کیا اکثر آپ کا معدہ مختلف مسائل کا شکار رہتا ہے، خاص طور پر قبض؟ اگر ہاں تو ہوسکتا ہے کہ ایسا آپ کی ایک عام عادت کے باعث ہو رہا ہو۔
جی ہاں رات گئے کھانے کی عادت آنتوں کے افعال کو متاثر کرتی ہے جس سے نظام ہاضمہ کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
نیویارک میڈیکل کالج کی اس تحقیق میں 11 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔
ان افراد کی غذائی عادات کا جائزہ لیتے ہوئے دائمی تناؤ، رات گئے کھانے اور آنتوں کے افعال متاثر ہونے کے درمیان تعلق کی جانچ پڑتال کی گئی۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو افراد رات 9 بجے کے بعد دن بھر کی 25 فیصد سے زائد کیلوریز کو جزوبدن بناتے ہیں، ان میں قبض اور ہیضے سے متاثر ہونے کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں 1.7 گنا زیادہ ہوتا ہے۔
بعد ازاں مزید 4 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی تو دریافت ہوا کہ جو افراد زیادہ تناؤ اور رات گئے کھانے کے عادی ہوتے ہیں، ان میں قبض یا نظام ہاضمہ کے دیگر مسائل کا خطرہ ڈھائی گنا زیادہ ہوتا ہے۔
ایسے افراد کے معدے میں مختلف اقسام کے بیکٹیریا بھی نمایاں حد تک کم ہوتے ہیں جس سے عندیہ ملتا ہے کہ کھانے کا وقت، تناؤ سے معدے میں موجود بیکٹیریا پر مرتب منفی اثرات کو بڑھا دیتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ ایسا نہیں کہ صرف غذا ہی صحت پر اثرات مرتب کرتی ہے بلکہ کھانے کا وقت بھی اہم ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خاص طور پر اگر آپ تناؤ کے شکار ہوں تو کھانے کا وقت معدے کی صحت کے لیے منفی اثرات کو دوگنا بڑھا دیتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کھانے کے وقت کو معمول کا تسلسل برقرار رکھنے سے نظام ہاضمہ کی صحت کو مستحکم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

Leave a Reply