کالم :عارف بہار
(دوسرا اور آخری حصہ)
دہلی میں مقیم سینئر صحافی اور ان امور پر نظر رکھنے والے بھارت بھوشن کا خیال ہے کہ ان بیانات کا مقصد حالات کا اندازہ لگانا ہے کہ انڈین عوام اس طرح کی بات چیت کے لیے کتنا تیار ہے۔ آن کا کہنا تھا کہ عام طور ایسا ہوتا ہے کہ جو بات بی جے پی خود نہیں کر سکتی وہ آر ایس ایس کے ذریعے کہلواتی ہے، تاکہ حالات کا اندازہ ہو اور زمین ہموار کی جا سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ آر ایس ایس لیڈر کے بیان کا ایک مقصد معلوم ہو رہا ہے۔ آنہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ نریندر مودی اور بی جے پی کی سیاست کا اہم جز پاکستان کی مخالفت ہے۔ اس کا استعمال کر کے وہ انتخابات بھی جیتتے رہے ہیں۔ ان کا ووٹر پاکستان سے کسی بھی طرح کی بات چیت کے حق میں نہیں ہے۔ ایسے میں حالات کے پیش نظر اگر ایسا کچھ کرنا پڑے تو انہیں ایک فکری جواز (آڈیالوجیکل کوَر) چاہیے جو صرف اور صرف آر ایس ایس ہی فراہم کر سکتا ہے‘۔ بھارت بھوشن کے اس تجزیہ سے سینئر صحافی اور انگریزی روزنامہ ٹریبون کے سابق ڈپلومیٹک ایڈیٹر سندیپ دکشت بھی متفق نظر آتے ہیں۔ ان کے مطابق ان بیانات کا مقصد رائے عامہ کی ہمواری ہے تاکہ بات چیت کے لیے مودی حکومت کے لیے آسانی پیدا ہو سکے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے آن کا کہنا تھا کہ چین اور ازبکستان جیسے ملک جو کہ شنگھائی کارپوریشن آرگنائزیشن (ایس سی او) کے رکن ہیں انڈیا سے کہہ رہے ہیں کہ وہ پاکستان سے بات چیت کریں۔ ان کے مطابق بات چیت کو دوبارہ شروع کرنے کے پیچھے کچھ قلیل مدتی اور طویل مدتی مقاصد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کے نتیجے میں پاکستان میں اوور فلائٹ رائٹس حاصل کرنا اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی تکون کو ناکام بنانا، وغیرہ شامل ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان بڑھتی نزدیکی اور انٹیلی جنس کے تبادلے کے ایک حالیہ معاہدے کی وجہ سے بھی انڈیا اب پاکستان سے بات چیت کرنا چاہ رہا ہے۔پاکستان کے ساتھ بات چیت کے اس تجویز کے وقت کے سلسلے میں بھارت بھوشن ایک دلچسپ اور اہم بات کہتے ہیں ان کے مطابق یہ آر ایس ایس کی ’ویسٹرن آوٹ ریچ‘ کا حصہ ہے، جس کے ذریعے وہ اپنی سخت گیر اور شدت پسندانہ ساکھ کو بہتر بنانا چاہتی ہے۔ اس ضمن میں آنہوں نے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) کی سالانہ رپورٹ اور دیگر رپورٹوں کا حوالہ بھی دیا جن میں انڈیا میں مذہبی آزادیوں کی صورتحال پر سوالات آٹھائے گئے ہیں۔
امریکی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں آر ایس ایس سمیت کچھ دیگر تنظیموں پر پابندی عائد کرنے کی بھی تجویز دی ہے۔ بھارت بھوشن نے کہا کہ انھی رپورٹوں کے تناطر میں اور آر ایس اس کی صد سالہ جشن کا حوالہ دیتے ہوئے آر ایس ایس لیڈر ہوسبالے نے گزشتہ ماہ برطانیہ، امریکا اور جرمنی میں ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا۔ آن کے بقول اس کے ذریعے انڈیا سفارتی خلا کو بھی پر کرنے کی کوشش کرنا چاہتا ہے، کیونکہ پاکستان کو کنارَہ کش کرنے کی کوششوں میں انڈیا آج خود الگ تھلگ پڑ چکا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر انڈیا کی کوئی خاص اہمیت نہیں رہ گئی ہے۔ دوسری جانب پاکستان کا سکہ بلند ہو رہا ہے۔ ’اسے امن عمل کی شروعات نہیں کہا جا سکتا‘ سوال یہ ہے کہ کیا دونوں ممالک کے تعلقات میں موجود سرد مہری کم ہو سکتی ہے اور گزشتہ برس کی چار روزہ لڑائی کے بعد انڈیا اور پاکستان کے انتہائی نچلی سطح پر چلے جانے والے تعلقات کیسے بہتر ہو سکتے ہیں؟ اٹلانٹک کونسل سے منسلک سینئر فیلو مائیکل کوگلمین آر ایس ایس کے جنرل سیکرٹری اور انڈین فوج کے سابق سربراہ کو ’اثر و رسوخ‘ رکھنے والی شخصیات ضرور سمجھتے ہیں لیکن ان کا ماننا ہے کہ ان کے بیانات کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان ’کسی ممکنہ امن عمل کی شروعات نہیں سمجھا جا سکتا‘۔ ان آوازوں کا مقصد ہے کہ جب بھی یہ مذاکرات ضروری ہوں ان پر غور کیا جانا چاہیے۔’کوگلمین کے مطابق آر ایس ایس کے سربراہ نے بس یہی کہا ہے کہ انڈیا کو مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے چاہییں۔ میرا خیال ہے کہ انڈین فوج کے سابق سربراہ بھی یہی کہہ رہے تھے‘۔ مائیکل کوگلمین بھی ان ٹریک ٹو روابط کی اطلاعات کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہم نے سابق انڈین اور پاکستانی سفارت کاروں اور ریٹائرڈ عسکری حکام کے روابط کی جو اطلاعات دیکھی ہیں وہ زیادہ اہم ہیں، کیونکہ اس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ انڈیا کی اسٹیبلشمنٹ بھی بات چیت کے آپشن کو خارج الامکان نہیں قرار دے رہی‘۔ تاہم میں پھر بھی ان تمام اشاروں کی انڈیا کی طرف سے کسی قسم کے مذاکرات کی شروعات کے امکانات کے طور پر نہیں دیکھتا۔ یہ بس اس بات کا اشارہ ہے کہ انڈیا مذاکرات کے آپشن کو خارج الامکان نہیں سمجھتا اور یہ بھی ایک اہم بات ہے کیونکہ وزیر ِ اعظم مودی کی حکومت نے پاکستان کے خلاف ایک واضح سخت گیر مو?قف اپنا رکھا تھا۔ دیگر تجزیہ کار بھی سمجھتے ہیں کہ انڈیا میں پاکستان سے بات چیت سے متعلق بیانات خوش آئند ضرور ہیں لیکن دونوں ممالک کے درمیان یہ معاملات کافی پیچیدہ ہیں۔
پاکستان اوربھارت میدان جنگ سے امن کی راہوں پر واپسی؟
adminshuja
اگلی خبر →
ہندوستان کی غیر حقیقی عظمت اور حقیقی پستی

Leave a Reply