کالم:میر بابر مشتاق
معاہدہ نہ ہو سکا، مگر دروازہ بند نہیں ہوا۔ سفارت کاری میں اکثر یہی ہوتا ہے۔ اصل خبر وہ نہیں جو کہی جائے، بلکہ وہ جو کہے بغیر کہہ دی جائے۔ اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان 47 سال بعد ہونے والی پہلی اعلیٰ سطح پر براہِ راست بات چیت کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئی۔ پاکستان کے دارالحکومت میں عالمی سفارت کاری کا ایک تاریخی مگر دشوار گزار مرحلہ اختتام پذیر ہوا۔ یہ 21 گھنٹے طویل نشست پوری دنیا کی توجہ کا مرکز رہی، مگر پانچ دہائیوں پر محیط خلیج مکمل طور پر ختم نہ ہو سکی۔ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس، جبکہ ایرانی وفد کی نمائندگی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی۔ مذاکرات سے قبل دونوں وفود نے وزیراعظم شہباز شریف سے الگ الگ ملاقات کی۔ ہفتہ 11 اپریل کی دوپہر سے شروع ہونے والی یہ میراتھن اتوار کی صبح تک جاری رہی۔ مذاکرات تین سیشنز پر مشتمل تھے۔ پہلا بالواسطہ تھا، جس میں تحریری پیغامات کا تبادلہ پاکستانی حکام کے ذریعے ہوا۔ دوسرے سیشن میں دونوں وفود نے ایرانی انقلاب کے بعد پہلی بار ایک ہی میز پرآمنے سامنے گفتگو کی۔ تیسرا سیشن تکنیکی ٹیموں کے درمیان ہوا۔ اس دوران دونوں رہنماوں نے پاکستانی قیادت کے ساتھ عشائیے میں بھی شرکت کی۔مذاکرات کے نتیجہ خیز نہ ہونے کی بنیادی وجہ دونوں ممالک کا اپنی ”ریڈ لائنز“ پر سخت موقف تھا۔ چار نکات ایسے تھے جن پر اتفاق نہ ہو سکا۔ اوّل: امریکا کا اصرار تھا کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار نہ رکھنے کی حتمی ضمانت دے، جبکہ ایران پر امن مقاصد کے لیے اپنے نیوکلیئر پروگرام کے حق سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھا۔ دوم:آبنائے ہرمز کی صورتحال پر شدید اختلاف ایران اس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا تھا۔ سوم: ایران کا مطالبہ تھا کہ تمام پابندیاں مکمل اور غیر مشروط ختم کی جائیں اور اثاثے واگزار کیے جائیں، جبکہ امریکا پابندیوں کے خاتمے کو شرائط سے مشروط کرنا چاہتا ہے۔ چہارم: لبنان میں سیز فائر، مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی اثر و رسوخ، اسرائیل کا کردار اور امریکی فوجی اڈے بھی اہم وجوہِ نزاع تھیں۔
مذاکرات کے اختتام پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پریس کانفرنس میں کہا: ”اچھی خبر یہ ہے کہ ہم نے 21 گھنٹوں میں بہت سی بامعنی باتیں کیں، لیکن بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔ ہم نے اپنی بہترین پیشکش میز پر رکھ دی، مگر ایرانی وفد نے ہماری شرائط قبول نہ کرنے کا انتخاب کیا“۔ وینس کے مختصر بیان میں تین اہم اشارے تھے۔ پہلا: پاکستان کے لیے تعریف؛ انہوں نے صاف کہا کہ ناکامی کی کوئی وجہ پاکستان نہیں، بلکہ وزیراعظم اورآرمی چیف کی کوششوں کو سراہا۔ دوسرا: الزام ایران کی طرف، لیکن دروازہ کھلا۔ انہوں نے کہا ”ابھی تک“ عہد نہیں ملا، یعنی ابھی موقع ہے۔ تیسرا: امریکا نے لچک دکھانے کا دعویٰ کیا۔
دوسری جانب، ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی کا موقف تھا کہ معاہدہ نہ ہونے کی وجہ امریکا کے ”غیر منطقی اور حد سے زیادہ مطالبات“ ہیں۔ ان کے مطابق بہت سے موضوعات پر مفاہمت ہو گئی تھی، مگر دو یا تین اہم معاملات پر اتفاق نہ ہو سکا۔ انہوں نے اسے ”ناکامی کے بجائے ایکآغاز“ قرار دیا اور کہا کہ ”اب گیند امریکا کے کورٹ میں ہے“۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکا کہتا ہے ”معاہدہ نہیں ہوا مگر ابھی تک“ اور ایران کہتا ہے ”یہ صرف وقفہ ہے“۔ دونوں ایک ہی طرف اشارہ کرتے ہیں: امکان ابھی باقی ہے۔ مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ماہر روس ہیریسن کا کہنا ہے کہ ایران دباﺅ میں ضرور ہے، لیکن اس کی پوزیشن میدان میں مضبوط ہے۔ اگر امریکا نے الٹی میٹم دینے والا رویہ برقرار رکھا تو مستقبل میں معاہدے کی گنجائش کم رہ جائے گی۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ یہ ملاقات بے نتیجہ ختم ہوئی، لیکن 47 سال بعد دو متحارب فریقین کا ایک میز پر بیٹھنا بذاتِ خود ایک بڑی پیش رفت ہے۔ 1979 کے بعد پہلی بار امریکا اور ایران کے نمائندے ایک ہی کمرے میں براہِ راست بیٹھے،آنکھوں میںآنکھیں ڈال کر باتیں ہوئیں، مشترکہ کھانا کھایا۔ جب دو حریف 21 گھنٹے ایک ساتھ گزار سکتے ہیں، تو مطلب ہے کہ دونوں واقعی راستہ تلاش کرنا چاہتے ہیں۔
پاکستان نے ایک بہترین پلیٹ فارم مہیا کر کے اپنا سفارتی کردار بخوبی نبھایا۔ دونوں فریقوں نے کھل کر تعریف کی اور یہ بہت کم ہوتا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف میزبانی کی بلکہ دنیا کے دو بڑے حریفوں کو ایک میز پر بٹھایا، اعتماد کا ماحول بنایا، اور ثالث کا کردار ادا کیا۔ اگرچہ اسلامآباد مذاکرات میں کوئی تحریری معاہدہ نہ ہو سکا، لیکن دونوں اطراف سے ”بات چیت جاری رکھنے“ کا اشارہ اس بات کی علامت ہے کہ سفارت کاری کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی عوامی دھمکیوں کے برعکس، ان مذاکرات میں امریکی رویے میں لچک نمایاں تھی۔ وینس نے بتایا کہ ٹرمپ نے انہیں ہدایت کی تھی: ”نیک نیتی سےآئیں اور معاہدہ کرنے کی پوری کوشش کریں“ اور مذاکرات کے دوران انہوں نے ایک درجن سے زیادہ بار صدر سے گفتگو کی۔
وینس کے لیے یہ مذاکرات ایک سیاسی امتحان بھی تھے۔ اگر ڈیل ہو جاتی تو کریڈٹ ٹرمپ کو جاتا، اور ناکامی پر وینس کو تنقید کا سامنا ہوتا۔ اسی لیے ان کے الفاظ نپے ت±لے تھے، انہوں نے خود کو بچاتے ہوئے دروازہ کھلا رکھا۔ اب سب سے اہم تاریخ 22 اپریل ہے۔ جنگ بندی کے لیے چند دن باقی ہیں۔ دو راستے ہیں: ایک تکنیکی سطح پر بات چیت جاری رہے اور سیاسی قیادت دوبارہ میز پرآئے۔ دوسرا جنگ بندی ٹوٹے اور خطہ دوبارہ تصادم کی طرف جائے۔ دنیا کی نظریں اگلے چند دنوں پر جمی ہیں، جو یہ طے کریں گے کہ خطہ امن کی طرف بڑھے گا یا نئے تنازعے کی لپیٹ میںآئے گا۔ بظاہر مذاکرات کے خاتمے کے باوجود بیک ڈور ڈپلومیسی میں مزید تیزیآئے گی۔ دونوں فریقوں نے گفتگو جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ قوی امید ہے کہ نہ صرف جنگ بندی قائم رہے گی بلکہ 22 اپریل کی ڈیڈ لائن میں مزید توسیع بھی متوقع ہے۔ تو کیا یہ ناکامی تھی؟ بظاہر ہاں۔ لیکن سفارت کاری میں ہر ناکام معاہدہ اگلے معاہدے کی بنیاد ہوتا ہے۔ یہ 21 گھنٹے ضائع نہیں ہوئے: سرخ لکیریں واضح ہو گئیں، ترجیحات سامنے آگئیں، اور سب سے بڑھ کر 47 سال کی خاموشی ٹوٹ گئی۔ معاہدہ نہ ہونا مایوس کن ہے، لیکن دروازے بند نہیں ہوئے۔ پاکستان نے اپنا کام کر دیا۔ اب فیصلہ عالمی طاقتوں کے ہاتھ میں ہے۔ 22 اپریل قریب ہے۔ وقت کم ہے یا تو مذاکرات آگے بڑھیں گے، یا دنیا پھر تصادم کی طرف جائے گی۔ لیکن ایک بات طے ہے: یہ 21 گھنٹے تاریخ میں صرف ناکامی کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ممکنہ امن کی پہلی کرن کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ کیونکہ جب دروازہ بند نہ ہو، تو ہوا بدل سکتی ہے۔آبنائے ہرمز کی صورتحال پر شدید اختلاف ایران اس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا تھا۔ سوم: ایران کا مطالبہ تھا کہ تمام پابندیاں مکمل اور غیر مشروط ختم کی جائیں اور اثاثے واگزار کیے جائیں، جبکہ امریکا پابندیوں کے خاتمے کو شرائط سے مشروط کرنا چاہتا ہے۔ چہارم: لبنان میں سیز فائر، مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی اثر و رسوخ، اسرائیل کا کردار اور امریکی فوجی اڈے بھی اہم وجوہِ نزاع تھیں۔
مذاکرات کے اختتام پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پریس کانفرنس میں کہا: ”اچھی خبر یہ ہے کہ ہم نے 21 گھنٹوں میں بہت سی بامعنی باتیں کیں، لیکن بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔ ہم نے اپنی بہترین پیشکش میز پر رکھ دی، مگر ایرانی وفد نے ہماری شرائط قبول نہ کرنے کا انتخاب کیا“۔ وینس کے مختصر بیان میں تین اہم اشارے تھے۔ پہلا: پاکستان کے لیے تعریف؛ انہوں نے صاف کہا کہ ناکامی کی کوئی وجہ پاکستان نہیں، بلکہ وزیراعظم اورآرمی چیف کی کوششوں کو سراہا۔ دوسرا: الزام ایران کی طرف، لیکن دروازہ کھلا۔ انہوں نے کہا ”ابھی تک“ عہد نہیں ملا، یعنی ابھی موقع ہے۔ تیسرا: امریکا نے لچک دکھانے کا دعویٰ کیا۔دوسری جانب، ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی کا موقف تھا کہ معاہدہ نہ ہونے کی وجہ امریکا کے ”غیر منطقی اور حد سے زیادہ مطالبات“ ہیں۔
ان کے مطابق بہت سے موضوعات پر مفاہمت ہو گئی تھی، مگر دو یا تین اہم معاملات پر اتفاق نہ ہو سکا۔ انہوں نے اسے ”ناکامی کے بجائے ایکآغاز“ قرار دیا اور کہا کہ ”اب گیند امریکا کے کورٹ میں ہے“۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکا کہتا ہے ”معاہدہ نہیں ہوا مگر ابھی تک“ اور ایران کہتا ہے ”یہ صرف وقفہ ہے“۔ دونوں ایک ہی طرف اشارہ کرتے ہیں: امکان ابھی باقی ہے۔ مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ماہر روس ہیریسن کا کہنا ہے
دروازہ بند نہیں
adminshuja
اگلی خبر →
امریکی عوام کا حقیقی صدر

Leave a Reply