کالم :عبید مغل
عنوان دیکھ کر کہیں آپ اس غلط فہمی کا شکار نہ ہو جائیے گا کہ جماعت اسلامی میں بھی کوئی ”ڈبل شاہ“ آگیا ہے یا آن کے ہاتھ کوئی سونے کا پہاڑ لگ گیا ہے یا قارون کا خزانہ آگیا ہے، جسے وہ بوریاں بھر بھر کر بانٹ کر راتوں رات پاکستان کی غربت ختم کر دے گی۔ نہیں جناب! نہ کوئی جادو کی چھڑی ہے، نہ آسمان سے ڈالروں کی بارش۔ اصل بات صرف اتنی ہے کہ کرپشن کے سوراخ بند کیے جائیں اور قومی خزانے کو چند خاندانوں کی تجوری بننے سے روکا جائے تو قوم کو وہ سب مل ہے جو آس کا حق ہے اور سچی بات ہے کہ: اگر جماعت اسلامی یا اس کا کوئی فرد آپ کے دروازے پر دستک دے کر یہ کہے کہ وہ حکومت میں آکر سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ڈبل کر دے گا تو فوراً اسے پاگل خانے کا ایڈریس نہ تھمائیے گا۔ ذرا ٹھیریے، پانی پیجیے، کیلکولیٹر نکالیے اور پھر بات سنیے۔ اگر وہ ساتھ یہ بھی کہے کہ تین سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کو مفت بجلی دی جائے گی تو اسے انتخابی لطیفہ سمجھ کر ہنسنے سے پہلے ذرا اپنی جیب میں پڑا بجلی کا بل بھی دیکھ لیجیے۔ ممکن ہے ہنسی رک جائے اور آنکھ کھل جائے۔ اور اگر وہ دعویٰ کرے کہ چار سال میں ایک سو بڑے اسپتال، سو جدید یونیورسٹیاں، پانچ سو کالج، ہزاروں اسکول، سیکڑوں کلینکس اور ڈسپنسریاں بنائی جا سکتی ہیں تو اسے فوراً ”نیا پاکستان، پرانا پاکستان، ڈیجیٹل پاکستان“ جیسے نعروں کی فائل میں ڈال کر رد نہ کیجیے۔ کیونکہ حضور! یہ سب خواب نہیں، حساب ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں حساب کتاب ہمیشہ غریب سے لیا جاتا ہے، امیر سے نہیں، عوام سے لیا جاتا ہے، اشرافیہ سے نہیں۔ رکشے والے سے لیا جاتا ہے، لینڈ کروزر چلانے والے سے نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان غریب نہیں، پاکستان کو غریب بنایا گیا ہے۔ یہ ملک وسائل سے خالی نہیں، اس کے خزانے پر ایسے ایسے ”محافظ“ بیٹھے ہیں جو حفاظت کرتے کرتے خزانہ ہی غائب کر دیتے ہیں۔ یہاں دریا ہیں، زمینیں ہیں، معدنیات ہیں، نوجوان ہیں، محنت کش ہیں، ذہانت ہے، جذبہ ہے، مگر نظام ایسا ہے کہ دودھ دینے والی بھینس کو چارہ کم اور لاٹھی زیادہ ملتی ہے۔ آئی ایم ایف جیسے اداروں کے اندازوں کے مطابق پاکستان ہر سال کرپشن، بدعنوانی، ٹیکس چوری، کمزور حکمرانی اور بیڈ گورننس کی وجہ سے اپنی جی ڈی پی کا تقریباً پانچ سے ساڑھے چھے فی صد کھو دیتا ہے۔ یہ رقم لگ بھگ ستائیس ارب ڈالر سالانہ بنتی ہے۔ ستائیس ارب ڈالر! اتنی رقم سن کر ہمارے بعض حکمرانوں کے کان کھڑے نہیں ہوتے، جیبیں کھل جاتی ہیں۔ عوام سوچتے ہیں کہ اتنے پیسوں سے ملک بدل سکتا ہے، جبکہ کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ اتنے پیسوں سے کتنے فارم ہاو?س، کتنی گاڑیاں، کتنے بیرونِ ملک فلیٹس اور کتنے سیاسی جلسے سج سکتے ہیں۔ اب ذرا سادہ حساب دیکھیے۔ اگر کرپشن اور بدانتظامی کو سختی سے روکا جائے، اور ساتھ ہی سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہیں ڈبل کر دی جائیں تاکہ وہ عزت سے زندگی گزار سکیں، تو اندازاً چودہ ارب ڈالر سالانہ خرچ ہوں گے۔ اس کے بعد بھی تقریباً تیرہ ارب ڈالر سالانہ بچ سکتے ہیں۔ یعنی چار سال میں باون ارب ڈالر۔ باون ارب ڈالر کوئی معمولی رقم نہیں۔ یہ وہ رقم ہے جس سے ملک کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکتا ہے، مگر شرط یہ ہے کہ مرہم لگانے والے ہاتھ ایماندار ہوں، زخم دینے والے نہ ہوں۔اسی رقم سے چار سال میں دس ہزار پرائمری، پانچ ہزار سیکنڈری اسکول، پانچ سو کالج اور ایک سو جدید یونیورسٹیاں قائم کی جا سکتی ہیں۔ صحت کے شعبے میں دو ہزار ڈسپنسریاں، ایک ہزار جدید کلینکس، پانچ سو چھوٹے اسپتال اور سو بڑے جدید اسپتال بنائے جا سکتے ہیں۔ اس کے بعد بھی سڑکوں، صاف پانی، سیوریج، اساتذہ، ڈاکٹرز، نرسز، ادویات اور جدید مشینری کے لیے اربوں ڈالر بچ سکتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ اگر سندھ کے حکمرانوں اور میئر کراچی سے شہر کے حقوق مانگو تو ایسے ناراض ہوجاتے ہیں جیسے کوئی شریف آدمی کسی بدمعاش سے اپنے بیٹے کا رشتہ مانگنے پر طیش میں آجاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پاکستان کے پاس پیسہ کہاں سے آئے گا۔ سوال یہ ہے کہ جو پیسہ آتا ہے وہ جاتا کہاں ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جب دیانت دار اور باصلاحیت قیادت کی بات ہوتی ہے تو بعض لوگ فوراً مذاق ا±ڑاتے ہیں۔ کیونکہ بددیانتی کے بازار میں ایمانداری ہمیشہ عجیب چیز لگتی ہے۔ جیسے اندھیرے کے عادی کو روشنی چبھتی ہے، ویسے ہی کرپشن کے عادی کو احتساب برا لگتا ہے۔ کراچی میں جماعت اسلامی کی دیانت دار بلدیاتی قیادت کو محدود اختیارات ملے مگر اس کے باوجود انہوں نے اپنی دیانتداری، صلاحیت اور اخلاص سے وہاں بے تحاشا کام کیا اور یوں صفائی، سڑکیں، سیوریج، پانی، پارکوں، اسکولوں اور ڈسپنسریوں میں شاندار بہتری دیکھنے میں آئی۔ نو ٹاو?نوں نے محدود وسائل کے باوجود ایسے کام کیے جو اصولاً صوبائی اداروں کی ذمے داری تھے۔
کہیں پانی کی لائنیں بچھیں، کہیں پارک آباد ہوئے، کہیں کھیل کے میدان بحال ہوئے، کہیں بچوں کے لیے کتابیں اور کاپیاں فراہم کی گئیں، کہیں جامعہ کراچی کے طلبہ کے لیے بسوں کی مرمت اور بحالی کا معاہدہ ہوا۔ یہ کام اس لیے بڑے ہیں کہ یہ اختیارات کے سمندر میں نہیں، محرومی کے صحرا میں کیے گئے ہیں۔
یہاں طنز کا مقام یہ ہے کہ ہمارے ہاں اگر کوئی ادارہ اپنا کام نہ کرے تو اسے ”سسٹم کی مجبوری“ کہا جاتا ہے، اور اگر کوئی محدود اختیار کے باوجود کام کر دے تو اسے ”سیاسی پوائنٹ اسکورنگ“ کہا جاتا ہے۔ گویا عوامی خدمت بھی اب اجازت نامہ لے کر کی جائے گی!
اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، اصل مسئلہ نیت کی کمی ہے۔ ملک کا خزانہ خالی نہیں، خزانے کے دروازے پر بیٹھے ہوئے کردار خالی ہیں۔ دل خالی، نیت خالی، ضمیر خالی۔ جب امانت نااہل ہاتھوں میں چلی جائے تو قومی دولت برکت نہیں دیتی، بددعا بن جاتی ہے۔ ہماری قوم کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ تبدیلی صرف نعروں سے نہیں، دیانت اور صلاحیت کے ملاپ سے آتی ہے۔ صرف ایمانداری کافی نہیں اگر صلاحیت نہ ہو، اور صرف صلاحیت خطرناک ہے اگر دیانت نہ ہو۔ ہماری قوم کو وہ قیادت چاہیے جو خزانے کو مالِ غنیمت نہیں، امانت سمجھے، جو اقتدار کو خدمت جانے، تجارت نہیں، جو عوام کو جانور نہیں، انسان سمجھے۔

Leave a Reply