دوپہر کی نیند کو دماغی اور جسمانی صحت دونوں کے لیے بہترین قرار دیا جاتا ہے۔
مگر اب ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ 20 منٹ سے زائد وقت تک کا قیولہ درحقیقت خطرے کی گھنٹی ثابت ہوتا ہے، خاص طور پر درمیانی عمر یا بڑھاپے میں۔
امریکا کے بریگھم ماس جنرل ہاسپٹل اور رش یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسے معمر افراد جن کو اکثر دوپہر کے وقت غنودگی کا سامنا ہوتا ہے، ان میں یہ صرف نیند کی کمی کا نتیجہ نہیں بلکہ جسم کے اندر چھپے مختلف امراض کی علامت بھی ہوتا ہے۔
اس تحقیق میں 1338 معمر افراد کو شامل کیا گیا اور ان کی صحت اور معمولات کا جائزہ 19 سال تک لیا گیا۔
اس دوران دوپہر کی نیند کی عادات اور موت کی شرح کے درمیان تعلق کو بھی ٹریک کیا گیا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دوپہر میں اکثر زیادہ وقت تک قیلولہ کرنے کی عادت اور موت کے خطرے کے درمیان تعلق موجود ہے۔
محققین نے بتایا کہ درمیانی عمر یا بڑھاپے میں دوپہر کو زیادہ غنودگی دماغی تنزلی، امراض قلب اور دیگر مسائل سے جڑی ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ پہلی تحقیق ہے جس میں قیلولے کی عادت اور موت کے درمیان تعلق کا تجزیہ کیا گیا اور دریافت ہوا کہ اس سے مختلف طبی مسائل کا اشارہ ملتا ہے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 20 سے 60 فیصد کے درمیان معمر افراد قیلولہ کرتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق کبھی کبھار قیلولہ کرنا تو دماغی صحت کے لیے مفید ہوتا ہے مگر جب یہ روزانہ کا معمول بن جائے تو یہ عادت متعدد امراض کا اشارہ ہوتی ہے۔

Leave a Reply