نیند کا وقت میٹابولک صحت کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے، خاص طور پر رات گئے تک جاگنے سے ذیابیطس، موٹاپے اور دیگر امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
جرنل فرنٹیئر میں شائع تحقیق میں دیکھا گیا تھا کہ سونے جاگنے کے اوقات مختلف عناصر جیسے جسمانی وزن اور غذائی انتخاب پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں۔
اس تحقیق میں ڈھائی سو سے زائد خواتین کو شامل کیا گیا اور دریافت ہوا کہ رات گئے تک جاگنے والی خواتین میں کھانے کی اشتہا زیادہ ہوتی ہے جبکہ ان میں جسمانی چربی کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے۔
اسی طرح ان خواتین میں بلڈ شوگر کے مسائل کا امکان زیادہ ہوتا ہے جبکہ خون میں چکنائی کی سطح بھی بدتر ہوتی ہے اور موٹاپے کا سامنا بھی زیادہ ہوتا ہے۔
ان خواتین کی عمریں 18 سے 45 سال کے درمیان تھیں اور ان کے 2 گروپس بنائے گئے، جن میں سے ایک گروپ کا جسمانی وزن صحت مند تھا جبکہ دوسرے گروپ میں موٹاپے کی جانب مائل خواتین کو شامل کیا گیا۔
ان خواتین کے خون کے نمونے اکٹھے کیے گئے اور ان سے سونے جاگنے کے اوقات معلوم کیے گئے۔
ان کے جسمانی وزن کے ڈیٹا کے ساتھ 5 دن تک غذاؤں کے استعمال کی تفصیلات بھی حاصل کی گئیں اور پھر انہیں کلائیوں میں ٹریکرز پہنائے گئے، جس سے محققین کو ان کی جسمانی سرگرمیوں اور نیند کی عادات کے بارے میں جاننے میں مدد ملی۔

Leave a Reply