کالم:بابا الف
پیسہ اور بہت پیسہ آنے کے بعد زندگی میں جو معاشرتی خلا پیدا ہوتا ہے وہ پرانا محلہ چھوڑنے پر ہی پورا ہوتا ہے۔ پیسہ کیا آتا ہے ”آل آف اے سڈن“ گلی، محلہ، بچپن اور نوجوانی کے دکھوں سکھوں کی ساتھی دنیا اور لوگ دل سے ا±تر جاتے ہیں۔ ان کی ترکیب ”استعمال پھر“ امراءکے نئے محلے میں جنازے کے شرکاءکی تعداد بڑھانے کے لیے ہی یاد رہتی ہے۔ پرانے سنگی بیلیوں کو اب خوشی کی تقریبات میں اس لیے مدعو نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ ممی ڈیڈی انداز میں کھانس بھی نہیں سکتے۔ تاہم محلہ چھوڑنے سے پہلے اور بہت پہلے دھیمے سے دھیمے آدمی کے ذہن میں پرانی موٹر سائیکل خریدنے کا خیال ضرورجنم لیتا ہے۔ بسوں میں دھکے کھانے کے بجائے موٹر سائیکل کا ہینڈل پکڑ کر پیدل گھسٹنا۔ ترقی درجات غربت کا یہ اگلا مرحلہ زیادہ اسمارٹ لگتا ہے۔ زندگی میں دو چیزیں عاجزی سکھاتی ہیں محبت اور موٹر سائیکل کا پنکچر۔
پرانی موٹر سائیکل بجلی کے تاروں کی طرح ہوتی ہے۔ صحیح چل جائے تو زندگی رواں دواں، نہ چلے تو جھٹکے ہی جھٹکے۔ اس میں موٹر سائیکل سے زیادہ قصور خالی ٹنکی کا ہوتا ہے۔ سائنس اس باے میں اب تک خاموش ہے کہ ٹنکی ہلانے سے پٹرول کی مقدار کا کیسے پتا چلتا ہے۔ میٹھا خربوزہ، اچھا وکیل، اچھی بہو اور اچھی موٹر سائیکل قسمت والوں کو ملتی ہے۔ کسی کو بکھرے بالوں، معمولی کپڑوں، اور پرانی موٹر سا ئیکل سے غریب نہ سمجھیں۔ ہو سکتا ہے وہ جسارت کا کالم نگار ہو جس کے پاس پریس کارڈ بھی نہ ہو۔ جس کے خواب موٹر سائیکل سے زیادہ کی اوقات ہی نہ رکھتے ہوں۔
ہماری پرانی موٹر سائیکل بارہ برس شہر بھر میں ہچکیاں لیتی، ڈانٹ کھاتی، گڑھوں، پتھروں اور اینٹوں کے صدمے برداشت کرتی، آئل اور پٹرول کی کمیابی قطرہ قطرہ سہتی، چو کسی کے ساتھ چلتی رہی لیکن یونی ورسٹی روڈ پر ایک برس میں ہی جانکنی کے عالم میںآگئی۔ کراچی کے پپیتے کھا کھا کر ہمارا پیٹ اتنا پلپلا نہیں ہوا جتنا اس ترقیاتی پروجیکٹ نے موٹر سائیکل کو پلپلا کردیا۔ آئے دن خراب، سمجھ میں نہیں آتا تھا آج مرمت کہاں سے شروع کروائیں؟ جب منزل چھوٹی اور راستہ لمبا لگنے لگے تب سمجھ لیں پرانی موٹر سائیکل بیچنے اور نئی خریدنے کا مرحلہ قریب ہی نہیں عنقریب آن لگا ہے۔ تاہم مشکل یہ آن پڑی کہ پرانی موٹر سائیکل کی دوسراتھ کے ہم اتنے عادی ہوگئے تھے کہ اسے بیچنے کے خیال سے ہی کرب وتنہائی جھر جھری لینے لگتی تھیں۔ جب ہم موٹر سائیکل پر آخری مرتبہ ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے نئے مالک کے سپرد کررہے تھے نہ جانے کیسے ٹنکی پر انگلی نے خود بخود ”اللہ حافظ“ لکھ دیا۔ ”جاﺅمیاں! تمہیں اللہ کی امان میں دیا، یونیورسٹی روڈ پر سفر سے پرہیز کرنا“۔
کئی دن ہمارا بلڈ پریشر موٹر سائیکل کی یادوں سے الجھا الجھا رہنے کے بعد سنبھلا تو نئی موٹر سائیکل خریدنے کا خیال دل میں بل کھانے لگا۔ باوجود قویٰ مضمحل ہونے کے ہمارے اندر سڑک پر نکلنے کی خواہش مری نہیں تھی۔ ہمیں یقین تھا جس دن یہ خواہش مرگئی ہم واقعی بوڑھے ہو جائیں گے۔ موٹر سائیکل ہر موڑ پر ہمیں فیصلہ کرنے کا موقع دیتی ہے۔ کہاں بریک لگانی ہے، کہاں مڑنا ہے اور کہاں سیدھا چلنا ہے۔ ناک آﺅٹ شادی شدگان کو اس سے زیادہ جینے کی آزادی کیا مل سکتی ہے؟ موٹر سائیکل یہ نہیں پوچھتی ”کہاں سے آئے ہو؟ کیوں آئے ہو؟ وہ صرف اتنا پوچھتی ہے۔۔ آگے۔۔ کہاں جانا ہے“۔ موٹر سائیکل پر آدمی صرف منزل تک نہیں جاتا، پرانے راستوں سے اس محبت کا اعادہ کرنے بھی نکلتا ہے جس کے بارے میں سڑک پوچھتی ہے ”آج تمہارا ساتھی کہاں رہ گیا ہے“۔
کار میں آپ فرزند زمین نہیں رہتے۔ سڑک سے کھنچے کھنچے، ڈرے ڈرے رہتے ہیں۔ موٹر سائیکل پر آپ سڑک کا حصہ بن جاتے ہیں۔ آپ کو ہوا محسوس ہوتی ہے، گرمی محسوس ہوتی ہے، سردی محسوس ہوتی ہے، بارش محسوس ہوتی ہے، دھول محسوس ہوتی ہے، کسی کی قربت محسوس ہوتی ہے۔ موٹر سائیکل آہستہ چلانے کو اور زندگی زیادہ دیر جینے کو دل کرتا ہے۔ آپ آنکھوں سے نہیں، پورے وجود سے سفر کرتے ہیں، ایک توازن کے ساتھ ورنہ سڑک کو آپ سے محبت ہو جاتی ہے۔ راہ چلتے بصد مشکل آپ دونوں کو الگ الگ کرتے ہیں۔ موٹر سائیکل کی سواری میں اب صرف رومان، آزادی اور توازن نہیں رہتا، حقیقت پسندی بھی درآتی ہے۔
ایک دوست سے نئی موٹر سائیکل خریدنے کی بابت مشورہ کیا تو بولے ”اس عمر میں بھی۔۔ نئی۔۔ کا شوق نہیں گیا۔ نئی ہو یا پرانی تمہارے لیے برابر ہے۔ ملکوں ملکوں، شہروں شہروں، تم گھوم نہیں سکتے، لطف اور حسن کا فیضان عرصہ ہوا تم سے کنارہ کرچکا۔۔ اگر دنیا گھوم بھی لی تو کیا کرلوگے؟“ ہم نے رسان سے کہا ”صرف آفس آنے جانے کے لیے چا ہیے“ بولے ”تمہارے مزاج اور کردار کو ہم جا نتے ہیں۔ تین ماہ بعد بولوگے۔ یار ہنزہ چلیں۔ چھے ماہ بعد بولوگے۔۔ یار سوات چلیں۔۔ ایک سال بعد بولوگے۔ یار موٹر سائیکل پر ملک سے باہر جانے کا کوئی راستہ ہے؟“۔
چلتی پھرتی اور بہت ساری باتیں کرتی ہوئی بیوی کے باوجود گھر میں کھڑی موٹر سائیکل گھر سے دور نکل جانے کی ترغیب دیتی ہے۔ یہ ترغیب اگر نئی موٹر سائیکل کی صورت ہو تو خوشی دوبالا ہوجاتی ہے۔ نئی موٹر سائیکل کی صورت صرف دو وہیلز نہیں ملتے۔ ہر موڑ، رفتار اور منزل آپ کے انتخاب کی کہانی بن جاتی ہے۔ ایسے ہی کسی موقع کے لیے سارتر نے کہا تھا ”انسان آزادی کے لیے مجبور ہے“۔ تب صرف آزادی کے لیے ہی نہیں، انسان ”موٹر سائیکل“ کے لیے بھی مجبور ہو جاتا ہے۔ موٹر سائیکل پر بیٹھا آدمی بادشاہ ہوتا جب تک کہ بارش نہ ہوجائے۔
خریداری کا سنہری اصول یہی ہے کہ خریداری کا کوئی سنہری اصول نہیں۔ نئی موٹر سائیکل خریدنے بازار نکلے تو علم ہوا کہ موٹر سائیکل محض ضرورت نہیں۔ ان گنت برانڈوں، ماڈلوں اور رنگوں نے اسے خواہش بنادیا ہے جس میں تازہ اضافہ الیکٹرک بائیکس ہیں۔ ایک دوسرے سے مسلسل تقابل اور موازنہ کرتے گاہک کی ناک میں نتھ کی طرح لٹکے دکاندار ایک الگ مصیبت۔ ایک دکاندار نے جب ایک برانڈ کی قیمت دس ہزار اوپر بتائی تو ہم نے عرض کی ”حضور برابر والی دکان پر تو آپ کی بتائی ہوئی قیمت سے دس ہزار کم میں مل رہی ہے“ بولے ”تو وہاں سے خرید لیجیے“ ہم نے کہا ”ان کے پاس آج ہی اسٹاک ختم ہوگیا ہے“ مسکراتے ہوئے بولے ”تو پھر تین چاردن انتظار کر لیجیے ہمارے پاس اسٹاک ختم ہو جائے گا تو پھر ہم بھی دس ہزار کم میں بیچنا شروع کردیں گے“۔
کسی نے کہا تھا ”جو شخص ایک مدرسے کا دروازہ کھولتا ہے وہ ایک جیل کی تعمیر بند کروا دیتا ہے“۔ ہماری موٹر سائیکل ایک جیل کی تعمیر رکوانے کے لیے روزانہ جا مع السعید، ایک دینی مدرسے کے دروازے میں داخل ہوتی ہے۔ سردیوں کی گہرائی میں بھی یہ درس گاہ ہمارے اندر ایک ناقابل شکست گرمی کی صورت موجود رہتی ہے۔ تاہم اس درس گاہ تک پہنچنے کے لیے طویل سفر کی کٹھن منزل بہر حال موٹر سائیکل ہی طے کراسکتی ہے۔ یوں موٹر سائیکل ایک خواب اور تصور سے زیادہ ایک ضرورت بن گئی تھی۔ ایک دوست نے مشورہ دیا کہ خوش رہنا ہے تو یاما ہا ہا ہاہالے لو۔ اس پر سفر کا لطف منزل میں نہیں راستے میں ہے اگر پیچھے کوئی چکا چوند ہمسفر بیٹھا ہو! عرض کیا ہماری موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھی سواری دکھانے والے آئینے تو صرف ڈاڑھی دکھاتے ہیں۔ بولے تو پھر آپ کے لیے چائنا کی موٹر سائیکل ہی درست انتخاب ہے۔ اور ہاں سیلف اسٹارٹ لیجیے گا آپ کے گھٹنے کک لگانے کے ہی نہیں، اب کسی بھی کام کے نہیں رہ گئے ہیں۔پروجیکٹ نے موٹر سائیکل کو پلپلا کردیا۔ آئے دن خراب، سمجھ میں نہیں آتا تھا آج مرمت کہاں سے شروع کروائیں؟ جب منزل چھوٹی اور راستہ لمبا لگنے لگے تب سمجھ لیں پرانی موٹر سائیکل بیچنے اور نئی خریدنے کا مرحلہ قریب ہی نہیں عنقریب آن لگا ہے۔ تاہم مشکل یہ آن پڑی کہ پرانی موٹر سائیکل کی دوسراتھ کے ہم اتنے عادی ہوگئے تھے کہ اسے بیچنے کے خیال سے ہی کرب وتنہائی جھرجھری لینے لگتی تھیں۔ جب ہم موٹر سائیکل پر آخری مرتبہ ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے نئے مالک کے سپرد کررہے تھے نہ جانے کیسے ٹنکی پر انگلی نے خود بخود ”اللہ حافظ“ لکھ دیا۔ ”جاﺅمیاں! تمہیں اللہ کی امان میں دیا، یونیورسٹی روڈ پر سفر سے پرہیز کرنا“۔

Leave a Reply