Daily Shujaat Quetta
June 24, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
ایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنپسنی کے قریب فجیرہ سے آنے والے آئل ٹینکر میں کریو کے رہائشی حصے میں لگنے والی آگ بجھا دی گئیالیکشن کمیشن نےگلگت بلتستان انتخابات کےسرکاری نتائج کا اعلان کردیاپیٹرول پر فی لیٹر لیوی 40 روپے 49 پیسے کم کردی گئی، ذرائع پیٹرولیم ڈویژنکیا آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے کسی بیماری کا نتیجہ ہوسکتے ہیں؟ایپل کے چیف ایگزیکٹو کا آئی فونز کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہکیا اسمارٹ فون کو چارجنگ کے دوران استعمال کرنے سے بیٹری کو نقصان پہنچتا ہے؟میٹا نے فیس بک میں بہت بڑی تبدیلیاں کر دیںجی میل میں اے آئی سمریز کا فیچر دنیا بھر کے صارفین کیلئے متعارفگوگل ارتھ کی خفیہ فلائٹ سمولیٹر گیم اب تمام صارفین کو مفت دستیابانسٹا گرام میں اب ہر فوٹو یا ویڈیو پوسٹ میں کیپشن تحریر کرنا ممکنپسنی کے قریب فجیرہ سے آنے والے آئل ٹینکر میں کریو کے رہائشی حصے میں لگنے والی آگ بجھا دی گئیالیکشن کمیشن نےگلگت بلتستان انتخابات کےسرکاری نتائج کا اعلان کردیاپیٹرول پر فی لیٹر لیوی 40 روپے 49 پیسے کم کردی گئی، ذرائع پیٹرولیم ڈویژنکیا آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے کسی بیماری کا نتیجہ ہوسکتے ہیں؟

اعتراف لازم ہے

کالم:غزالہ عزیز
فلسطین کی تاریخ میں اٹھتر سال پہلے ہونے والا نقبہ یا النکبہ اب صرف تاریخ کا کوئی ورق نہیں رہا یا گزری تاریخ کا کوئی دن نہیں رہا بلکہ یہ ایک ایسی دہکتی ہوئی حقیقت ہے جسے آج بھی غزہ کا ایک ایک باسی اپنے ہر لمحے میں بھگت رہا ہے۔ 1948 میں ہونے والا النکبہ جو فلسطینیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے والی ظالمانہ کوشش تھی آج بھی فلسطینی اور ان کے پوتے پوتیاں اس کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔ غزہ کے کھنڈرات پر اس نسل کشی کے نتیجے میں خیموں کے سائے تلے دوبارہ اس سے گزر رہے ہیں برسوں اور عشروں گزرنے کے باوجود ان کے قطب نما کی سوئی ذرا سی بھی اپنے مقصد سے نہیں ہٹتی۔ آزاد وطن کا عزم ان میں اسی طرح بلکہ کہیں زیادہ روشن اور واضح ہے اس لمحے جب کہ ان کی زندگیوں کے پورے نظام کو تبدیل کر دیا گیا ان کی زمینوں اور گھروں پر پوری درندگی کے ساتھ قبضہ کیا گیا، آج اسی فلسطین، اسی غزہ میں پانی، بجلی، غذا، علاج اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات موجود نہیں۔ غزہ کو کھنڈر بنا دیا گیا وہاں جیسے زندہ رہنا ہی بقا کی جنگ ہے۔ غزہ کے پورے کے پورے رہائشی محلے نقشے سے مٹا دیے گئے۔ اسپتال، اسکول، یونیورسٹیاں مکمل تباہ کر دیں گئیں۔ غزا کی پٹی میں 22 لاکھ فلسطین بے گھری کا اور ہجرت کا عذاب سہہ رہے ہیں۔
اب مزاحمت ایک بالکل مختلف روپ میں سامنے آئی ہے یعنی استقامت بذات خود غذا پر مضبوطی سے جمے رہنے کا نام ہے۔ زندگی کو جاری و ساری رکھنے کے لیے فلسطین میں اپنے وجود کو باقی رکھنے کے لیے روز چوبیس گھنٹے ایک معارکہ آرائی ہے، بچے اور مائیں خوراک کی قلت اور قحط کے عالم میں ہیں وہ اپنے بچوں کے لیے روزانہ خوراک کے لیے سرگرداں رہتی ہیں مریضوں کے لیے ادویات اور علاج موجود نہیں اگر کچھ مقامی طور پر ہے تو اس کے حصول کے لیے انتہائی دشواری کا سامنا کر رہے ہیں۔ معصوم بچے روٹی کے لیے، زندہ رہنے کے لیے خوراک کے لیے لنگر خانوں کے دروازوں پر قطاروں میں کھڑے ہیں اہل غزہ پناہ کے لیے ایک علاقے سے دوسرے علاقے اپنا بچا کچھا سامان اٹھائے در بدر پھر رہے ہیں۔ النکبہ میں شہید ہونے والے 15 ہزار شہدائ اور آج غزہ میں ستر بہتر ہزار تصدیق شدہ شہدائ تک، خون آشام دشمن آج بھی خون بہانے میں اسی طرح مستعد ہے، ابھی تک دشمن کے ناپاک اہل کار اسی طرح وہاں موجود ہیں اپنے مقصد پر کار بند ہیں کہ فلسطینیوں کے وجود کو ہمیشہ کے لیے فلسطین سے جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اسرائیل امریکا کی مدد سے فلسطین میں بھوک پیاس اور دہشت کے ذریعے صحت تعلیم شہری نظام کو مکمل مسمار کر کے ہجرت پر مجبور کر رہا ہے۔ فلسطین کا بنیادی مجرم برطانیہ ہے جس نے 1917 میں اعلان بالفور کے ذریعے فلسطینی سرزمین پر یہودیوں کے لیے ایک ریاست کے قیام کی حمایت کی تھی اور اس وقت قائم کیے گئے سیاسی اور انتظامی ڈھانچے نے فلسطینی عرب اکثریت کو مکمل طور پر نظر انداز کیا اور محروم رکھا اور ایک ایسا نظام تشکیل دیا جس نے فلسطین پر قبضے کو قانونی بنانے کی کوشش کی؛ عرب دنیا کے سینے پر اسرائیل کی صورت میں خنجر گھونپ دیا۔ اس وقت سے لے کر آج تک برطانوی حکومت کی جانب سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی اور ہر طرح کے ظلم پر حمایت کی گئی۔ آج بھی فلسطین کی حمایت میں وہاں مظاہرین کے خلاف سخت قانونی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور صرف فلسطینیوں کا مجرم گردانہ جاتا ہے۔ آج اگرچہ اپنے ہی عوام کے دباو? پر برطانیہ فلسطین کی خود مختار حیثیت تسلیم کر چکا ہے لیکن اس سے فلسطینیوں کی وطن سرزمین اور آزادی کو واپس لانا ممکن ہے؟مئی کے پہلے ہفتے میں وہاں کے عوام نے برطانیہ میں ایک نئی قانونی پٹیشن دائر کی ہے کہ فلسطین کے معاملے پر برطانوی حکومت جواب دے اور معافی مانگے پٹیشن میں اس کا عنوان ”برطانیہ کی فلسطین میں غلطیوں اور تلافیوں کی ذمے داری“ دیا گیا ہے اس پٹیشن کو تیار کرنے والے درخواست دہندہ کا کہنا ہے کہ وہ خود ان کے خاندان کے افراد ان تاریخی واقعات سے متاثر ہوئے ہیں اور یہ صرف ماضی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات نسل در نسل منتقل ہوئے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ہماری زندگیاں اس تاریخی فیصلوں کا براہ راست نتیجہ ہے اور اس کے لیے انصاف اور اعتراف ضروری ہے۔ سچ یہی ہے اگر چہ اس سے فلسطینیوں کی زندگی میں کیا بدلاو? آتا ہے نہیں معلوم۔۔۔ لیکن تاریخ میں آگے بڑھنے سے قبل برطانیہ کی حکومت کو اعتراف کرنا لازم ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *