کالم:اعجاز اللہ خان
ویسے تو پاکستان میں پولیس کا ادارہ ہمیشہ سے عوامی تنقید، بداعتمادی اور بعض اوقات نفرت کا شکار رہا ہے، لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے بالخصوص سوشل میڈیا کے آنے کے بعد ملک بھر میں ہونے والے واقعات نے اس تاثر کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ عوام روزانہ ایسے مناظر دیکھتے ہیں جن میں کہیں ملزمان تو کہیں بے قصور افراد تشدد کا نشانہ بنتے ہیں، کہیں سفید پوش افراد کی تذلیل ہوتی ہے، کہیں راہ چلتے شہریوں کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے، اور کہیں غریب ریڑھی بان یا مزدور قانون نافذ کرنے والوں کے سامنے بے بس کھڑا نظر آتا ہے۔ لیکن اس پورے منظر نامے کو اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو ایک اہم بات سامنے آتی ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک شہر یا ایک صوبے تک محدود نہیں رہا۔ ایک زمانہ تھا جب عام تاثر یہ تھا کہ پنجاب پولیس، اور خصوصاً شیخوپورہ پولیس، سخت اور جابرانہ مزاج رکھتی ہے۔ سندھ پولیس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ کرپشن اور جاگیردارانہ اثر و رسوخ کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ دوسری طرف صوبہ خیبر پختون خوا (سابقہ صوبہ سرحد) کے بارے میں عمومی رائے یہ تھی کہ وہاں کی پولیس مقامی ہونے کی وجہ سے عوام سے زیادہ ہم آہنگ اور نسبتاً نرم مزاج ہے۔ بلوچستان میں لیویز فورس کو اس حد تک مقامی اور غیر جارحانہ سمجھا جاتا تھا کہ بعض اوقات اس کی کمزور عملداری بھی تنقید کا سبب بنتی تھی۔ لیکن آج یہ علاقائی شناختیں مدھم پڑتی جا رہی ہیں۔ اب عوام کے درمیان ایک تلخ جملہ گردش کرتا ہے: ”پولیس، پولیس ہوتی ہے، چاہے کہیں کی بھی ہو“۔ یہ جملہ شاید مبالغہ ہو، لیکن اس کے پیچھے موجود عوامی مایوسی کو نظر انداز کرنا بھی حقیقت سے فرار ہوگا۔ لہٰذا ہم سب کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ کہیں ایسا نا ہو کہ ہمارا برسوں سے چلتا پولیس کا یہ ”لولا لنگڑا“ نظام بھی عوامی ردعمل عمل کا نشانہ بن جائے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تصویر مکمل طور پر سیاہ بھی نہیں۔ ایک زمانہ تھا اور آج بھی کسی حد تک ہے کہ کچھ پولیس افسران عوام میں اچھی شہرت رکھتے تھے۔ اسی شہر کراچی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ، تحقیق سے وابستہ اور حتیٰ کہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنے والے پولیس افسران خدمات انجام دے چکے ہیں۔ آج بھی تمام صوبوں میں بہت سے قابل، پڑھے لکھے، ایماندار اور محنتی افسران موجود ہیں جو اپنے دائرہ? اختیار میں بہتر کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن مسئلہ افراد کا نہیں، نظام کا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ انفرادی اچھائی اکثر اجتماعی خرابی کے سامنے بے اثر ہو جاتی ہے۔ کوئی افسر اچھا کام بھی کرنا چاہے تو یا تو وہ کرپٹ انتظامی ڈھانچے کی نذر ہو جاتا ہے، یا اس کی کوشش ایک ایسے نظام میں آٹے میں نمک کے برابر رہ جاتی ہے جو برسوں سے غیر مو?ثر، غیر مربوط اور سیاسی مداخلت کا شکار ہے۔ کراچی میں الیکٹرونک چالان، سیف سٹی جیسے منصوبے اس کی مثال ہیں۔ ایسے منصوبے اپنی اصل روح میں برے نہیں تھے، لیکن ان کی رفتار اور اثر پذیری پر مختلف اداروں کے درمیان عدم ہم آہنگی، اختیارات کی کشمکش اور مشترکہ وڑن کی کمی نے اثر ڈالا۔ ویسے تو پولیس ریفارم کی بات ہر دور میں ہوتی رہی ہے، لیکن اکثر یہ اصلاحات وردی کے رنگ، نئی گاڑیوں، عمارتوں یا سیاسی بنیادوں پر نئی بھرتیوں تک محدود رہتی ہیں۔ جبکہ حقیقت میں بعض اوقات اصلاح صرف افراد کی ہو جاتی ہے، ادارے کی نہیں۔ جیسے جالب صاحب نے کہا تھا: ”دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے“۔اگر واقعی تبدیلی مطلوب ہے تو اس کے لیے ظاہری اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وزارتِ داخلہ کی سطح پر اہل، قابل، دیانتدار اور تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل ایک مستقل اصلاحی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے۔ اس میں اچھی شہرت رکھنے والے عوامی نمائندے اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین بھی آئینی اور شفاف طریقے سے شامل ہوں۔ اس ٹیم کو دنیا بھر کے کامیاب ماڈلز اور ریسرچ پر مبنی تربیت دی جائے اور ایک طویل مدتی منصوبہ بندی کے تحت صوبائی سطح پر نافذ کیا جائے۔
20 سال قبل جب مجھے جرمنی جانے کا موقع ملا تو وہاں قانون کی پاسداری اور شہری نظم و ضبط دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ دورانِ قیام مجھے روزمرہ زندگی میں پولیس نام کی کوئی نمایاں موجودگی محسوس ہی نہیں ہوئی۔ سوائے ایک دن کے، جب کسی بڑے فٹبال میچ کے باعث پولیس کی موجودگی نسبتاً زیادہ نظر آئی۔ اس تجربے نے مجھے ایک سوال پر غور کرنے پر مجبور کیا کہ کیا واقعی ہمارے پاس صلاحیت، وسائل یا انسانی استعداد کی کمی ہے؟ یا مسئلہ کہیں زیادہ بنیادی ہے؟ مجھے محسوس ہوا کہ شاید مسئلہ صلاحیت کا نہیں بلکہ کسی کام کو مستقل مزاجی، اخلاص، پیشہ ورانہ انداز اور ادارہ جاتی سنجیدگی سے کرنے کی خواہش اور عادت کا ہے۔ کیونکہ جہاں قانون اداروں کے سہارے نہیں بلکہ معاشرتی رویے پر چلنے لگے، وہاں پولیس کی طاقت اس کی موجودگی میں نہیں بلکہ اس کے نظام کی ساکھ میں نظر آتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں طویل مدتی منصوبہ بندی، تحقیق پر مبنی انفرا اسٹرکچر اور پبلک سرونٹس کی بہبود کا تصور کئی دہائیوں سے کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ اور شاید سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ پولیس ریفارم کا اصل مرکز اعلیٰ افسران نہیں بلکہ عام پولیس اہلکار ہونا چاہیے۔ سپاہی سے لے کر ڈی ایس پی اور ایس پی سطح تک ہر پولیس اہلکار کی تنخواہ، تربیت، تعلیم، نفسیاتی معاونت، ترقی کے مواقع اور سماجی وقار پر ادارہ سنجیدگی سے سرمایہ کاری کرے۔ ایک ایسا ماحول بنایا جائے جس میں ایمانداری نقصان اور کرپشن فائدہ نہ بن جائے۔ کیونکہ آخرکار عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد صرف قانون سے نہیں بلکہ انصاف، احترام اور مشترکہ ذمے داری سے بحال ہوگا۔ اور جس دن پولیس عوام کو رعایا نہیں بلکہ شہری سمجھنا شروع کر دے گی، شاید اسی دن عوام بھی پولیس کو خوف نہیں بلکہ تحفظ کی علامت سمجھنے لگے گی۔ ان شائ اللہ۔
پولیس پولیس ہوتی ہے، مگر کیا ہمیشہ ایسی ہی رہنی چاہیے؟
adminshuja
اگلی خبر →
”امن کا آخری موقع؟“

Leave a Reply