یشتر افراد ائیر کنڈیشنرز (اے سی) کو موسم گرما کی جان لیوا گرمی کے خلاف مؤثر ڈھال تصور کرتے ہیں۔
مگر بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس سال ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ متعدد مریضوں کی جانب سے اے سی والے کمروں میں سونے کے باوجود نیند کے ناقص معیار کی شکایت کی گئی ہے۔
وہ افراد راتوں کو بار بار جاگنے اور پسینے جبکہ صبح سر درد اور دن بھر تھکاوٹ جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
ہیٹ ویوز کی شدت میں اضافے نے نیند کے قدرتی عمل کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق دن کے اوقات میں زیادہ وقت تک شدید گرمی کا سامنا کرنے اور غیر معمولی حد تک گرم راتوں کے باعث جسم کی نیند کے دوران درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
یہاں تک اے سی سے بھی جسم پر گرمی سے مرتب اثرات کا مکمل ازالہ نہیں ہو پاتا، خاص طور پر ان کمروں میں جو بہت زیادہ ٹھنڈے ہوں یا وہاں ہوا کی نکاسی کا نظام ناقص ہو۔
ڈاکٹروں نے انتباہ کیا کہ دمہ، سلیپ اپنیا، سانس کی نالی کی الرجی کے امراض، امراض قلب اور ڈی ہائیڈریشن کے شکار افراد کے لیے یہ اثرات زیادہ سنگین ہوسکتے ہیں۔
بھارت کے متعدد خطوں میں رواں سال ہیٹ ویوز کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اچھی نیند موسم گرما کے دوران صحت کو درست رکھنے کے لیے بہت اہم ہوتی ہے۔

Leave a Reply