پارلیمانی سیکرٹری برائے سیاحت و ثقافت بلوچستان میر زرین خان مگسی نے بلوچستان ٹورازم پالیسی کی تشکیل کے حوالے سے منعقدہ دو روزہ کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان قدرتی حسن، تاریخی ورثے اور ثقافتی تنوع سے مالا مال صوبہ ہے، جسے عالمی سطح پر سیاحتی مرکز بنانے کے لیے م¶ثر پالیسی سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت صوبے میں سیاحت کے فروغ، مقامی معیشت کی بہتری اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں، پہاڑی سلسلوں، تاریخی مقامات اور ثقافتی ورثے کو جدید سہولیات سے آراستہ کرکے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے مزید پرکشش بنایا جائے گا۔
پارلیمانی سیکرٹری میر زرین مگسی نے کہا کہ ٹورازم پالیسی کی تشکیل میں ماہرین، متعلقہ اداروں، سرمایہ کاروں اور سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد کی آراءکو شامل کیا جا رہا ہے تاکہ ایک جامع اور پائیدار پالیسی مرتب کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت کے فروغ سے نہ صرف بلوچستان کا مثبت تشخص اجاگر ہوگا بلکہ صوبے کی معاشی سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔اس موقع پر سیکرٹری ٹورازم و کلچر بلوچستان حمید اللہ ناصر نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں سیاحت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں اور حکومت سیاحتی شعبے کی ترقی کے لیے جدید تقاضوں کے مطابق پالیسی سازی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحتی انفراسٹرکچر کی بہتری، سرمایہ کاری کے فروغ اور سیاحوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔افتتاحی تقریب میں پاکستان کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے سیاحوں، ٹور آپریٹرز، ماہرین، سول سوسائٹی نمائندوں اور سرکاری حکام نے بھی شرکت کی۔ شرکاءنے بلوچستان کے سیاحتی مقامات، ثقافتی ورثے اور قدرتی حسن کو سراہتے ہوئے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا۔ کانفرنس کے دوران بلوچستان میں سیاحت کے فروغ، سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر کی بہتری، ماحول دوست سیاحت اور سیاحوں کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا

Leave a Reply