نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کرگئی۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امدادی کارکنوں نے ہزاروں لاپتا افراد تک پہنچنے کے لیے بھاری مشینری، ہیلی کاپٹرز اور ایکسیویٹرز کا استعمال شروع کر دیا ہے۔
چین، بھارت اور نیپال کی خصوصی امدادی ٹیموں نے دور دراز علاقوں تک رسائی کے لیے عارضی پل تعمیر کیے ہیں اور وہ ایکسیویٹرز کی مدد سے سرنگوں میں پھنسے تقریباً 300 مزدوروں کو بحفاظت نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 26 اگست کو گلیشیئر ٹوٹنے کے باعث برف، چٹانوں اور کیچڑ کا ایک بہت بڑا ریلا نیپال اور چین کے سرحدی علاقے میں شدید تباہی کا باعث بنا تھا۔
نیپال کی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق تباہ شدہ ہائیڈرو پاور اسٹیشنز میں کم از کم 639 افراد اب بھی پھنسے ہوئے ہیں، حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1050 ہوگئی ہے جبکہ تقریباً 4000 افراد تاحال لاپتا ہیں جن میں 583 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پیکے ابتدائی تخمینے کے مطابق، اس آفت کے نتیجے میں کم از کم 22 لاکھ ٹن ملبہ جمع ہوا ہے جس میں عمارتوں کا ملبہ، چٹانیں اور مٹی شامل ہے۔

Leave a Reply