Daily Shujaat Quetta
June 25, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
ایران جنگ میں اللہ نے پاکستان سے کام لیا، دنیا ہمیں پیس میکر کے نام سے جانتی ہے: اسحاق ڈارملک بھر میں 9 محرم الحرام کے جلوس اور مجالس کا انعقادنیتن یاہو کی مشکلات میں مزید اضافہ، ٹرمپ امریکا ایران ڈیل کو اسرائیلی مؤقف پر ترجیح دینے لگےامریکا کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کیساتھ براہ راست رابطے کا فیصلہایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنایران جنگ میں اللہ نے پاکستان سے کام لیا، دنیا ہمیں پیس میکر کے نام سے جانتی ہے: اسحاق ڈارملک بھر میں 9 محرم الحرام کے جلوس اور مجالس کا انعقادنیتن یاہو کی مشکلات میں مزید اضافہ، ٹرمپ امریکا ایران ڈیل کو اسرائیلی مؤقف پر ترجیح دینے لگےامریکا کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کیساتھ براہ راست رابطے کا فیصلہایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکن

اسلحہ تجارت پر دس ممالک کا تسلط

کالم:وسعت اللہ خان
شاید آپ کو یاد ہو کہ جب انیس سو نواسی نوے کے زمانے میں سوویت یونین ٹوٹ رہا تھا اور دنیا واحد سپرپاور (امریکا) پر مبنی نئے عالمی نظام کی بازگشت سے گونج رہی تھی۔ تب چند تجزیاتی خوش فہم یہ تبلیغ کر رہے تھے کہ سرد جنگ کے خاتمے سے ہم پہلے سے زیادہ محفوظ ہو گئے ہیں چنانچہ دو سپرپاورز پر مبنی پرانے ورلڈ آرڈر کی کمر توڑ مسابقت کے برعکس بدلی ہوئی دنیا میں ریاستیں اسلحے پر کم خرچ کریں گی اور اضافی پیسہ سوشل سیکٹر پر لگائیں گی۔ جب یہ خوش فہم ایسی لاف زنی کر رہے تھے تو عالمی (امریکی) اسلحہ ساز کمپنیوں کے کرتا دھرتا زیرِ لب مسکرا رہے تھے۔ ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کے بورڈ رومز میں نئی جنگیں ایجاد ہو رہی تھیں۔ اس کمپلیکس کی مرادیں توقع سے بہت پہلے ہی برآئیں۔ نائن الیون کے سانحے نے گویا بلی کے بھاگوں چھینکا توڑ دیا۔ سوویت یونین کی جگہ ایک نیا دشمن چین کی شکل میں دریافت کر لیا گیا۔ وہ دن اور آج کا دن پولٹیکل انڈسٹریل ملٹری کمپلیکس مسلسل ہنسی خوشی رہ رہا ہے۔ انیس سو انچاس سے اب تک ریاستیں ایک سو ٹریلین ڈالر سے زائد رقم اسلحے پر خرچ کر چکی ہیں۔ اس بجٹ میں سے ساڑھے اکیاون فی صد (ساڑھے تریپن ٹریلین ڈالر) صرف ایک ملک نے خرچ کیے اور وہ ہے امریکا۔ جتنے انسان چالیس سالہ سرد جنگ میں ہلاک ہوئے ان سے دوگنے انیس سو نوے کے بعد سے اب تک ایجاد کردہ سیکڑوں چھوٹی بڑی جنگوں میں مارے جاچکے ہیں۔ اسلحہ پہلے سے زیادہ پیچیدہ، مہلک اور مہنگا ہو گیا ہے۔ جنگ زمین اور فضا سے نکل کے خلا میں پہنچ چکی ہے۔ یعنی ہماری دنیا پہلے کسی بھی زمانے سے زیادہ غیر محفوظ ہو چکی ہے۔آپ اس سے اندازہ لگائیے کہ سال انیس سو اٹھاسی میں دنیا نے اسلحے پر ایک اعشاریہ سات ٹریلین ڈالر خرچ کیے۔ دو ہزار نو میں یہ بجٹ دو ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا۔ دو ہزار سولہ سے اب تک یورپ کے فوجی اخراجات دوگنے ہو چکے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں مشرقی یورپی ممالک کے جنگی اخراجات میں بالخصوص ایک سو تہتر فی صد اضافہ ہوا جو تاریخ میں کسی بھی ایک دہائی میں کسی ایک خطے میں سب سے زیادہ مجموعی اضافہ ہے۔ آج عالمی فوجی بجٹ تین ٹریلین ڈالر چھو رہا ہے۔ یعنی سرد جنگ کے خاتمے کے بعد فوجی اخراجات کم ہونے کے بجائے دو گنا ہو گئے۔ اس تناظر میں اگر ہم آبادی اور وسائل کے اعتبار سے ریاستوں کے انفرادی جنگی اخراجات دیکھیں تو تصویر اور واضح ہوتی ہے۔ مثلاً اسٹاک ہوم پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کے مطابق قطر اپنی آبادی کے تناسب سے اسلحے پر سب سے زیادہ رقم خرچ کر رہا ہے۔ دو ہزار چھے میں قطر کے جنگی اخراجات بارہ سو اکتیس ڈالر فی کس تھے جو انیس سو بائیس تک بڑھ کے پانچ ہزار چار سو اٹھائیس ڈالر فی کس ہو گئے۔ یعنی سولہ برس میں تین سو چالیس فی صد اضافہ۔ اسرائیل کے فوجی اخراجات اس عرصے میں تیرہ سو ساٹھ ڈالر سے بڑھ کے پانچ ہزار ایک سو آٹھ ڈالر فی کس ہو گئے یعنی دو سو چھہتر فی صد کا اضافہ۔ اس عرصے میں ناروے کے دفاعی اخرجات میں ایک سو اکیاسی فی صد اضافہ ہوا۔ مگر یوکرین نے تو حد ہی کردی۔ دو ہزار چھے میں یوکرین کے فوجی اخراجات تریسٹھ ڈالر فی کس تھے۔ دو ہزار پچیس میں یہ بڑھ کے دو ہزار ایک سو ستانوے ڈالر فی کس ہو گئے۔ یعنی انیس برس میں تین ہزار تین سو ستاسی فی صد اضافہ۔ اس کی ایک وجہ دو ہزار چودہ میں جزیرہ نما کرائمیا پر روسی قبضہ اور فروری دو ہزار بائیس سے جاری جنگ ہے۔اس تناظر میں جب ہم دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اب تک کے پچاسی برس کا جائزہ لیں تو کوئی ایک وجہ بھی نظر نہیں آتی جو امید کی فاختہ کے پر کھول سکے۔ اسلحے کے کاروبار پر پچھلی آٹھ دہائیوں سے گنے چنے ممالک کی گنی چنی کمپنیوں کا ہی قبضہ ہے۔ اگر ہم صرف دو ہزار سولہ تا دو ہزار پچیس کے دور کو ہی دیکھ لیں تو اس عرصے میں دو سو پچانوے بلین ڈالر کے ہتھیار بیچے گئے۔
ان میں سے انتالیس فی صد ہتھیار (ایک سو پندرہ بلین ڈالر) میڈ ان یو ایس اے تھے۔ دو ہزار بیس تا چوبیس کے چار برس میں پینٹاگون نے اگلی ایک دہائی کے لیے دو اعشاریہ چار ٹریلین مالیت کے ایڈوانس اسلحہ کے ٹھیکے امریکی پرائیویٹ سیکٹر کو دیے۔ ان میں سے ایک تہائی ٹھیکے (سات سو اکہتر ارب ڈالر) پانچ امریکی کمپنیوں (لاک ہیڈ مارٹن، آر ٹی ایکس، بوئنگ، جنرل ڈائنامکس اور نارتھروپ گرومین) کو ملے۔ دو ہزار سولہ تا پچیس کے پیریڈ میں اسلحہ فروخت کرنے والے دوسرے بڑے ملک روس کے پاس عالمی مارکیٹ کا تیرہ فی صد شئیر (چالیس ارب ڈالر)، فرانس کے پاس نو اعشاریہ تین فی صد شئیر (اٹھائیس ارب ڈالر)، چینی اور جرمن اسلحہ ساز کمپنیوں کے پاس ساڑھے پانچ پانچ فی صد شئیرز (سولہ، سولہ ارب ڈالر) ہے، اسرائیل کے پاس گلوبل اسلحہ تجارت کا تین اعشاریہ آٹھ فی صد شئیر (گیارہ ارب ڈالر)، اٹلی کے پاس تین اعشاریہ سات فی صد شئیر (گیارہ ارب ڈالر)، برطانیہ کے پاس تین اعشاریہ چار فی صد شئیر (دس ارب ڈالر)، جنوبی کوریا کے پاس دو اعشاریہ آٹھ فی صد شئیر (آٹھ ارب ڈالر)، اسپین کے پاس دو اعشاریہ تین فی صد شئیر (سات ارب ڈالر) اور دیگر متفرق ممالک کے پاس بارہ فی صد شئیر (تینتیس بلین ڈالر) رہا۔
یعنی آسان زبان میں دنیا میں اٹھاسی فی صد اسلحہ دس ممالک کی کمپنیوں نے فروخت کیا۔ موجودہ وائٹ ہاﺅس انتظامیہ تو دو ہزار اٹھائیس میں رخصت ہو جائے گی مگر ٹرمپ نے اپنی دوسری مدتِ صدارت کے پہلے ہی برس میں میزائیلوں سے تحفظ کے گولڈن ڈوم پروجیکٹ کے ذریعے امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کے اگلے دس سنہری برسوں کو یقینی بنا دیا ہے۔ اگر اگلی انتظامیہ گولڈن ڈوم منصوبے کو منسوخ بھی کر دے تب بھی جو ایڈوانس پیسہ امریکی شہریوں کی جیب سے تحفظ کے نام پر نکال کے ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کے حوالے ہو چکا ہے وہ تو واپس ملنے سے رہا۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ انیس سو اسی کی دہائی میں اسٹار وار پروجیکٹ پر بھی ارب ہا ڈالر خرچ کر کے اسے دس برس کے اندر اسکریپ کر دیا گیا تھا۔ نہ کوئی سوال، نہ جواب نہ احتساب۔

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *