وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ضلع چارسدہ کا دورہ کیا اور ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس شہید کے لیے منعقدہ قل خوانی میں شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے شہید کے درجاتِ بلندی کے لیے خصوصی دعا کی، غمزدہ لواحقین، تلامذہ اور متعلقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اس موقع پر حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا محمد ادریس کی شہادت پوری امت مسلمہ کے لیے عظیم سانحہ ہے، ان کی دینی، علمی اور فکری خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ نماز جنازہ میں عوام و خواص کے جم غفیر کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ مولانا محمد ادریس شہید حق اور سچ پر قائم رہنے والی شخصیت تھے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت اور عوام اس غم کی گھڑی میں لواحقین کے ساتھ برابر کے شریک ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ شہید کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سوال یہ ہے کہ ایسے واقعات آخر کیوں رونما ہو رہے ہیں اور پختون آج بھی دربدر اور غیر محفوظ کیوں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کسی جماعت، مکتب فکر یا تنظیم میں فرق نہیں کرتا بلکہ ہر موثر اور قابل شخصیت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ2002 میں ریاست کے پرائی جنگ میں شامل ہونے کے فیصلے کے بعد سے یہ خطہ مسلسل بدامنی، دہشت گردی اور خونریزی کا شکار ہے جبکہ گزشتہ 23 برسوں سے ہمارے لوگ جنازے اٹھا رہے ہیں اور اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ مولانا محمد ادریس شہید کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے متعلقہ حکام کو سخت ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور وہ خود روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

Leave a Reply