Daily Shujaat Quetta
June 27, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
ایران جنگ میں اللہ نے پاکستان سے کام لیا، دنیا ہمیں پیس میکر کے نام سے جانتی ہے: اسحاق ڈارملک بھر میں 9 محرم الحرام کے جلوس اور مجالس کا انعقادنیتن یاہو کی مشکلات میں مزید اضافہ، ٹرمپ امریکا ایران ڈیل کو اسرائیلی مؤقف پر ترجیح دینے لگےامریکا کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کیساتھ براہ راست رابطے کا فیصلہایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنایران جنگ میں اللہ نے پاکستان سے کام لیا، دنیا ہمیں پیس میکر کے نام سے جانتی ہے: اسحاق ڈارملک بھر میں 9 محرم الحرام کے جلوس اور مجالس کا انعقادنیتن یاہو کی مشکلات میں مزید اضافہ، ٹرمپ امریکا ایران ڈیل کو اسرائیلی مؤقف پر ترجیح دینے لگےامریکا کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کیساتھ براہ راست رابطے کا فیصلہایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکن

کراچی: پاکستان کا دبئی یا ہانگ کانگ بن سکتا ہے؟

کالم:وجیہ احمد صدیقی
پاکستان کا معاشی مرکز، کراچی، اس وقت ایک عجیب و غریب پوزیشن میں ہے۔ شہر ملک کی 80 فی صد کاروباری اور صنعتی پیداواری سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ ملک بھر کے کم از کم 65 فی صد ٹیکس کی وصولی یہاں سے ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ گلوبل ہب جیسے ہانگ کانگ یا دبئی کی جگہ کبھی نہیں لے سکتا۔ اس لیے کہ اس شہر کو وہ سہولتیں حاصل نہیں ہیں جو دبئی اور ہانگ کانگ کو حاصل ہیں۔ اس لیے کہ صوبائی حکومتیں اور مقامی حکومت کے درمیان نسلی اور لسانی تعصبات کی دیوار کھڑی ہے جبکہ کراچی شہر پر پاکستان کے ہر شہری کا حق ہے لیکن لسانیت کا زہر پھیلانے والوں نے اسے صرف اپنی جاگیر سمجھ لیا ہے اور صوبائی حکومت نے بھی یہ تسلیم کر لیا ہے کہ یہ شہر ان کا نہیں ہے۔ اس لیے شہر کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اس کا انتظام ان ہاتھوں میں جائے جو لسانیت اور صوبائیت سے پاک ہوں۔ جب تک کہ وفاقی حکومت اسے ایک الگ وفاقی شہر اور بزنس فرینڈلی اسٹیٹ کی حیثیت نہ دے اور ایسے اقدامات نہ کرے جو شہر کی ترقی کے لیے ضروری اور لازمی ہیں۔ دنیا میں ہماری کرنسی کو اسی وقت طاقت ملے گی جب ہم عالمی منڈی میں اپنی بنائی ہوئی چیزیں پیش کریں گے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے صنعتی شہروں کو وہ سہولت مہیا کریں جو عالمی منڈی کو اپنی مصنوعات سے بھر دیں۔ میڈ ان پاکستان کے تصور کے ساتھ، کراچی کو ٹرانسپورٹ، سستی بجلی کی سہولت دیتے ہوئے اور پروڈکشن کے حوالے سے جدید اقدامات سے ہی پاکستان گلوبل مارکیٹ میں مقابلہ کر سکے گا، بصورت دیگر یہ شہر کراچی غیر ملکی مصنوعات کا گودام بنا رہے گا۔
کراچی میں ٹرانسپورٹ کا نظام اس قدر تکلیف دہ ہے کہ 20 کلومیٹر کا سفر ڈھائی گھنٹے میں طے ہوتا ہے، جو کہ زیادہ سے زیادہ 20 منٹ میں طے ہو نا چاہیے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی اس سست رفتاری سے شہر کی پیداواری صلاحیت 30-40 فی صد کم ہو جاتی ہے۔ ٹریفک جام، بی آر ٹی لائنز کی سہولتوں کا موجود نہ ہونا اور سڑکوں کی تعمیر کے نام پر برسوں تک شہر کو کھود کر رکھ دیا جاتا ہے۔ اس قسم کے اقدامات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس شہر کو دانستہ ترقی کرنے سے روکا جا رہا ہے اور شہر کو صرف ایک لسانی قوت کے ہاتھوں یرغمال بنا دیا گیا ہے جب شہر کے عوام نے اس قوت کو مسترد کر دیا تو اسے جبراً عوام پر مسلط کیا گیا۔ قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں ان کو تحفے میں دے دی گئی جبکہ عوام نے ان کو ایک فی صد بھی ووٹ نہیں دیا تھا۔ کیونکہ اقتدار میں آنے والی جماعتوں کو وہی لسانی گروہ پسند ہے۔ ماضی میں اسی گروہ نے شہر میں پہلے سے قائم سرکلر ریلوے کو ختم کیا جو مستقبل میں شہر کی میٹرو ٹرین بن سکتی تھی لیکن اس گروہ نے ریلوے کی زمینوں پر ناجائز قبضے کرائے اور اب شہر کی ترقی کو مشکل بنانے میں اسی گروہ کو بجائے اس کے کہ سزا دی جاتی اقتدار تھما دیا گیا قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نمائندگی تھما دی گئی اس کے غنڈوں کو وزیر بنا دیا گیا۔ جنہوں نے شہر کا امن غارت کیا جس کے نتیجے میں سرمایہ کار اس شہر سے بھاگ گئے اور شہر میں روزگار کے بجائے بھوک و افلاس نے اپنی جگہ بنا لی۔ اس وقت شہر کا سب سے بڑا مسئلہ روزگار کے مواقع پر بروقت پہنچنا ہے جس کو سب سے پہلے مشکل انہی لوگوں نے بنایا اور دیگر حکمرانوں نے اسی طرز پر کام کیا۔ سمندری پورٹ سے ائرپورٹ تک کا سفر کئی گھنٹوں پر محیط ہوتا ہے ائرپورٹ۔ پورٹ ٹرمینلز کے درمیان ٹرانسپورٹ کا عدم توازن اس کی بڑی وجوہات ہیں۔ 2025 کے ٹرانسپورٹ ماسٹر پلان کے مطابق، شہر کو ہر ڈسٹرکٹ کے لیے بی آر ٹی، ریل، اور لائٹ ٹرام سسٹم کی ضرورت ہے، لیکن یہ صرف اس وقت کامیاب ہو گا جب یہ ایک کمپیوٹرائزڈ ٹرانسپورٹ مینجمنٹ سسٹم (TMS) کے ساتھ جڑے گا جو ٹریفک کی مانیٹرنگ، ٹائم ٹیبل، اور ایمرجنسی ریسپانس کو ایک جیسے ڈیش بورڈ پر لائے۔ ریڈلائن اور یلو لائن بی آر ٹی کو 24/7 مینٹیننس اور ہائی ٹیک سگنلائزیشن کے ساتھ ہر صنعتی زون تک جوڑنا چاہیے، تاکہ لاجسٹکس کا ٹائم کم ہو کر ملک کی پیداوار کو گلوبل ڈیلیوری کے لیے تیار کرے۔ ہالیڈے ٹرانسفر نظام یا ڈیجیٹل ٹرانسپورٹ ٹولز جیسے ریئل ٹائم ایپس اور ایوائرنس سسٹمز کو ایک ملکی پلیٹ فارم پر جمع کرنا، ٹیکسی، ریکس، اور فریٹ کارگو کے لیے ایک سپرہائی وے نیٹ ورک بنائے جو میڈ ان پاکستان کے یونٹس کو ایک ہی مرکز سے جوڑے۔
کراچی میں بجلی کا عدم توازن ہے، جبکہ استحکام کی ضرورت ہے، اور ہائی ٹیکنالوجی فیکٹریوں کو مسلسل بجلی کی ضرورت ہے لیکن غیر ملکی آئی پی پیز اپنے اس ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں کہ پاکستان کے اندر انڈسٹریل پروڈکشن کو اتنا مہنگا بنا دیا جائے کہ وہ عالمی منڈی میں مقابلہ نہ کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ بجلی کے ناقص نظام کی وجہ سے فیکٹریاں ہر گھنٹے 20-30 فی صد نقصان کا سامنا کرتی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ہر یونٹ اپنے ہی جنریٹرز چلاتا ہے، لاگت 50 فی صد تک بڑھ جاتی ہے، اور پیداوار کا شیڈول ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ سب پاکستانی مصنوعات کی برامدات کی ساکھ کو کم کرتا ہے، کیونکہ گلوبل گاہکوں کو ٹائمنگ اور کوالٹی کی یقین دہانی چاہیے۔ 2026 کے ایک دستاویز کے مطابق، کراچی کے ہر صنعتی زون کے لیے 24 گھنٹے ہائی وولٹیج سپلائی، ڈیجیٹل میٹر، گریڈ اسٹیشن، اور ٹرانسفارمرز کی ریموٹ مانیٹرنگ کی ضرورت ہے، جو ایک ایکسٹرنل گرڈ سے جڑی ہوگی۔ قابل تجدید توانائی (سولر، گرین ہائیڈرو، گرین گیس) کو ایک گرین ہب بنانے کے لیے اولیت دینا ضروری ہے، 2025 کے گرین ٹرانزیشن پلان کے مطابق، ہر یونٹ کی لاگت کو 25-30 فی صد کم کرے گا اور ایکسپورٹ ٹیکس کی برداشت کو آسان بنائے گا۔ ہر صنعتی ایریا میں ہائی ڈیمانڈ مانیٹرنگ سسٹم، جوگلوبل ڈیٹا کے ساتھ منسلک ہوگا، تاکہ ٹرانسمیشن کے لیے تمام ذرائع ایک نیٹ ورک کے نیچے ہوں نام نہاد ٹرانسمیشن کمپنیوں نے بجلی کی قیمتوں کو بلا جواز مہنگا کیا ہے۔ جس سے بجلی کی قیمتیں اور ٹیکسیشن ایک ہی چھوٹے پلیٹ فارم پر ہوں گی؛ یہ ایک ”بزنس کارڈ“ کے طور پر ہر کاروبار کو ٹیکس ریبیٹ، ایکسپورٹ ٹیکس ریلیف، اور گرین سرٹیفکیٹ پیش کرے گا۔
کراچی میں 3.5 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ کاروبار، 1,402 ارب روپے ٹیکس، اور 80 ہزار چھوٹے درمیانے یونٹس کے ساتھ ایک چھوٹے ایشیائی ملک کی معیشت کی طرح ہے، لیکن یہ اپنی پوری صلاحیت کا استعمال نہیں کر رہا کیونکہ 9.28 ارب روپے کے 2025 کے ترقیاتی پیکیج کو صرف اسفالٹ اور روڈ کی حد تک لے گیا ہے۔ یہ صنعتی زونز کو گرین فیکٹریز، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ، وینٹی لیشن، اور ہائی ٹیکنالوجی کے لیے ایک ہی ایکٹ کے ساتھ ایک ہی اسٹیٹ ایکسپریس وے پر لا کر، ہر یونٹ کو 20 فی صد کاروباری ٹیکس کمی کے ساتھ ایک ہی اپلی کیشن سے رجسٹر کرنا چاہیے، جو ایک ہی اکاﺅنٹ میں ٹیکس، ٹیکس ریفنڈ، اور ایکسپورٹ ڈیوٹی ریلیف کو جوڑے گا۔ سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت، 2026 کے گرین ہب پروگرام کے تحت، کراچی کے ای ایس ایز اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کو ہانگ کانگ یا دبئی کی طرح ایک ہی ہائی ڈیمانڈ ہائی ٹیکنالوجی ہب بنائے گا، جہاں ہر یونٹ کو ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ، ٹیکسیشن چھوٹ، اور گرین سرٹیفکیٹ دیا جائے گا، جو ایک ہی پلیٹ فارم پر گلوبل گاہکوں سے منسلک کرے گا۔ یہ ایک ہی ایکسپورٹ زون (KAR-EZ) ہوگا، جہاں ہر یونٹ کو ایک ہی ہیوی ٹرانسپورٹ ٹرمینل، ہوائی اڈے، اور پورٹ ٹرمینل کے ساتھ ہک کر دیا جائے گا، جس سے ٹرانزٹ تیاری 48 گھنٹے کے اندر ہو جائے گی اور پیداوار کی قیمت 20 فی صد کم ہو جائے گی؛ یہ ایک ہی ایکسوپورٹ ٹریڈنگ ٹول (KAR-EXPORT) ہوگا، جو ایک ہی اپلی کیشن میں ٹیکس، ٹیکس ریفانڈ، اور گلوبل گاہک کنیکٹیویٹی کو جوڑے گا۔
اس وقت کراچی کے مسائل کو سیاسی اور انتظامی مقاصد کے لیے نظر انداز کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے چھوٹے سے چھوٹا مسئلہ بھی20 سال تک حل نہیں ہوتا۔ 2026 کے ڈیٹا کے مطابق، شہر کی ٹیکس وصولی 30 فی صد، ٹیکسٹائل پیداوار 40 فی صد، اور ہارڈ ویئر ٹیکسٹائل 80 فی صد کے ساتھ ہے، لیکن یہ انتظامی، سیکورٹی، اور ٹرانسپورٹ کے حوالے سے ہر معمولی چیلنج کو نظر انداز کرنے سے ہر یونٹ کی پیداوار 20 فی صد کم ہو جاتی ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ کراچی کو ایک الگ وفاقی شہر یا ”اسٹیٹ“ کی حیثیت دی جائے، جہاں ہر ادارہ ایک ہی ایکسٹرنل گرڈ سے جڑا ہو، ہر ادارہ ایک ہی ڈیٹا پلیٹ فارم پر ہو، اور ہر یونٹ کو ایک ہی اپلی کیشن سے ٹیکس، ٹیکس ریفنڈ، اور گلوبل کسٹمرز کو کنیکٹیویٹی ملے؛ یہ ایک ہی ایکسٹرنل گرڈ ہو، جو ہر ادارہ اور ہر یونٹ کو ہائی ٹیکنالوجی، ہائی ڈیمانڈ، اور ہائی ٹرانسپورٹ سے جوڑے، جس سے ہر یونٹ کی پیداوار 20 فی صد بڑھ جائے گی اور گلوبل کسٹمرز کے لیے ہر یونٹ کی قیمت کو 20 فی صد کم ہو جائے گی۔ اس طرح کراچی ہانگ کانگ یا دبئی کی جگہ تو نہیں لے گا، لیکن یہ ایک ہائی ڈیمانڈ ہائی ٹیکنالوجی کا مرکز بن جائے گا، جو گلوبل کسٹمرز کے لیے ٹیکسٹائل، ہارڈ ویئر، فوڈ، اور ہارڈ ویئر کی میڈ ان پاکستان کی مصنوعات کو گلوبل مارکیٹ میں ٹیکنیکل گاہکوں کے ساتھ ہی کاروبار کرے گا۔ جدید ترین معلومات کے مطابق، 2026 کے گلوبل ٹرانزیشن ٹریکنگ سسٹم (GTS) کے مطابق، ہر گلوبل کسٹمر ہائی ٹیکنالوجی، ہائی ڈیمانڈ، اور ہائی ٹرانسپورٹ کی یقین دہانی چاہتا ہے۔ کیا ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتیں بھی یہ چاہتی ہیں؟؟

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *