اگر آپ نے 1987 کی سائنس فکشن فلم روبو کوپ دیکھی ہو تو یاد ہوگا کہ اس میں ایک قریب المرگ پولیس آفیسر کو روبوٹ میں تبدیل کر دیا گیا تھا جو جرائم کی روک تھام کرتا ہے۔
اب چین میں اس سائنس فکشن خیال کو کسی حد تک حقیقت کی شکل دی گئی ہے۔
جی ہاں واقعی چین کے شہر ہانگژو میں 6 فٹ 2 انچ کے روبوٹ ٹریفک پولیس کا کام کر رہے ہیں۔
مقامی کمپنی سپ کون انفارمیشن کے تیار کردہ 98 کلو گرام وزنی ٹی 2 روبوٹس کو ٹریفک کنٹرول سنبھالنے کا کام دیا گیا ہے۔
وہ ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل چلانے والوں کو روک کر نرم وارننگ دیتے ہیں جبکہ اپنے مکینیکل ہاتھوں کو ٹریفک لائٹس کے مطابق حرکت دیتے ہیں۔
یہ روبو کوپ کیمرے، راڈار اور کمپیوٹنگ کو استعمال کرکے ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل چلانے والوں کو شناخت کرتے ہیں۔
یہ روبوٹس راستوں، پارکنگ اور ٹریفک قوانین کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کا جواب دے سکتے ہیں جبکہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں مقامی پولیس سے رابطہ کرسکتے ہیں۔
مئی 2026 سے اب تک کمپنی کی جانب سے ایسے 15 روبوٹس کو شہر میں تعینات کیا جاچکا ہے۔
کمپنی کے مطابق اب تک ان روبوٹس نے ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد وارننگز جاری کی ہیں جبکہ ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل چلانے کے کیسز میں 40 فیصد تک کمی لائے ہیں۔
کمپنی نے ان روبوٹس کی آزمائش پہلے ہزاروں گھنٹوں تک سیاحتی علاقوں، اسکول زونز، مختلف اضلاع اور خراب موسم کے دوران کی۔
روبوٹس کے کیمروں اور راڈار سورج کی تیز روشنی، بارش اور شدید گرمی سے متاثر ہوتے ہیں مگر کمپنی کے مطابق اس کی جانب سے ٹریفک خلاف ورزی کو 95 فیصد تک درست شناخت کیا جاتا ہے۔
کمپنی نے بتایا کہ ان روبوٹس کا مقصد ٹریفک خلاف ورزی کے بعد سزا کی بجائے بروقت یاد دہانی کرانا ہے تاکہ لوگ اسے عادت نہ بناسکیں۔
کمپنی نے مزید بتایا کہ روبوٹ کبھی تھکتے نہیں اور طویل وقت تک کام کرسکتے ہیں۔
یہ روبوٹس صبح 7 سے شام بجے تک خودکار طور پر کام کرتے ہیں اور پہلے سے طے شدہ پوزیشن میں حرکت کرتے ہیں۔
ایک سینٹرل پلیٹ فارم سے ٹریفک پولیس کی ٹیمیں روبوٹس کی مانیٹرنگ کرتے ہیں۔

Leave a Reply