انٹار کٹیکا ایسا براعظم ہے جس میں چھپے متعدد راز اب بھی سامنے نہیں آسکے ہیں۔
اب سائنسدانوں نے وہاں ایک ایسے جزیرے کو دریافت کیا ہے جسے کافی عرصے سے ‘ڈینجر زون’ قرار دیا جا رہا تھا اور اب اس کا نقشہ پہلی بار تیار کیا گیا ہے۔
ایک جرمن پولر ریسرچ سینٹر الفریڈ ویگینر انسٹیٹیوٹ (اے ڈبلیو آئی) کی جانب سے کچھ عرصے قبل اس بارے میں بیان جاری کیا گیا۔
اس جزیرے کو شمال مغربی بحیرہ ودل میں اے ڈبلیو آئی کی ایک مہم کے دوران دیکھا گیا تھا۔
اس وقت محققین کی جانب سے سمندری برف میں آنے والی کمی کے بارے میں تحقیق کی جا رہی تھی اور خراب موسم کے باعث مہم کو روکنا پڑا۔
انہوں نے تند و تیز ہوا اور لہروں سے بچنے کے لیے Joinville آئی لینڈ میں پناہ لی، وہاں انہوں نے اس نئے جزیرے کو دیکھا۔
محققین کے مطابق ہمارے راستے کے دوران سمندری چارٹ میں ایک ایسا علاقہ ظاہر ہوا جسے نیوی گیشن کے لیے خطرہ قرار دیا گیا، مگر یہ واضح نہیں تھا کہ یہ کیا ہے یا یہ تفصیلات کہاں سے آئی تھیں۔
دستیاب ساحلی ریکارڈز کا تجزیہ کرنے کے بعد ماہرین نے کھڑکی سے باہر دیکھا اور ایک ایسے ‘برفانی تودے’ کو دیکھا جو کافی گندا نظر آ رہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ قریب سے مشاہدہ کرنے پر ہمیں احساس ہوا کہ یہ ممکنہ طور پر چٹان ہے۔

Leave a Reply