کالم:محمد حسین محنتی
برصغیر میں مسلمانوں کی ایک ہزار سالہ حکمرانی کے بعد انگریزوں کے غلبے نے رہے سہے اسلامی قوانین و تعلیمات کو ختم کردیا اور مسلمانوں کو سیاسی، معاشی اور تعلیمی طور پر پسماندہ کر دیا۔ آزادی کی تحریک میں اگرچہ ہندو اور مسلم بظاہر ساتھ تھے لیکن جلد ہی یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمان اپنی جداگانہ شناخت اور دینی تشخص ہندو اکثریت و ذہنیت کی وجہ سے برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔ اسی پس منظر میں مفکر اسلام علامہ اقبال نے ایک الگ مسلم ریاست کا تصور پیش کیا جسے قائد اعظم محمد علی جناح اور آل انڈیا مسلم لیگ نے عملی جدو جہد اور اللہ کی مدد کے ذریعے حقیقت میں بدل دیا ”پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ“ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ عوامی قربانیوں اور خواہشات کا مرکز و محور تھا اور اسی لیے نئی آزاد ریاست کی بنیاد بنا۔ اس ریاست کا مقصد ایک ایسی تجربہ گاہ قائم کرنا تھا جہاں قرآن و سنت کے اصولوں کے مطابق زندگی گزاری جا سکے۔ پاکستان بننے کے بعد مسلمان ہندوستان کے طول و عرض خصوصاً دہلی، پنجاب و راجستھان و دیگر صوبوں سے قربانیاں دیتے ہوئے ہجرت کرکے پاکستان پہنچے۔ وہ کہتے تھے کہ پاکستان ہمارے لیے ایک مسجد کی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان کے قیام کے بعد سب سے اہم سوال یہ تھا کہ اس ریاست کو اسلامی نظام حیات کیسے دیا جائے۔ اگست 1947 میں ہی نئے آزاد ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے اقدامات پر غور کرنے کے لیے ایک کمیٹی علامہ اسد کی قیادت میں بنی جس میں معروف علماءکرام بھی شامل تھے جس نے ابتدائی کام شروع کیا۔ لیکن اندرونی سازشوں اور بیوروکریسی کی رکاوٹوں کی وجہ سے کام آگے نہ بڑھ سکا۔ دوسری طرف علمائ کرام کی کوششوں سے 1949 میں ہماری اسمبلی نے ”قرارداد مقاصد“ کی منظوری عطا کی جو ایک بڑا سنگِ میل ثابت ہوا۔ لیاقت علی خان کے دور میں منظور ہونے والی اس قرارداد نے یہ طے کر دیا کہ کائنات کی حاکمیت اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور ریاست اپنے اختیارات عوامی نمائندوں کے ذریعے قرآن و سنت کی حدود میں رہ کر استعمال کرے گی۔ اس کے بعد 1951 میں سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کوششوں سے تمام مکاتب ِ فکر کے 31 جید علمائ نے 22 نکات پیش کیے، جن میں ریاست کے اسلامی تشخص، قانون سازی کی حدود، منارٹی کے حقوق، عدلیہ کی آزادی اور انسانی بنیادی حقوق جیسے اہم اصول شامل تھے۔ حکومت نے ان نکات کو بڑی حد تک قبول کرلیا۔ یہی نکات بعد میں 1956، 1962 اور بالخصوص 1973 کے متفقہ آئین کی بنیاد بنے۔ 1973 کا آئین آج بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بنیاد ہے۔ اس میں درج ہے کہ پاکستان کا مذہب اسلام ہوگا اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جائے گا۔ 1974 میں ملک میں قادیانیوں کے خلاف زبردست تحریک چلی اور قومی اسمبلی نے قادیانیت کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا۔ اس سب کے باوجود قیام پاکستان سے کسی حکمراں سیاست دان، فوجی امر نے اسلامی نظام حیات یا اس کے کسی شعبے میں دیانت داری سے اسلامی تعلیمات کو نافذ کرنے کی مخلصانہ کوشش نہیں کی۔ عوامی دباو یاحالات کے جبر کی وجہ سے جزوی سطحی کوششیں کیں تو ان پر کسی وقت بھی عمل درآمد نہ ہوا۔ یہ قوانین دستور کی اسلامی سجاوٹ تک رہے۔
جماعت اسلامی نے ہر دور میں اسلامی نظام کے لیے آواز بلند کی۔ بالآخر 1977 میں تمام دینی و سیاسی جماعتوں نے متحد ہو کر نظام مصطفی کے نفاذ کے لیے بھرپور تحریک چلائی۔ تحریک کی قربانیوں کے نتیجے میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اتوار کے بجائے جمعہ کی چھٹی اور شراب نوشی و زنا اور جوا پر پابندی جیسے اقدامات کیے گئے۔ اس کے بعد جنرل ضیائ الحق کے دور میں ”نفاذِ اسلام“ کے نام پر حدود آرڈیننس، زکوٰة و عشر کا نظام، اور وفاقی شرعی عدالت کا قیام بھی عمل میں لایا گیا، اسلامک بینکنگ کا نظام شروع کیا گیا۔ جس پر اب تک مجموعی طور پر 27 فی صد بینکنگ پہنچ چکی ہے۔ مزید برآں وفاقی شرعی عدالت نے سود کے خاتمے کے لیے کئی بار فیصلوں کا اعلان کیا لیکن عدالت عظمیٰ میں اپیلوں کے نتیجے میں ابھی تک سودی بینکنگ اور سودی معاشی نظام سے نجات نہیں ملی۔ تعلیم کے شعبے میں اسلامی اقدار کو شامل کرنے کی کوشیشیں کی گئیں، تعلیمی نصاب میں اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کو لازمی قرار دیا گیا لیکن مغرب اور ان کی NGO کے دباو پر نصاب تعلیم سے قرآنی سورتوں و آیات اور اسلامی و تاریخی اسباق کو نکال دیا گیا۔ نظامِ تعلیم آج بھی طبقاتی اور دینی و دنیاوی کا تقسیم کاشکار ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر ایک مربوط اسلامی تعلیمی نظام تشکیل نہ پاسکا۔ اس کی اصل وجہ حکمرانوں کی نیتوں کا فتور ہے۔
اسی طرح عدالتی نظام میں بھی شرعی عدالت کے قیام کے باوجود مغربی عدالتی نظام رائج ہے۔ اس کی وجہ بھی ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں کی مغربی ذہنی غلامی ہے۔ ہماری اسمبلیوں میں قانون سازی موجودہ مغربی نظام کو آگے بڑھانے کے لیے کی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہمارے ججوں اور وکلا کی تعلیم و تربیت غلامانہ ذہنیت رکھنے والے کالج اور اداروں میں کی جارہی ہے۔ اگر ہم ملک کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ آئین میں اسلام و نظریہ موجود ہے لیکن پورا نظام زندگی مغربی نظام کی تصویر پیش کرتا ہے۔
اسلامی نظام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ نوآبادیاتی Colonial ڈھانچہ ہے جو انگریز چھوڑ کر گیا تھا۔ ہماری بیوروکریسی، عدالتی نظام اور مقتدر حلقوں میں ایک ایسا بڑا طبقہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے جو مغرب کے سیکولر نظام کو ہی ترقی کی ضمانت سمجھتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک طویل عرصہ فوجی آمروں کی حکمرانی رہی جس میں انہوں نے ہمارے ملک میں اسلامی تہذیب و روایات کی جگہ مغربی ثقافت کو رائج کرنے کی بھرپور کوششیں کیں۔ انہوں نے پچھلی حکومتوں کی اسلامی اصلاحات کو بھی بزور قوت و قانون مٹانے کے لیے زور لگایا۔ مزید برآں سیاسی عدم استحکام، جاگیردارانہ نظام، کرپشن معاشی ناہمواری، عدالتی پیچیدگیاں، اخلاقی زوال اور مذہبی گروہوں کے مابین فروعی اختلافات نے بھی نفاذِ اسلام کی اجتماعی کوششوں کو نقصان پہنچایا۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا دباﺅ بھی اس میں شامل ہے۔
اسلامی نظام کے راستے میں مزاحم عناصر میں مغربی غلامانہ ذہنیت، مفاد پرست قیادت، عالمی طاقتوں کا دباﺅ، سودی مالیاتی نظام اور مغربی ثقافتی یلغار بھی اہم عوامل ہیں۔ مستقبل میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے محض نعروں کے بجائے ٹھوس علمی اور عملی حکمت ِ عملی کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تعلیمی اور فکری اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل کو اسلام کے مکمل نظام حیات سے آگاہ کیا جائے۔ نظام تعلیم کے ذریعے نئی نسل کو اسلامی سوچ، اخلاق و اقدار سے آراستہ کرکے عملی میدان میں ا±تارا جاسکے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کی ذہنی اور فکری تربیت کرنی ہے۔ سیاسی میدان میں آئینی اور پرامن جدو جہد کو جاری رکھنا ہوگا۔ عوامی بیداری کے ذریعے ایسے نمائندوں کو ایوانوں میں بھیجا جائے جو مخلصانہ طور پر قرآن و سنت کی بالادستی چاہتے ہوں۔ معاشی سطح پر سود سے پاک نظام کو حکمت سے نافذ کرنا ہوگا۔ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اسلامی نظام محض قوانین کے نفاذ کا نام نہیں ہے بلکہ ایک ہمہ گیر اخلاقی، روحانی تبدیلی کا تقاضا کرتا ہے، جس میں فرد معاشرہ اور ریاست سب شامل ہوتے ہیں۔ اس لیے ملک کے علماء، دانشوروں پیشہ ورانہ قیادت اور دینی و سیاسی جماعتوں کو ملکر ہمہ گیر انتھک جدو جہد کرنی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہماری مدد و نصرت فرمائے آمین۔ نومبر 25 کو لاہور میں جماعت اسلامی کے اجتماع عام میں بدل دو نظام کے ذریعے ملک گیر جدوجہد اور تحریک شروع کی گئی ہے اس کا بھی ہدف پاکستان میں ایک فلاحی اسلامی ریاست کا قیام ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے کامیابی عطا فرمائے آمین۔
آج پاکستان دین سے دوری اور اسلامی نظام زندگی کے عدم نفاذ کی وجہ سے آزمائشوں اور بحران میں پھنسا ہوا ہے۔ پاکستان کی بقا، ترقی اور خوشحالی اسی صورت میں ممکن ہے جب اسلامی نظریہ کو ہر شعبہ زندگی سے جوڑ دیا جائے۔
پاکستان میں نفاذ اسلام، رکاوٹیں اور مستقبل کے امکانات
adminshuja
اگلی خبر →
کراچی کے تعلیمی بورڈ پر مافیا کا قبضہ

Leave a Reply