عمر میں اضافے کے ساتھ جسمانی اور دماغی صحت کو ٹھیک رکھنا چاہتے ہیں تو ایسا بہت آسانی سے ممکن ہے۔
درحقیقت اس کے لیے کچھ زیادہ محنت کرنے کی ضرورت بھی نہیں، درحقیقت کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں۔
بس اپنے روزمرہ کے معمولات کو یکساں رکھنا عادت بنائیں اور روزانہ کا مستحکم شیڈول دماغی اور جسمانی صحت کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
جرنل آف بی ہیوئیر میڈیسن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ جو افراد روزانہ کے معمولات کو برقرار رکھتے ہیں، ان میں جسمانی تکلیف کی کمی آتی ہے جبکہ ڈپریشن کا خطرہ بھی گھٹ جاتا ہے۔
اس تحقیق میں 67 افراد کو شامل کیا گیا تھا جن کی اوسط عمر 68 سال تھی۔
67 میں سے 37 افراد بے خوابی کے مسئلے کا سامنا کر رہے تھے اور ان سے سوالنامے بھروائے گئے جو کہ روزمرہ کی سرگرمیوں، جسمانی وزن، ڈپریشن کی علامات اور جسمانی تکلیف کی تفصیلات پر مبنی تھا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد کے روزمرہ کے معمولات کبھی بدلتے نہیں، انہیں جسمانی تکلیف اور ڈپریشن کا احساس کم ہوتا ہے، چاہے وہ بے خوابی کے عارضے کا شکار ہی کیوں نہ ہوں۔
درحقیقت جن افراد کے معمولات یکساں ہوتے ہیں، ان کا جسمانی وزن صحت مند ہوتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ اگر ہم سونے، جاگنے، کھانے، کام یا تعلیم کے حوالے سے معمولات کو یکساں رکھتے ہیں تو اس سے جسم کی اندرونی گھڑی کے افعال پر معمول پر رہتے ہیں اور طویل العمیاد بنیادوں پر صحت کو فائدہ ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صحت میں بہتری کا یہ سلسلہ معمولات کے ساتھ برقرار رہتا ہے، چاہے نیند کا دورانیہ یا معیار بہتر نہ بھی ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ درحقیقت روزمرہ کے معمولات میں معمولی تبدیلی سے بھی جسمانی گھڑی کے افعال پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

Leave a Reply