امیر جماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان اس وقت بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے جبکہ نہتے اور بے گناہ عوام دہشت گردی کا مسلسل شکار ہیں۔ عوام کو تحفظ فراہم کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں مو¿ثر انداز میں ادا کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔پولیس اور لیویز کے اہلکار بھی اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے کرتے تھک چکے ہیں۔ وفاقی حکومت اور سیکیورٹی ادارے اخلاص اور سنجیدگی کے ساتھ بلوچستان میں امن و امان کے قیام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں، بصورت دیگر اگر ہنہ اوڑک اور زیارت جیسے واقعات کی بروقت روک تھام نہ کی گئی تو حالات مزید سنگین اور قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔جماعت اسلامی امن کے قیام، عوام کے تحفظ اور بلوچستان کے عوام کے آئینی و بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے ہر فورم پر بھرپور آواز بلند کرتی رہے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوادر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ پورا بلوچستان دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ہنہ اوڑک اور زیارت ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کی خون آشام کارروائیوں کی زد میں ہیں۔روزانہ بے گناہ اور لاتعلق نوجوانوں کا خون بہایا جا رہا ہے، مائیں اپنے بیٹوں سے محروم،خواتین بیوہ، بچے یتیم اور خاندان کے خاندان اجڑ رہے ہیں، مگر عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مو¿ثر اقدامات نظر نہیں آ رہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی وفاقی حکومت،ریاستی اداروں اور سیکیورٹی فورسز کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ بلوچستان کے عوام کے جان و مال کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنائیں۔ امن و امان کے قیام میں مسلسل ناکامی ریاستی ذمہ داری پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ صرف مذمتی بیانات اور رسمی اعلانات مسائل کا حل نہیں، بلکہ حقیقی دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف قانون کے مطابق فوری، فیصلہ کن اور مو¿ثر کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔

Leave a Reply