کالم:وجیہ احمد صدیقی
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ اسلام آباد میں جاری مذاکرات اب آخری موڑ پر ہیں جہاں صدر ٹرمپ نے ایران کو واضح پیغام دے دیا ہے: یا تو جوہری ہتھیاروں سے ہاتھ دھو لو، یا پھر تمہارے پاور پلانٹس اور پل تباہ کر دیے جائیں گے۔ 45 روزہ جنگ بندی 23 اپریل کو ختم ہو رہی ہے، اور دونوں طرف سے ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔ پاکستان اس کھیل میں ثالث کااہم کردار ادا کر رہا ہے، مگر کیا یہ مذاکرات امن کی طرف جائیں گے یا بڑی جنگ کی طرف؟ آئیے اس صورتحال کا گہرائی سے تجزیہ کرتے ہیں۔ پہلے تو سمجھ لیں کہ یہ تنازع کیسے شروع ہوا۔ گزشتہ برسوں میں امریکا نے ایران پر سخت پابندیاں عائد کیں، خاص طور پر جوہری پروگرام کی وجہ سے۔ ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت میں، جو جنوری 2025 میں شروع ہوئی، انہوں نے ”امریکا سب سے پہلے“ کی پالیسی کو مزید سخت کر دیا۔ ایران نے جواب میں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی، جس سے تیل کی قیمتیں آسمان چھو گئیں۔ پھر اچانک 45 روزہ سیز فائر کا اعلان ہوا، جو پاکستان کی ثالثی سے ممکن ہوا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر کی کاوشوں سے اسلام آباد مذاکرات کا مرکز بن گیا۔ مذاکرات کے تین دور ہوچکے ہیں، مگر حتمی معاہدہ نہیں ہوا۔ٹرمپ کا موقف بالکل واضح ہے۔ پی بی ایس کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا، ”ہم ایران سے صرف ایک چیز چاہتے ہیں: ایٹمی ہتھیار نہ بنائے“۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کرے، جوہری پروگرام مکمل بند کرے، اور آبنائے ہرمز کھول دے تاکہ تیل کی تجارت بحال ہو۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر ڈیل ہوئی تو وہ خود اسلام آباد آسکتے ہیں، جو ایک بڑا اشارہ ہے۔ مگر ان کی دھمکیاں بھی کم نہیں۔ انہوں نے ایران کو خبردار کیا کہ جنگ بندی ختم ہونے پر فوجی کارروائی ہوگی، اور ایرانی پاور پلانٹس، پل اور انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔ یہ بیان نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ہے، کیونکہ اس سے تیل کی قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی اور پاکستان جیسے ملکوں پر معاشی دباو? پڑے گا۔ ایران کا موقف بھی کمزور نہیں۔ ایرانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امریکا خود سیز فائر کی خلاف ورزی کر رہا ہے، جیسے لبنان میں ڈرون حملے اور یورینیم کی افزودگی پر پابندیاں۔ وہ جوہری پروگرام کو پرامن قرار دیتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ امریکا پابندیاں اٹھائے، لبنان میں جنگ بندی کرے، اور تیل کی تجارت کی اجازت دے۔ مگر ایران کی کمزوری یہ ہے کہ اس کی معیشت تباہ ہو چکی ہے۔ ناکہ بندی سے تیل برآمد نہیں ہو رہا، عوام بھوکے ہیں، اور فوجی طاقت محدود ہے۔ اس لیے اسلام آباد مذاکرات ان کے لیے آخری امید ہیں۔ اگر یہ ناکام ہوئے تو ایران کو یا تو ہتھیار ڈالنے پڑیں گے یا پھر مکمل جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
موجودہ سیز فائر کی صورتحال تو بالکل نازک ہے۔ 23 اپریل کو اس کی مدت ختم ہو جائے گی۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔ امریکا کہتا ہے ایران نے متعدد بار خلاف ورزی کی، جبکہ ایران امریکا کو مورد الزام ٹھیراتا ہے۔ تیسرا دور اعتماد سازی اور فریم ورک معاہدے پر مرکوز ہے، جہاں جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز مرکزی نکات ہیں۔ اگر ڈیل نہ ہوئی تو نہ صرف ایران بلکہ سعودی عرب، اسرائیل اور پاکستان بھی متاثر ہوں گے۔ سعودی عرب کو تیل کی تجارت سے فائدہ ہوگا، مگر اسرائیل ایران کے خلاف مزید کارروائی چاہے گا۔ پاکستان کا کردار اس میں سب سے دلچسپ ہے۔ ہمارا ملک ثالث بنا ہے کیونکہ ہم امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہیں۔ آرمی چیف کی کاوشوں سے یہ ممکن ہوا، اور کامیابی سے پاکستان کی عالمی ساکھ بڑھے گی۔ مگر ناکامی کا خطرہ بھی ہے۔
اگر جنگ بھڑکی تو پاکستان میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی، مہنگائی بڑھے گی، اور سرحدوں پر افغانی اور ایرانی مہاجرین کا نیا بحران پیدا ہو جائے گا۔
اب تجزیاتی نقطہ نظر سے دیکھیں تو ٹرمپ کی حکمت عملی ”زیادہ دباو?، کم بات چیت“ پر مبنی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ایران کمزور ہے، اس لیے الٹی میٹم دے رہے ہیں۔ مگر یہ خطرناک کھیل ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ 2018 میں ٹرمپ نے جوہری معاہدہ توڑا تھا، جس سے یہ تنازع بڑھا۔ اب دوبارہ وہی غلطی نہ ہو۔ ایران بھی سمجھتا ہے کہ جوہری طاقت اس کی واحد ضمانت ہے، جیسے شمالی کوریا نے کیا۔ مگر پاکستان جیسے ملک کو فائدہ یہ ہوگا کہ امن سے معیشت مستحکم ہوگی، تیل سستا ملے گا، اور دہشت گردی کم ہوگی۔ ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟ پہلا، ڈیل ہو جائے تو ٹرمپ بہادر بنیں گے، ایران کو ریلیف ملے گا، اور تیل کی قیمتیں 50 فی صد گر جائیں گی۔ دوسرا، ناکامی پر محدود حملے ہوں گے، جو ایران کو مجبور کریں گے۔ تیسرا، بڑی جنگ، جو مشرق وسطیٰ کو آگ لگا دے گی۔ میرا خیال ہے کہ 60 فی صد امکان ڈیل کا ہے، کیونکہ دونوں کو جنگ کی سہولت نہیں۔ ٹرمپ الیکشن سے پہلے کامیابی چاہتے ہیں، اور ایران زندہ رہنے کے لیے معاہدہ کرے گا۔ یہ صورتحال نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی ہے۔ چین اور روس ایران کے حامی ہیں، جبکہ اسرائیل اور سعودی عرب امریکا کے ساتھ۔ پاکستان کو توازن رکھنا ہوگا۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے رہنماو?ں پر دباو? ڈالیں کہ امن کو ترجیح دی جائے۔ آخر میں، امن ہی واحد راستہ ہے۔ اگر اسلام آباد مذاکرات معجزہ کر گئے تو تاریخ انہیں یاد رکھے گی۔ ورنہ، تباہی سب کو نگل جائے گی۔
ٹرمپ کا آخری الٹی میٹم؟ ایران کی جوہری امنگیں ختم یا مزید تباہی
adminshuja
اگلی خبر →
اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناک
← پچھلی خبر
پاکستانی سیاست کی پستی کے اسباب

Leave a Reply