چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار، سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان ریلویز کا مالی سال 2025-26 کے دوران 115 ارب روپے سے زائد آمدن کا سنگ میل عبور کرنا انتہائی حوصلہ افزا اور باعثِ اطمینان ہے۔ یہ کامیابی محکمہ ریلوے کی انتھک محنت، مو¿ثر انتظامی حکمت عملی اور پوری ٹیم کے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ پاکستان ریلوے نے مالی سال 2025-26 میں پیسنجر سیکٹر سے 50.5 ارب روپے، فریٹ سیکٹر سے 41 ارب روپے، لینڈ ریونیو سے 11 ارب 99 کروڑ 60 لاکھ روپے، متفرق کوچنگ آمدن سے 3 ارب 18 کروڑ 50 لاکھ روپے جبکہ سکریپ سے 1 ارب 96 کروڑ 60 لاکھ روپے حاصل کیے۔ مجموعی آمدن میں 24.19 فیصد جبکہ فریٹ سیکٹر میں 27.78 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو پاکستان ریلوے کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ہے۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ ریلوے نے نہ صرف اپنے روایتی شعبوں بلکہ سکریپ اور دیگر کمرشل سرگرمیوں سے بھی قابلِ ذکر آمدن حاصل کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ بہتر انتظام، شفافیت اور مو¿ثر نگرانی کے ذریعے سرکاری ادارے اپنی مالی کارکردگی میں نمایاں بہتری لا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان ریلوے ایک محدود عرصے میں اپنی مالی حالت بہتر بنا کر 115 ارب روپے کی آمدن حاصل کر سکتا ہے تو دیگر سرکاری ادارے بھی اصلاحات، احتساب اور مو¿ثر انتظامی اقدامات کے ذریعے خساروں پر قابو پا کر مالی طور پر مستحکم ہو سکتے ہیں۔ پاکستان ریلوے نے اپنی کارکردگی سے دیگر قومی اداروں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال قائم کی ہے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ پاکستان ریلوے کی یہ کامیابی کسی ایک فرد کا کارنامہ نہیں بلکہ گینگ مین، ورکروں، انجینئرز، تکنیکی عملے، افسران اور انتظامیہ سمیت پوری ٹیم کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مالی سال 2026-27 میں ریلوے اپنے مقررہ اہداف کے مطابق فریٹ سیکٹر سے 65 ارب روپے اور پیسنجر سیکٹر سے 50 ارب روپے کی آمدن حاصل کرتے ہوئے اپنی ترقی کا سفر مزید تیز کرے گا۔ا

Leave a Reply