بلوچستان اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے بجٹ، وفاقی وسائل، امن و امان، تعلیم، صحت، نوجوانوں کے روزگار، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کے سیاسی و معاشی مسائل پراظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کو اس کے وسائل کے حساب سے فنڈز دئےے جائیں تو صوبے کے مسائل حل ہوسکتے ہیں ،ایم پی فنڈ کی اصطلاح سے یہ تاثر جاتا ہے کہ شاید یہ فنڈز ایم پی اے کے ذریعے خرچ ہونگے ، اپنے حلقوں کی اسکیمات کی تحقیقات کروانے کے لیے تیار ہیں، اراکین اسمبلی کی کردارکشی کرنے والوں کے خلاف کاروائی ہونی چاہےے ۔ جمعہ کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری نوابزادہ زرین مگسی نے بجٹ کو موجودہ حالات کے تناظر میں بہترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ صحت کے شعبے میں اچھے اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انفراسٹرکچر کے ساتھ انسانی ترقی بھی ضروری ہے، ہر ضلع میں نوجوانوں کے لیے اہم منصوبوں کی ضرورت ہے اور اگر نوجوانوں کے لیے کام نہ کیا گیا تو وہ بوجھ بن جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل پر یہاں کے لوگوں کا حق ہے اور اگر فیصلہ سازی میں عوام کو شامل نہ کیا گیا تو حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔وزیراعلیٰ کی مشیر ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے کہا کہ موجودہ حکومت میں پاکستان کا کردار بہت اچھا رہا اور خارجہ پالیسی بھی مو¿ثر رہی۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی صورتحال کے اثرات بلوچستان پر بھی مرتب ہوئے ہیں جبکہ صوبہ امن و امان کے حوالے سے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے تعاون سے بجٹ پرامن انداز میں پیش کیا گیا اور اب ضروری ہے کہ بجٹ میں شامل اسکیمیں مکمل ہوں۔حق دو تحریک کے رکن مولانا ہدایت الرحمن نے بجٹ بحث کے دوران صوبائی سیکرٹریز کی عدم موجودگی پر اعتراض کیا اور حبیب جالب کا شعر بھی پڑھا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم کو بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ گوادر کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کے 313 اسکول فعال ہیں تاہم 54 مراکز صحت میں سے نئے قائم ہونے والے 10 مراکز صحت بند پڑے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے 58 فیصد بچے تعلیم سے محروم ہیں، 11 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں اور ایشیا میں دوران زچگی خواتین کی سب سے زیادہ اموات بلوچستان میں ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے 40 فیصد عوام بجلی اور 83 فیصد گیس سے محروم ہیں جبکہ 65 لاکھ نوجوانوں کے لیے بجٹ میں صرف 5 ہزار ملازمتیں رکھی گئی ہیں۔مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ اسلام آباد کے حکمران بلوچستان کو صوبہ نہیں بلکہ کالونی سمجھتے ہیں، یہاں کے وسائل کو مالِ غنیمت تصور کرتے ہیں اور سی پیک کے نام پر چیک پوسٹوں کے سوا کچھ نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پٹرول کی بچت کے نام پر ملنے والی رقم نہیں چاہیے، “یہ پیسے ان کے منہ پر مارو”۔ انہوں نے اسلام آباد کے حکمرانوں کے بائیکاٹ کی تجویز بھی دی۔

Leave a Reply