آرہی ہے۔یہ دو ایسے حریف ہیں جو طویل مقابلے کے بعد تھک چکے ہیں مگر ہار ماننے کو تیار نہیں۔ ایران اس تھکن کو اسٹرٹیجک برداشت (حکمتِ عملی پر مبنی صبر) میں بدل چکا ہے، جبکہ امریکا اسے ایک بیانیے (نیرٹیو) کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے ایسا بیانیہ جسے وہ اپنی عوام اور دنیا کے سامنے کامیابی کے طور پر پیش کر سکے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جنگ میدان سے نکل کر تاثر (پرسیپشن)، ظاہری تاثر سازی (آپٹکس) اور بیانیہ کنٹرول (نیرٹیو کنٹرول) کی جنگ بن جاتی ہے اور اکثر یہی مرحلہ اصل جیت یا ہار کا فیصلہ کرتا ہے۔اسی لیے ”بات چیت بھی، دباﺅ بھی“ (talk-talk, fight-fight) کی حکمت ِ عملی سامنے آتی ہے ایک طرف مذاکرات، دوسری طرف دباﺅ۔ مگر جیسے جیسے یہ تصادم آبنائے ہرمز جیسے عالمی گزرگاہی مقامات (چوک پوائنٹس) تک پہنچتا ہے، یہ توازن خود ایک خطرہ بن جاتا ہے۔ بداعتمادی اب صرف ایک احساس نہیں رہی بلکہ ایک عملی حقیقت (آپریشنل ریئلٹی) بن چکی ہے جہاں ہر پیشکش کو وقتی حکمتِ عملی اور ہر رعایت کو حربی وقفہ (ٹیکٹیکل پاز) سمجھا جاتا ہے۔ یہاں سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے کیونکہ یہی منظرنامہ امریکی داخلی نظام سے بھی ٹکراتا ہے۔ 1973 کا وار پاورز ایکٹ (War Powers Act) صدر کو محدود وقت دیتا ہے کہ وہ جنگ کو کسی نتیجے تک پہنچائے یا کانگریس سے منظوری حاصل کرے، مگر عملی طور پر کانگریس کی خاموشی اکثر ایک غیر اعلانیہ منظوری بن جاتی ہے۔ ڈیموکریٹس سوال اٹھاتے ہیں، ریپبلکنز رکاوٹ بنتے ہیں، اور نتیجہ ایک ایسا نظام ہوتا ہے جہاں قانون اپنی اصل روح کے بجائے طاقت کی ترجیحات کے مطابق چلتا ہے۔
اگر اس پورے منظرنامے کو صرف ریاستی فیصلوں تک محدود کر دیا جائے تو تصویر ادھوری رہ جاتی ہے۔ درحقیقت یہ ایک تہہ دار طاقت کا نظام (layered power system) ہے جہاں پالیسی، مفاد اور طاقت ایک دوسرے میں ضم ہو چکے ہیں۔ نیوکنزرویٹو نیٹ ورکس، اے آئی پیک (AIPAC) جیسی لابیز، دفاعی صنعت، توانائی کی منڈی کے قیاس آرائی کرنے والے (speculators) ، اور مالی مفادات یہ سب مل کر ایک ایسا نظام تشکیل دیتے ہیں جہاں جنگ کا جاری رہنا بعض اوقات ایک ساختی ضرورت (structural necessity) بن جاتا ہے۔ یہاں جنگ کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک نظام کا تسلسل بن جاتی ہے۔ یہی حقیقت عالمی میڈیا کی رپورٹس میں بھی جھلکتی ہے۔ سی این این، فاکس نیوز، الجزیرہ اور واشنگٹن پوسٹ جیسے اداروں نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ سیاسی فیصلوں اور مارکیٹ کی حرکات کے درمیان غیر معمولی ہم آہنگی موجود ہے۔ چند منٹ پہلے معلومات اور اربوں ڈالرز کے فیصلے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سفارت کاری اور مالی مفادات کے درمیان لکیر دھندلا جاتی ہے۔ اسی تناظر میں نوبیل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات پال کروگمین (Paul Krugman) یہ مو?قف پیش کرتے ہیں کہ جب جنگی فیصلے مالی مفادات سے جڑ جائیں تو امن خود ایک غیر مطلوب آپشن بن جاتا ہے۔ سادہ الفاظ میں: جب جنگ منافع بن جائے تو امن مسئلہ بن جاتا ہے۔
یہ نکتہ ایک بڑے پیٹرن (مسلسل طرزِ عمل) کی طرف اشارہ کرتا ہے جو خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے رویے میں نمایاں رہا ہے۔ معاہدوں کو وقتی حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کرنا اور پھر اچانک ان سے الگ ہو جانا یہ ایک تسلسل رہا ہے۔ 2018 میں جوہری معاہدے (JCPOA) سے انخلا، پیرس ماحولیاتی معاہدہ (Paris Climate Agreement) چھوڑنا، آئی این ایف ٹریٹی اور اوپن اسکائیز معاہدے (Open Skies Treaty) سے نکل جانا، یہ سب اسی طرزِ عمل کی مثالیں ہیں۔اسی پیٹرن کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مذاکرات کے حساس ترین مرحلے پر اچانک واک آﺅٹ کر دینا یعنی جب فریقین کسی نتیجے کے قریب ہوں تو بغیر واضح وضاحت کے عمل ترک کر دینا۔ یہی رویہ موجودہ صورتحال میں بھی جھلکتا ہے، جہاں پیش رفت کے باوجود غیر یقینی برقرار ہے۔ اس تناظر میں کسی بھی ممکنہ معاہدے یا جنگ بندی کو حتمی حل کے بجائے ایک عارضی وقفہ سمجھنا زیادہ حقیقت پسندانہ ہے۔ یہ پیٹرن نیا نہیں اسی لیے جنگ بندی اکثر حل نہیں بلکہ وقفہ ہوتی ہے۔ لبنان میں جنگ بندی کی فوری خلاف ورزیاں اور مذاکرات کے ساتھ ساتھ بحری ناکہ بندی کی دھمکیاں اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ سفارت کاری خود ایک میدانِ جنگ بن چکی ہے۔ یہاں الفاظ بھی ہتھیار ہیں اور خاموشی بھی ایک پیغام۔
اس کے نیچے ایک اور بنیادی تضاد موجود ہے جمہوریت اور پالیسی کے درمیان خلا۔ امریکی عوام کی بڑی تعداد جنگ کے خلاف ہے، مگر پالیسی تبدیل نہیں ہوتی۔ اسے سیاسیات (political science) میں جمہوری خلا (democratic deficit) کہا جاتا ہے۔ برنی سینڈرز جیسے کردار اس خلا کو ا±جاگر تو کرتے ہیں مگر اسے بدل نہیں پاتے۔ فیصلے وہاں نہیں ہوتے جہاں ووٹ پڑتا ہے بلکہ وہاں ہوتے ہیں جہاں مفاد جڑتا ہے۔ یہی مفاد عالمی معیشت میں بھی جھلکتا ہے۔ جنگ ختم بھی ہو جائے تو اس کے اثرات فوری ختم نہیں ہوتے۔ ایک آئل ٹینکر کو اپنی منزل تک پہنچنے میں تقریباً چالیس دن لگتے ہیں یعنی آج کی کشیدگی کل کی معیشت کا حصہ بن چکی ہوتی ہے۔ امریکا شاید کم متاثر ہو، مگر باقی دنیا اس کا بوجھ اٹھاتی ہے۔ ان تمام پیچیدگیوں کے درمیان پاکستان کا کردار ایک اہم سفارتی موڑ کے طور پر ابھرا ہے۔ یہ محض ثالثی نہیں بلکہ اس بات کا اظہار ہے کہ اسلام آباد ایسے حساس مرحلے میں بھی مختلف فریقوں کے لیے ایک
قابلِ قبول رابطہ گاہ بن سکتا ہے۔ یہی پہلو پاکستان کی سفارتی حیثیت (diplomatic positioning) کو مضبوط کرتا ہے ایک ایسی ریاست کے طور پر جو صرف ردِعمل نہیں دیتی بلکہ کشیدگی میں بھی مکالمے اور توازن کی گنجائش پیدا کرتی ہے۔
اگر یہ جنگ کسی باضابطہ معاہدے، جنگ بندی یا سیاسی سمجھوتے پر ختم ہوتی ہے تو پاکستان کے لیے یہ صرف وقتی سفارتی نمایاں حیثیت (visibility) نہیں بلکہ ایک دیرپا اعتماد کا سرمایہ ہوگا۔ اس فضا میں اعتماد سب سے بڑی سفارتی کرنسی بن جاتا ہے، اور اصل کامیابی یہی ہوگی ۔
کہ پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جائے جو متصادم طاقتوں کے درمیان فاصلے کم کر سکے اور بعد از جنگ استحکام میں کردار ادا کر سکے۔ فکری سطح پر اگر اس منظرنامے کو دیکھا جائے تو علامہ اقبال اور ابن خلدون دونوں طاقت، زوال اور تاریخ کے بارے میں گہری بصیرت دیتے ہیں مگر مختلف زاویوں سے۔
اقبال کے نزدیک تاریخ روح، خودی اور بیداری کا میدان ہے، جبکہ ابن خلدون کے نزدیک طاقت ایک عمرانی اور ساختی عمل ہے جو عروج و زوال کے دائروں سے گزرتا ہے۔ اقبال طاقت کے اخلاقی باطن پر زور دیتے ہیں، جبکہ ابن خلدون اس کی ساختی پائیداری کو سمجھاتے ہیں۔ ایک بتاتا ہے کہ اخلاق کے بغیر طاقت کھوکھلی ہے، دوسرا کہ داخلی یکجہتی کے بغیر طاقت دیرپا نہیں۔ یوں یہ تصادم محض دو ریاستوں کا نہیں بلکہ ایک بڑے سوال کا حصہ بن جاتا ہے: کیا طاقت صرف برقرار رہنے کا نام ہے، یا توازن، جواز اور داخلی نظم کو قائم رکھنے کا بھی؟ اور یہی وہ مقام ہے جہاں سوال ختم نہیں ہوتے بلکہ شروع ہوتے ہیں: کیا یہ واقعی جنگ کا اختتام ہے، یا صرف اس کا اگلا مرحلہ؟ اگر معاہدہ ہو بھی جائے تو کیا وہ برقرار رہے گا؟ اور سب سے اہم کیا یہ توازن بحال ہو رہا ہے یا ایک نئی بے توازنی جنم لے رہی ہے؟
سفارت کاری کے پردے میں جاری طاقت کی کشمکش
adminshuja
اگلی خبر →
مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال

Leave a Reply