Daily Shujaat Quetta
June 25, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
ایران جنگ میں اللہ نے پاکستان سے کام لیا، دنیا ہمیں پیس میکر کے نام سے جانتی ہے: اسحاق ڈارملک بھر میں 9 محرم الحرام کے جلوس اور مجالس کا انعقادنیتن یاہو کی مشکلات میں مزید اضافہ، ٹرمپ امریکا ایران ڈیل کو اسرائیلی مؤقف پر ترجیح دینے لگےامریکا کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کیساتھ براہ راست رابطے کا فیصلہایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنایران جنگ میں اللہ نے پاکستان سے کام لیا، دنیا ہمیں پیس میکر کے نام سے جانتی ہے: اسحاق ڈارملک بھر میں 9 محرم الحرام کے جلوس اور مجالس کا انعقادنیتن یاہو کی مشکلات میں مزید اضافہ، ٹرمپ امریکا ایران ڈیل کو اسرائیلی مؤقف پر ترجیح دینے لگےامریکا کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کیساتھ براہ راست رابطے کا فیصلہایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکن

تاریخی دھاندلی کیا مغربی بنگال بھارت سے الگ ہوجائے گا؟

کالم:وجیہ احمد صدیقی
مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات نے بھارت کی جمہوریت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلکتہ کی سڑکوں پر ممتا بینر جی کے حامی ”جوئے بنگلا“ کے نعرے لگا رہے ہیں اور الیکشن میں دھاندلی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ جبکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا پر ایک کروڑ دس لاکھ اصل ووٹروں کے ووٹ کاٹنے کا سنگین الزام ہے۔ یہ جعلی ووٹ نکالنے کے بجائے مخالفین کے ووٹروں کو ووٹر لسٹ سے غائب کرنے کی سازش تھی، جس سے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو شدید نقصان پہنچا۔ ممتا بینر جی نے غصے سے کہا کہ 100 سے زائد نشستوں پر بی جے پی اور الیکشن کمیشن نے کھلا ڈاکا ڈالا ہے، اور انہوں نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کی جماعت کی طرف سے یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ بارڈر سیکورٹی فورس اور سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز کو اے وی ایم کے نتائج تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ ابتدائی گنتی میں ٹی ایم سی کی برتری تھی، لیکن راتوں رات نمبرز بدل گئے۔ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر #RiggedBengal ٹرینڈ چل رہا ہے، جہاں ہزاروں لوگ ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں۔
یہ سارا سلسلہ 18 اپریل سے 7 مئی 2026 تک چلا، چار مرحلہ وار انتخابات کے دوران ہوا۔ کلکتہ میں ممتا بینر جی کی ریلی میں ہزاروں کارکن جمع ہوئے، جہاں انہوں نے بی ایس ایف اہلکاروں کو اے وی ایم کے پاس کھڑے ہونے کی ویڈیوز دکھائیں۔ @MamataOfficial نے ایکس پر لکھا، ”ایک کروڑ دس لاکھ اصلی ووٹ کاٹ دیے! بی جے پی کا ڈراما ختم“۔ اس پوسٹ پر لاکھوں لائکس آئے۔ انڈین ایکسپریس نے بھی تصدیق کی کہ ووٹر لسٹ سے مسلم اور دلت علاقوں میں بڑی کٹوتی ہوئی۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، جو 19 فروری 2025 کو اس عہدے پر آئے، آگرہ کے ہندو ہیں اور بابری مسجد انہدام کے بعد رام مندر کی تعمیری مہم میں سرگرم رہے ہی۔ ان کی ”اسٹرٹیجک ووٹر رجسٹریشن“ پالیسی سے ملک بھر میں چھے کروڑ مسلمان اور دلت ووٹروں کے نام ہٹائے گئے۔ بنگال میں 28 لاکھ مسلمانوں کو ”بنگلا دیشی گھس بیٹھیے“ کہہ کر ووٹر لسٹ سے نکال دیا گیا، حالانکہ وہ بھارتی شہری ہیں۔ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کہتی ہے کہ مماری پورہ اور مرشد آباد جیسے علاقوں میں 40 فی صد لسٹ تبدیل ہوئی۔
عوام کا غصہ آسمان چھو رہا ہے۔ کلکتہ کی سڑکوں پر مارچ نکلے، پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ @AITCofficial کی پوسٹ ”100+ seats looted Reject fake results“ پر 2.5 لاکھ ری ٹویٹس۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ یہ ”غیر قانونی تارکین“ تھے، لیکن ثبوت جھوٹے ہیں بہت سے کے پاس آدھارکارڈ (قومی شناختی کارڈ) اور پاسپورٹ ہیں۔ دلت لیڈر اور ٹی ایم سی حامی بھی متاثر ہوئے، جن سے توقع تھی کہ وہ بی جے پی کو ووٹ نہ دیں گے۔
اب ”جوئے بنگلا“ کا نعرہ مشرقی پاکستان والے دور کی یاد دلاتا ہے، جب بھارت نے 1971 میں بنگلا دیش بنایا تھا تو عوامی لیگ اور مکتی باہنی والے جوئے بنگلا کا نعرہ لگاتے تھے۔ آج مغربی بنگال میں یہی نعرہ بھارت کے خلاف لگ رہا ہے۔ ایکس پر #JaiBanglaIndependence ٹرینڈنگ، جہاں لوگ کہہ رہے ہیں کہ بنگال سمیت سات ریاستیں الگ ہو جائیں گی۔ انڈیا ٹوڈے نے لکھا کہ شمال مشرقی ریاستیں بھی بھارت سے بغاوت کی طرف مائل ہیں۔
ممتا بینر جی نے عدالت عظمیٰ میں پٹیشن دائر کر دی، الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ یہ اقلیتوں کے خلاف منظم حملہ ہے۔ بی جے پی کے اپنے کچھ لیڈر بھی خاموش ہیں، جیسے سکھیرو پال جو پہلے دھاندلی کے الزام لگا چکے۔ عوام سڑکوں پر اتر آئے، کئی جگہ تشدد ہوا۔ کیا یہ بھارت کی تقسیم کا آغاز ہے؟ گیانیش کمار جیسے افسران نے بھارتی شہریوں سے ووٹ کا حق چھینا ہے، اب بنگال مزاحمت کر رہا ہے۔ وقت بتائے گا کہ ”جوئے بنگلا“ محض نعرہ رہے گا یا حقیقت بن جائے گا۔

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *