کالم:شاہنواز فاروقی
صحافت بنیادی طور پر زبان و بیان کا کھیل ہے اور زبان کی ایک انسان خاص طور پر ایک مسلمان کی زندگی میں یہ اہمیت ہے کہ ایک لفظ ہر چیز پر فوقیت رکھتا ہے۔ ہمارا ایک شعر ہے۔
اک لفظ ک±ن سے خلق ہوئی ساری کائنات
ہر شے سے ایک لفظ کی ح±رمت زیادہ ہے
لیکن ہمارے زمانے تک آتے آتے صحافت کا حال پتلا ہوگیا ہے۔ صحافت جو کبھی ایک دنیا کو راستہ بتاتی اور زندگی کی معنویت سے آگاہ کرتی تھی اب خود رہنمائی کی محتاج ہے اور اسے معنویت کی تلاش ہے۔
تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ نظریاتی ریاستوں کی صحافت بھی نظریاتی ہوتی ہے۔ سوویت یونین اس کی سب سے بڑی مثال تھا۔ سوویت یونین کا نظریہ سوشلزم تھا اور سوویت یونین کی پوری صحافت اسی نظریے کا طواف کرتی تھی۔ وہ سوشلسٹ فلسفے کو سامنے لاتی تھی۔ سوشلزم کے تصور انسان کو فروغ دیتی تھی۔ سوشلسٹ ادب کی ترجمان تھی۔ یہاں تک کہ یہ صحافت سائنس کو بھی صرف سائنس نہیں کہتی تھی بلکہ اسے سوشلسٹ یا سوویت سائنس قرار دیتی تھی۔ مگر بدقسمتی سے پاکستانی صحافت کا کوئی نظریہ ہی نہیں ہے۔ جنرل ایوب نے اسلام کے نام پر تخلیق ہونے والے پاکستان کو سیکولر ازم کے اصولوں کے تحت چلایا اور پاکستانی صحافت نے اس پر کبھی احتجاج نہیں کیا۔ بھٹو صاحب نے ”اسلامی سوشلزم“ ایجاد کیا تو پاکستانی صحافت نے کبھی بھٹو اور معاشرے کو یہ بتانے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی کہ اسلام اور سوشلزم ایک دوسرے کی ضد ہیں اور ان کی ”کاک ٹیل“ نہیں بنائی جاسکتی۔ جنرل پرویز مشرف معاشرے اور ریاست کو لبرل بنانے کے لیے کوشاں رہے مگر روزنامہ جسارت، اور ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کے سوا کسی نے ان کی مزاحمت نہ کی۔ بلاشبہ معاشرے کو اسلامی بنانے کی سب سے زیادہ ذمے دار ریاست ہے مگر صحافت بھی ریاست کا ایک ستون ہے۔ چنانچہ اسے بھی معاشرے کو اسلامی بنانے کا کام کرنا چاہیے۔ مگر ہماری صحافت کو اس کی رتّی برابر بھی فکر نہیں۔ ہمارے قومی اخبارات ہر جمعے کو ایک اسلامی صفحہ شائع کرکے سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ریاست کے نظریے کے فروغ کا حق ادا کردیا۔ حالانکہ جمعے کے روز شائع ہونے والا اسلامی صفحہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے سوا کچھ نہیں۔ اس سلسلے میں صحافت کا اصل فرض یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست کو اسلامی بنانے کی جدوجہد کرے۔ پاکستان کی معیشت کو اسلام کے تابع کرنے کی کوشش کرے۔ پاکستان کے عدالتی اور تعلیمی کام کو مشرف بہ اسلام کرنے کے لیے رنجِ سفر کھینچے۔ پاکستان میں اسلامی علوم فنون کے فروغ کے لیے کام کرے۔ اسلام کے تصورِ زندگی اور اسلام کے تصورِ انسان کو معاشرے کا مثالیہ یا اس کا Ideal بنا کر پیش کرے۔ بدقسمتی سے ہماری صحافت اس میں سے ایک کام بھی نہیں کررہی۔ بلکہ اب تو اسے اپنی اس ذمے داری کا شعور بھی نہیں ہے۔ ہندوستان کا ہندوتوا ایک خود ساختہ نظریہ ہے مگر ہندوستان کی صحافت کیا اعلیٰ عدالتیں تک اس کی پاسداری کررہی ہیں۔ بابری مسجد کسی مندر کو گرا کر نہیں بنائی گئی تھی۔ اس بات کی کوئی شہادت کبھی موجود نہیں رہی مگر ہندوستان کی عدالت ِ عظمیٰ نے اس سلسلے میں انتہا پسند ہندوﺅں کے موقف کو درست تسلیم کرتے ہوئے بابری مسجد کی جگہ مندر تسلیم کرنے کی اجازت دی۔ امریکا اور یورپ کا نظریہ سیکولرازم اور لبرل ازم ہے اور ان کے ذرائع ابلاغ ایک ایک گوشے میں سیکولر ازم اور لبرل ازم کی پاسداری کررہے ہیں۔ صہیونیت شیطنت کے سوا کچھ نہیں مگر اسرائیل کا ریاستی نظریہ یہی ہے۔ چنانچہ اسرائیل کی صحافت پوری طرح صہیونیت کے لیے کام کررہی ہے۔ یہ صرف ریاست پاکستان ہے جس کی صحافت کو اس کے نظریے کی پاسداری سے کوئی دلچسپی نہیں۔
صحافی کی ایک بنیادی تعریف یہ ہے کہ صحافی jack of all trades but master of none ہوتا ہے۔ یعنی صحافی ماہر تو کسی علم کا نہیں ہوتا مگر وہ تمام علوم و فنون کا تھوڑا تھوڑا فہم ضرور رکھتا ہے۔ یعنی پاکستان کے تناظر میں صحافی وہ ہے جو تھوڑا سا مذہب جانتا ہے۔ تھوڑا سا فلسفہ جانتا ہے۔ اسے اپنی قومی زبان کے چار پانچ بڑے شاعروں کے چالیس پچاس شعر یاد ہوں۔ جس نے اردو کے آٹھ دس بڑے ناول پڑھ رکھے ہوں۔ جس نے اردو کے چھے سات بڑے افسانہ نگاروں کے اہم افسانوں کو پڑھا ہوا ہو۔ جو اردو ادب کے چار پانچ بڑے نقادوں کی تحریروں کا قاری رہا ہو۔ جو نفسیات، عمرانیات اور تاریخ کے موٹے موٹے نظریات سے آگاہ ہو۔ جو عالمی ادب کا تھوڑا بہت فہم رکھتا ہو۔ خوشی قسمتی سے 1980ئ کی دہائی تک پاکستانی صحافت کے پاس ایسے لکھنے والے تھے جو مذکورہ معیارات سے بھی بڑھ کر تھے۔ ہمارے پاس سلیم احمد تھے جو شاعر تھے۔ نقاد تھے۔ جنہوں نے ریڈیو کے لیے پونے دو سو ڈرامے لکھے ہوئے تھے۔ جنہوں نے پاکستان ٹیلی وڑن کو آخری چٹان اور شاہین جیسے سیریلز دیے ہوئے تھے۔ جن کے جسارت اور حریت میں شائع ہونے والے کالم پاکستان کے باشعور لوگ توجہ سے پڑھتے تھے۔ ہمارے پاس واصف علی واصف تھے جو نوائے وقت میں اعلیٰ درجے کے کالم لکھتے تھے۔ ان کی فکر میں گہرائی اور گیرائی اور تصوف کی چاشنی تھی۔ ان کے متاثرین میں ممتاز ڈراما نگار اشفاق احمد بھی شامل تھے۔ اخبارات کے لکھنے والوں میں انتظار حسین جیسے بڑے ناول نگار اور کالم نویس شامل تھے۔ ممتاز نقاد اور شاعر قمر جمیل جدیدیت کے سب سے بڑے ماہر تھے اور نوائے وقت میں کالم لکھتے تھے۔ جنگ کے وارث میر اور ڈان کے صفدر میر سیکولر اور لبرل تھے مگر خوب تھے۔ محمد علی صدیقی روزنامہ ڈان میں عمدہ ادبی کالم لکھتے تھے حالانکہ وہ بیچارے مارکسزم کے اسیر تھے۔ جنگ میں ارشاد احمد حقانی اور جمیل الدین عالی بھی گاہے گاہے فکری کالم لکھتے رہتے تھے۔ یہ اس دور کے صرف چند نام ہیں، لیکن ہمارے زمانے تک آتے آتے صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ اب فکری کالم لکھنے والے گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوگئے ہیں۔ اور جو ہیں انہیں ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے۔ چنانچہ صحافت اب فکری رہنمائی کا فرض انجام دینے سے قاصر نظر آتی ہے۔ اب صحافت میں کچھ ہے تو صرف سیاست۔ روز مرہ کی سیاست۔ وزیراعظم نے یہ کہا۔ آرمی چیف نے یہ فرمایا۔ نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن نے یہ کہا۔ انتخابات ہوئے مگر نہیں ہوئے۔ عدالت عظمیٰ میں انصاف ہوا مگر نہیں ہوا۔ یہی چیزیں خبروں میں ہے۔ یہی چیزیں کالموں میں ہیں۔ یہی چیزیں اداریوں میں ہیں۔ یہی چیزیں گفتگو کے پروگراموں میں ہیں۔ کولہو کا بیل سارا دن چلتا ہے اور کہیں نہیں پہنچ پاتا۔ ہماری صحافت بھی 35 سال سے چل رہی ہے اور نہ وہ خود کہیں پہنچتی ہے اور نہ اس نے اپنے پڑھنے والوں کو کہیں پہنچایا ہے۔
صحافت کی ایک پہچان اس کی آزادی اظہار ہے۔ اقبال نے آزادی کا ترانہ گاتے ہوئے فرمایا ہے۔
بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آب
اور آزادی میں بحرِ بیکراں ہے زندگی
لیکن ہماری صحافت نہ آزاد ہے اور نہ آزاد ہونا چاہتی ہے۔ یہ جنرل ایوب کے گیارہ سال میں آزادی سے محروم رہی۔ اس نے بھٹو کی سول آمریت کو چیلنج نہیں کیا۔ بھٹو کی سول آمریت کو صرف روزنامہ جسارت نے چیلنج کیا اور اس کی پاداش میں جسارت بند کردیا گیا اور اس کے مدیر اور ناشر کو پابند سلاسل کردیا گیا۔ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے 30 برس تک ہماری صحافت الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے جبر کے خلاف خاموش رہی۔ ارشاد احمد حقانی ملک کے ممتاز صحافی تھے اور لاہور میں مقیم تھے ان سے ہمارے دوست یحییٰ بھائی نے پوچھا کہ آپ سب کے خلاف لکھتے ہیں مگر الطاف حسین کے خلاف کچھ نہیں لکھتے۔ حقانی صاحب نے کراچی سے ایک ہزار کلو میٹر دور ہونے کے باوجود فرمایا: یار میں نے سنا ہے کہ الطاف حسین اختلاف کرنے والوں کو مروا دیتا ہے۔ یہ صرف روزنامہ جسارت تھا جو 30 سال تک الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے خلاف خبریں بھی شائع کرتا رہا، کالم بھی چھاپتا رہا اور ان کے خلاف اداریے بھی لکھتا رہا۔ جسارت کے سوا 30 سال تک ہر طرف سناٹے کا راج تھا۔ ہماری صحافت کی زبان بندی کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ کئی سال پہلے عدالت عظمیٰ نے بحریہ ٹاﺅن کے مالک ملک ریاض پر 460 ارب روپے کا جرمانہ کیا۔ یہ خبر صرف جسارت اور ڈان میں شائع ہوئی۔ جنگ، دنیا، ایکسپریس اور 92 نیوز نے اس خبر کو شائع ہی نہیں کیا۔
بدقسمتی سے پاکستانی صحافت 1971ئ سے اب تک ”قومی“ بھی نہیں ہے۔ 1971ئ میں عوامی لیگ نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرلی تھی مگر قومی صحافت نے جنرل یحییٰ کو مجبور نہیں کیا کہ وہ اقتدار شیخ مجیب کے حوالے کردیں۔ پاکستانی صحافت نے بنگالیوں کے خلاف فوجی آپریشن کی مذمت بھی نہیں کی۔ وہ پنجابی اور پشتون اسٹیبلشمنٹ کی ہاں میں ہاں ملاتی رہی۔ کراچی پورے ملک کو پالتا ہے مگر وہ ہر بنیادی سہولت سے محروم ہے لیکن قومی صحافت کراچی کے لیے آواز نہیں اٹھاتی۔ کوئی بڑا اور بااثر صحافی تندہی سے کراچی کا مقدمہ لڑتا نظر نہیں آتا۔ ہماری صحافت بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی تو ”رپورٹ“ کرتی ہے مگر بلوچستان کی ”محرومیاں“ اور وہاں ہونے والے پانچ فوجی آپریشن رپورٹ نہیں کرتی۔
پاکستانی صحافت کا بحران
adminshuja
← پچھلی خبر
اعتراف لازم ہے

Leave a Reply