کالم:دلشاد عالم
عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور امت ِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز کے اس نازک دور میں جو سفارتی سرگرمیاں سامنے آرہی ہیں، وہ محض سیاسی اقدامات نہیں بلکہ ایک بڑی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ دل گواہی دیتا ہے کہ یہ وہی زمانہ ہے جس کے بارے میں نبی کریم نے خبردار فرمایا تھا کہ آخر زمانے میں فتنے بڑھ جائیں گے، قومیں ایک دوسرے پر چڑھ دوڑیں گی اور امت کمزوری کا شکار ہو جائے گی۔ آج جب ہم چار اہم مسلم ممالک پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کو ایک پلیٹ فارم پر قریب آتے دیکھتے ہیں تو دل میں امید کی ایک کرن بھی پیدا ہوتی ہے کہ شاید یہ اتحاد امت کے لیے خیر و استحکام کا ذریعہ بنے۔اسلام آباد میں ہونے والی اہم ملاقات اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جہاں ان چاروں ممالک کے اعلیٰ سفارتی نمائندوں نے شرکت کی اور ایک ایسے فریم ورک پر غور کیا جو تنازعات کی روک تھام، اقتصادی ہم آہنگی اور سیاسی یکجہتی کو فروغ دے۔ میڈیا اور مستند سفارتی ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ موجودہ عالمی حالات، خاص طور پر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، ایک متحد اور بروقت ردعمل کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ پیش رفت دراصل 19 مارچ کو ریاض میں ہونے والی وزرائے خارجہ کی مشاورت کا تسلسل ہے جسے اب مزید منظم انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ یہاں یہ بات نہایت اہم ہے کہ قرآنِ مجید ہمیں اتحاد و اتفاق کا واضح درس دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو“۔ (سورہ آل عمران: 103)
آج جب مسلم ممالک ایک دوسرے کے قریب آنے کی کوشش کر رہے ہیں تو یہ دراصل اسی قرآنی حکم کی عملی تعبیر محسوس ہوتی ہے۔اسلام آباد اجلاس میں طے پانے والی تجاویز کو 17 اپریل کو ترکیہ کے شہر انطالیہ میں ہونے والے ڈپلومیسی فورم میں پیش کیا گیا، اطلاعات کے مطابق ان تجاویز میں علاقائی امن، اقتصادی تعاون، توانائی کی سلامتی اور سفارتی ہم آہنگی جیسے اہم نکات شامل ہیں۔ یہ بھی واضح کیا جا رہا ہے کہ یہ کوئی سخت یا روایتی بلاک نہیں ہوگا بلکہ ایک لچکدار اور عملی تعاون کا نظام ہوگا جو حالات کے مطابق فوری فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
اگر ہم موجودہ حالات کو احادیثِ نبوی کی روشنی میں دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ آج کا منظر کس قدر ان پیش گوئیوں سے میل کھاتا ہے۔ نبی کریم نے فرمایا: ”عنقریب زمانہ ایسا آئے گا کہ قومیں تم پر ایسے ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھانے والے دسترخوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں“۔ صحابہؓ نے عرض کیا: ”کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟“ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم تعداد میں زیادہ ہوگے لیکن تمہاری حیثیت سیلاب کے جھاگ جیسی ہوگی“۔ آج مسلم دنیا کی حالت اسی کی عکاسی کرتی ہے، لیکن ساتھ ہی امید بھی ہے کہ اگر اتحاد قائم ہو جائے تو حالات بدل سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان چار ممالک کی حالیہ پیش رفت کو ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں قیام کے دوران وفود نے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی ملاقات کی، جس میں باہمی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے پر زور دیا گیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اسحاق ڈار نے کہا کہ موجودہ حالات میں قریبی ہم آہنگی نہایت ضروری ہے تاکہ امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کے مشترکہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر مسلم ممالک باہمی اختلافات کو کم کر کے ایک پلیٹ فارم پر آجائیں تو وہ عالمی سطح پر ایک موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ قرآنِ مجید میں ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”بے شک تمام مومن آپس میں بھائی ہیں“۔ (سورہ الحجرات: 10) یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سیاسی اختلافات اور علاقائی مفادات سے بالاتر ہو کر ہمیں ایک امت بن کر سوچنا ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس چار فریقی تعاون کا ایک اہم پہلو توانائی کی سلامتی، اقتصادی ترقی اور دفاعی ہم آہنگی بھی ہے۔ یہ ممالک اپنے اپنے خطوں میں اہم حیثیت رکھتے ہیں اور اگر یہ متحد ہو جائیں تو نہ صرف اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں بلکہ دیگر مسلم ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتے ہیں۔ احادیث میں یہ بھی آتا ہے کہ آخر زمانے میں فتنوں کی کثرت ہوگی، لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی بشارت دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو کھڑا کرے گا جو امت کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش کریں گے۔ نبی کریم? نے فرمایا: ”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا“۔ آج جب ہم ان سفارتی کوششوں کو دیکھتے ہیں تو یہی امید پیدا ہوتی ہے کہ شاید یہ اقدامات اسی سلسلے کی ایک کڑی ہوں، جو امت کو دوبارہ قوت اور اتحاد کی طرف لے جائیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور روایتی سفارت کاری اب کافی نہیں رہی۔ ایسے میں مشترکہ حکمت عملی اور فوری فیصلے وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد، ریاض اور اب انطالیہ میں ہونے والے مسلسل اجلاس اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ ممالک سنجیدگی کے ساتھ ایک نئے دور کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اگرچہ یہ تمام اقدامات سیاسی اور سفارتی نوعیت کے ہیں، لیکن ان کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہو سکتے ہیں۔ اگر ان میں اخلاص، عدل اور امت کی بھلائی کا جذبہ شامل ہو جائے تو یہ اتحاد نہ صرف خطے میں امن قائم کر سکتا ہے بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک نئی راہ متعین کر سکتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کوششوں کو کامیاب فرمائے اور امتِ مسلمہ کو دوبارہ اتحاد، قوت اور عزت عطا کرے، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جس میں دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی پوشیدہ ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال
adminshuja
← پچھلی خبر
سفارت کاری کے پردے میں جاری طاقت کی کشمکش

Leave a Reply