چین نے ہزاروں کلومیٹر دور موجود طیاروں کو فضا میں نشانہ بنانےکے لیے ہائپرسونک میزائل تیار کرلیا ہے جس کی رینج حیران کر دینے والی ہے۔
امریکی ویب سائٹ بلوم برگ کے مطابق چینی فوج نے ایسے ہائپرسونک گلائیڈ وہیکلز (HGVs) تیار کیے ہیں جو فضا سے فضا میں مار کرنے والے ہتھیار بھی فائر کرسکتے ہیں، اس کی مدد سے ہزاروں کلومیٹر دور موجودکمانڈ اینڈکنٹرول طیاروں اور ری فیولنگ ٹینکرز طیاروں کو بھی نشانہ بنا کر دشمن کے لڑاکا طیاروں کا مواصلاتی نظام اور فضائی دفاعی شیلڈ مفلوج کی جاسکتی ہے۔
بلومبرگ کے مطابق ایسے وقت میں جب ایران کے ساتھ 6 ماہ سے جاری جنگ کے بعد امریکا کو اہم فضائی دفاعی میزائلوں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے، چین کی یہ پیشرفت مزید اہمیت اختیار کرگئی ہےکیونکہ اس کے پاس پہلے ہی 3 ہزار 150 سے زیادہ بیلسٹک میزائل موجود ہیں جو کہ دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔
اس معاملے سے براہ راست واقف ایک شخص نے شناخت ظاہر نہ کرنےکی شرط پر بلومبرگ کو بتایا کہ چین نے بعض ہائپرسونک کروز میزائلوں میں فضا سے فضا میں حملےکی صلاحیت بھی شامل کی ہے، جب کہ کئی اقسام کے میزائلوں میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانےکی صلاحیت پیدا کی گئی ہے۔
بلومبرگ کے مطابق ایسے ہتھیار چین کے ساتھ کسی ممکنہ جنگ کے دوران امریکی فضائی کارروائیوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتے ہیں اور چین ہزاروں میل دور سے بھی امریکی طیاروں کو نشانہ بناسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق DF-17 میزائل سے داغا جانے والا ایک ہائپرسونک گلائیڈ وہیکل تقریباً 2 ہزار 414 کلومیٹر تک سفر کرسکتا ہے۔ یہ فاصلہ چین سے بحرالکاہل میں واقع امریکی جزیرےگوام تک کے فاصلے سےکچھ ہی کم ہے،گوام امریکا کا ایک اہم فوجی اڈہ ہے۔
اس کے علاوہ چین کےDF-27 میزائل کی زیادہ سے زیادہ رینج تقریباً 8000 کلومیٹر ہے، جس کی وجہ سے امریکی ریاست ہوائی بھی اس کی زد میں آسکتی ہے۔
ہائپرسونک گلائیڈ وہیکلز ایسے وار ہیڈز ہوتے ہیں جو اپنے ہدف کی جانب جاتے ہوئے فضا میں اپنی سمت تبدیل کرسکتے ہیں جس کے باعث ان کی رینج بڑھ جاتی ہے اور انہیں راستے میں روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق فی الحال چین کے سوا دنیا کےکسی اور ملک کے بارے میں معلومات نہیں ہیں کہ اس کے پاس ایسے ہتھیار ہیں جن میں ہائپرسونک گلائیڈ وہیکلز اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی صلاحیت ایک ساتھ موجود ہو۔
چین نےگزشتہ سال سے میزائلوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ امریکی محکمہ جنگ پینٹاگون کے اندازے کے مطابق 2024 تک چین کے پاس کم از کم 3ہزار 150 بیلسٹک میزائل اور 300 زمین سے داغے جانے والے کروز میزائل موجود تھے۔

Leave a Reply