وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دشمن ایک طرف قتل و غارت، بدامنی اور معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث ہے تو دوسری طرف انہی جرائم کا الزام ریاست اور ریاستی اداروں پر تھونپنے کے گمراہ کن پروپیگنڈے میں بھی مصروف ہے۔ بلوچستان کے محب وطن عوام کو دشمن کے اس مذموم بیانیے کا حصہ بننے کے بجائے قومی یکجہتی، امن اور استحکام کے لیے ریاستی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہوگا انہوں نے یہ بات بی اے مال کے قریب جاری دھرنے کے شرکاءاور شہداءکے لواحقین سے ملاقات اور تفصیلی گفتگو کے دوران کہی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، سینیٹر منظور احمد کاکڑ، کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہ زیب کاکڑ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ پہلے دن سے دھرنا کمیٹی کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور مسئلے کے پرامن، باوقار اور دیرپا حل کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں اور ان کے بزرگوں سے ان کا باہمی عزت و احترام پر مبنی دیرینہ تعلق ہے جو آئندہ بھی برقرار رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرتے رہیں گے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گرد نہتے اور بے گناہ شہریوں کو بے دردی سے شہید کرتے، خاندانوں کو اجاڑتے اور معصوم بچوں کو یتیم کرتے ہیں، جبکہ ساتھ ہی ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹا اور گمراہ کن پروپیگنڈا کرکے عوام اور ریاست کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی ریاستی ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر روز اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی وقت پاکستان کے بہادر جوان وطن کے دفاع میں عظیم قربانیاں دے رہے ہیں۔ لسبیلہ میں شہید ہونے والے پاک فوج کے جوان بھی کسی کے بیٹے، کسی کے شوہر اور کسی خاندان کی امید تھے، جنہوں نے بلوچستان اور پاکستان کے امن، عوام کے تحفظ اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سطح پر مختلف سازشیں کی جا رہی ہیں۔ ایک سازش دہشت گردی، تشدد اور قتل و غارت کے ذریعے ملک کو غیر مستحکم کرنا ہے جبکہ دوسری سازش انہی جرائم کا الزام ریاستی اداروں پر عائد کرکے عوام کو گمراہ کرنا ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ دشمن کے جھوٹے بیانیے اور منفی پروپیگنڈے سے مکمل طور پر ہوشیار رہیں اور کسی بھی ایسی مہم کا حصہ نہ بنیں جس کا مقصد قومی اداروں کو کمزور کرنا ہو۔

Leave a Reply