کالم:شاہنواز فاروقی
ایک زمانہ تھا کہ برصغیر کی مسلم صحافت ”عالمانہ صحافت“ تھی۔ مولانا محمد علی جوہر ایک دانش ور تھے اور اخبار کے مدیر بھی۔ مولانا حسرت موہانی اعلیٰ پائے کے شاعر تھے اور بلند پایہ صحافی بھی۔ مولانا ابوالکلام آزاد مفسر قرآن تھے اور اعلیٰ درجے کے صحافی بھی۔ مولانا مودودی مفکر اسلام تھے اور بلند قامت صحافی بھی۔ 1980ءکی دہائی تک بھی ہماری صحافت کے پاس بڑے نام تھے۔ سلیم احمد ممتاز نقاد اور بڑے شاعر تھے اور وہ روزنامہ جسارت میں کالم نگاری کیا کر تے تھے۔ بعدازاں وہ حریت سے وابستہ ہوگئے۔ صفدر میر بائیں بازو کے قلم کار تھے اور وہ ڈان میں دانش ورانہ کالم لکھا کرتے تھے۔ قمر جمیل معروف نقاد اور خوبصورت شاعر تھے اور وہ روزنامہ نوائے وقت میں کالم لکھا کرتے تھے۔ ہماری صحافت جب تک ”عالمانہ“ تھی اخبارات میں علمی، تہذیبی اور تاریخی نوعیت کے سوالات ا±ٹھائے جاتے تھے۔ مگر اب ہماری صحافت کو سیاست کا ہیضہ ہوگیا ہے۔ ہمارے 99.99 فی صد کالم نگار صرف سیاست پر لکھتے ہیں۔ ایسے صحافی جن کے کالموں میں عالمانہ شان ہوتی ہے ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ محمود شام ملک کے معروف صحافی ہیں اور روزنامہ جنگ کے کالم نگار بھی۔ ان کے اکثر کالم بھی سیاسی ہوتے ہیں مگر کبھی کبھی وہ اپنے کالم میں اہم علمی سوال بھی اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک حالیہ کالم میں معاشرے کی بے حسی کا ماتم کیا ہے۔ انہوں نے کیا لکھا ہے انہی کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے۔ لکھتے ہیں۔
”الحمدللہ آزادی کا 80 واں سال شروع ہو گیا ہے۔ جشن آزادی خوب منایا گیا مگر ایک آزاد خود مختار ملک کے افراد کے چہروں پر جو روشنی اور شگفتگی ہونی چاہیے وہ نظر نہیں آتی۔ ہم اپنے ارد گرد جو بے بسی دیکھ رہے ہیں اور سماج میں جیسے بھیانک جرائم کا ارتکاب ہو رہا ہے کیا ایسا ہونا چاہیے تھا۔ دل خون کے آنسو روتا ہے 15 ماہ کی بچی کیساتھ زیادتی کی خبر۔ تھانوں میں فریاد لے کر آنے والی بیٹیاں، بہنیں، مائیں، تھانیداروں کی ہوس کا شکار۔ جائداد کے تنازع پر بیٹا باپ کو قتل کر رہا ہے۔ مذہبی قوانین کا سہارا لے کر اپنے مخالفین کو جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔ 60 فی صد نوجوان آبادی میں سے اکثریت بے روزگار ہے۔ کیا سماج کی تخلیق اور تشکیل صرف حکمران کرتے ہیں۔ کیا اچھے برے رجحانات گھروں کے ماحول میں پرورش نہیں پاتے۔ تعلیمی اداروں کی تدریس اور تربیت معاشرے کی تشکیل نہیں کرتی۔ پاکستان میں تو ارضی نقشہ صدیوں کی کشاکش سے وجود میں آیا ہے۔1947ءکے بعد ہماری تاریخ سانحوں اور ناکامیوں سے بھری ہوئی ہے۔ المیوں کی ذمے داری صرف شخصیتوں پر ڈال دی جاتی ہے۔ دلائل منطق اور دانش کی بنیاد پر ہم نے اپنے معاشرے کو مستحکم بنانے کی کوشش نہیں کی۔ یونیورسٹیاں اور تحقیقی ادارے معاشرے کے رجحانات پر تحقیقی رپورٹیں پیش نہیں کرتے۔ حکمران تو ہیں ذمے دار لیکن ہم سب میڈیا والوں، بزنس مینوں، اساتذہ، یونیورسٹی مالکان، مساجد کے خطیب سب نے ایک صحت مند ماحول تخلیق کرنے کی منصوبہ بندی نہیں کی ہے۔ اس لیے اکثریت زندگی کی آسانیو ں کو ترستی ہے۔ یہ درست ہے کہ کسی زمانے میں حکمران اور اپوزیشن رہنما اپنی تقریروں سے لوگوں کو ولولہ تازہ دیتے تھے۔ ان کی دعوت ہوتی تھی کہ لوگ کچھ کریں، نکلیں آج کے حاکم اپنی یہ ذمے داری نہیں سمجھتے۔ اکثریت کس مشکل میں زندگی گزارتی ہے۔ کس طرح بچوں کا پیٹ پالتی ہے۔ رہائشی علاقے کیسے ہیں، کتنے کمروں میں کتنے لوگ رہتے ہیں۔ پینے کا صاف پانی ملتا ہے یا نہیں۔ دو وقت کی روٹی مل رہی ہے یا نہیں، نوجوانوں کے پاس معقول روزگار ہے، سہولتیں ہیں۔ گھر سے دفتر یا کارخانے تک پہنچنے کے لیے ٹرانسپورٹ سستی یا مہنگی تو الگ بات، دستیاب بھی ہے کہ نہیں۔ آبادی کے مطابق بسیں بھی نہیں ہیں، موٹر سائیکل غریب کی سواری ہے۔ پورا پورا خاندان اس پر سوار ہوتا ہے۔ ہر دن جان جوکھم میں ڈالی جاتی ہے۔ کوئی کونسلر، چیئرمین، ایم پی اے، ایم این اے، سینیٹر، وزیر اپنے علاقے کی اس بے بسی کا کوئی تدارک سوچتا ہے۔ کسی میونسپل ہال، اسمبلی ہال میں سواری کے اس بنیادی مسئلے پر کوئی بات ہو رہی ہے۔ ملک میں قیمتی گاڑیاں بن رہی ہیں۔ بسیں نہیں بنتی ہیں۔
محلے داری ختم ہو گئی ہے دیوار بہ دیوار ہمسائے بھی آپس میں نہیں ملتے۔ پہلے ایک دوسرے کے ہاں جو بھی پکتا تھا، بھیجا جاتا تھا۔ محلے میں بزرگوں کی بات سنی جاتی تھی۔ بیٹیاں سانجھی ہوتی تھیں۔ ماﺅں بہنوں کا احترام کیا جاتا تھا۔ اب ایک اجنبیت اور دوریاں ہیں“۔ (روز نامہ جنگ، 16 اگست 2026ئ)
ہمارے یہاں مسائل کے سرسری تجزیے کا مسئلہ عام ہے۔ شام صاحب کے کالم میں بھی یہ معاملہ موجود ہے۔ انہوں نے مسئلے کا تجزیہ کیا ہے مگر سرسری۔ ہمارے لکھنے والوں کی عظیم اکثریت کو معلوم نہیں کہ اگر امت مسلمہ سنگین مسائل سے دوچار ہے تو اس کی جڑیں ہمارے تصور خدا اور ہمارے تعلق باالرسول میں پیو ست ہیں۔ مسلمانوں کی عظیم اکثریت کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے لیے خدا کوئی ”زندہ حقیقت“ نہیں ہے۔ ”حاضر و ناظر ہستی“ نہیں ہے۔ مسلمانوں کے لیے خدا صرف ایک ”تصور“ ہے۔ ایک Co nc ept ہے۔ اس کا ایک ٹھوس ثبوت مسلما نوں کی نمازیں ہیں۔ اوّل تو مسلمانوں کی عظیم اکثریت نماز ہی نہیں پڑھتی اور جو لوگ نماز پڑھتے ہیں وہ چالیس پچاس سال نماز پڑھنے کے باوجود ”بہترین انسان“ نہیں بن پاتے۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ ہمارا دین کہتا ہے نماز اس طرح پڑھو گویا تم خدا کو دیکھ رہے ہو اور اگر اس طرح نماز نہیں پڑھ سکتے تو کم از کم اس طرح تو نماز ضرور ہی پڑھو گویا خدا تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ نمازیوں کی عظیم اکثریت کو نماز پڑھتے ہوئے نہ خدا کی موجودگی محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی انہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ خدا انہیں دیکھ رہا ہے۔ نمازیوں کی 99 فی صد تعداد کے لیے نماز ”محبت“ نہیں ایک ”عادت“ ہے۔ جس طرح بعض لوگوں کو خوامخواہ کان کھجانے کی ”عادت“ ہوجاتی ہے اور گاہے گاہے کان کھجاتے رہتے ہیں۔ اسی طرح اکثر مسلمانوں کو نماز پڑھنے کی ”عادت“ ہوجاتی ہے اور وہ بے شعوری کی حالت میں نماز پڑھتے رہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس نماز سے ”شعور بندگی“ پیدا نہیں ہوتا وہ مسلمان کو ”بہتر انسان“ یا ”بہتر مسلمان“ نہیں بنا سکتی۔ یہی معاملہ دیگر عبادات کا ہے۔ مسلمان رمضان میں ایک مہینے کے روزے رکھتے ہیں مگر مسلمانوں کی عظیم اکثریت کو روزوں سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ روزے بھی مسلمانوں کو اندر سے نہیں بدل پاتے۔ جیسے ہی رمضان رخصت ہوتا ہے مسلمان ایک ہی دن میں رمضان سے پہلے والی زندگی کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی عظیم اکثریت کے لیے روزے بھی ”محبت“ نہیں صرف ایک ”عادت“ ہیں۔رسول اکرمکی سیرت طیبہ وہ سیرت ہے جس نے ابوبکرؓ، عمر فاروقؓ، عثمان غنیؓ، اور علی مرتضیٰ جیسی عظیم شخصیات کو پیدا کیا ہے۔ مگر اب رسول اکرم کی عظیم الشان سیرت بھی مسلمانوں کی روح، قلب اور نفس میں انقلاب برپا نہیں کررہی۔ رسول اکرم سے ہمارے تعلق کے دو بنیادی تقاضے ہیں۔ ایک یہ کہ ہمیں رسول اکرم سے غایت درجے کی عقیدت ہو اور دوسرا یہ کہ ہمیں رسول اکرم سے غایت درجے کی محبت ہو۔ عقیدت کا حاصل جاں نثاری ہے اور محبت کا حاصل رسول اکرم کا اتباع یا پیروی ہے۔ اب مسلمانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں رسول اکرم سے غایت درجے کی عقیدت ہے۔ کسی بھی مسلمان کے سامنے کوئی غیر مسلم رسول اکرم کی شان میں گستاخی کردے تو مرے سے مرا مسلمان بھی اس پر جان لے بھی سکتا ہے اور جان دے بھی سکتا ہے۔ مگر مسلمانوں کی عظیم اکثریت کو رسول اکرم سے محبت بس سرسری سی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مسلمان رسول اکرم کا اتباع یا پیروی کرنے کے لیے تیار نہیں۔ نہ مسلمان رسول اکرم کی طرح خدا مرکز زندگی بسر کررہے ہیں۔ نہ ان کی نمازوں میں خشوع و خضوع ہے۔ نہ وہ رسول اکرم کی طرح نرم خو ہیں۔ نہ وہ رسول اللہکی طرح معاف کرنے والے ہیں۔
نہ وہ رسول اکرم? کی طرح دنیا سے بے نیاز ہیں۔ رسول اکرم? دنیا سے اتنے بے نیاز تھے آپ? نے دنیا کو بکری کے مرے ہوئے بچے سے زیادہ حقیر قرار دیا ہے اور رسول اکرم? نے فرمایا ہے کہ اگر دنیا مچھر کے پَر کے برابر بھی اہم ہوتی تو کافروں اور مشرکوں کا اس میں کوئی حصہ نہ ہوتا۔ لیکن مسلمانوں کی عظیم اکثریت کا حال یہ ہے کہ وہ دنیا کے عشق میں مبتلا ہے۔ اسے دولت، شہرت، مقام اور مرتبے سے زیادہ کچھ عزیز نہیں۔ ظاہر ہے کہ جب ہماری زندگیاں خدا مرکز اور رسول مرکز نہیں ہوں گی تو معاشرے میں بے حسی عام کیوں نہیں ہوگی؟۔
خدا اور رسول کی محبت کے بعد مسلمانوں کی زندگی میں انقلاب برپا کرنے والی تیسری طاقت ”علم“ ہے۔ آسمانی کتابیں تو یہودیوں، عیسائیوں اور ہندوﺅں کے پاس بھی ہیں مگر مسلمانوں نے جتنا بڑا علم تفسیر پیدا کیا ہے دوسری قومیں اس کا دس فی صد بھی پیدا نہیں کرسکیں۔ دنیا میں ایک لاکھ 24 ہزار انبیا آئے مگر اب سیدنا ابراہیم?، سیدنا موسیٰ? اور سیدنا عیسیٰ? جیسے جلیل القدر پیغمبروں کے بھی چند ہی اقوال سے ہم واقف ہیں مگر مسلمانوں نے رسول اکرم? کے اقوال کی بنیاد پر اتنا بڑا علم حدیث پیدا کیا ہے جس کی کوئی نظیر انسانی تاریخ میں موجود نہیں۔ مسلمانوں نے شاعری کی اتنی بڑی روایت پیدا کی ہے کہ اگر مولانا روم کی شاعری کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دنیا کی دوسری اقوام کے سو بڑے شاعروں کا کلام ترازو کے دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو مولانا روم کی شاعری کا پلڑا بھاری ہوگا۔ اسی لیے مولانا کی شاعری کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ فارسی کا قرآن ہے۔ یہ مولانا کی شاعری کی مبالغہ آمیز تعریف ہے مگر اس مبالغے کے بغیر مولانا کی شاعری کی عظمت کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔ اردو نے بھی چار عظیم شاعر پیدا کیے ہیں۔ یعنی میر تقی میر، غالب، اکبر الٰہ آبادی اور اقبال۔ میر کو خدائے سخن کہا گیا ہے یہ بھی مبالغہ ہے مگر ایسا مبالغہ جس کے بغیر میر کی شاعری کی عظمت کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔ غالب کی شاعری کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں۔ وید اور دیوان غالب۔ یہ بھی مبالغہ ہے مگر ایسا مبالغہ جس کے بغیر غالب کی عظمت آشکار نہیں ہوسکتی۔ اکبر کے انتقال پر اقبال نے اکبر کے بیٹے کے نام اپنے تار میں کہا تھا کہ پورے ایشیا میں ان کے جیسا کوئی شاعر نہیں ہوا۔ خود اقبال کے بارے میں قائد اعظم نے کہا ہے کہ مجھے اگر ریاست اور اقبال کی شاعری میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو میں اقبال کی شاعری کا انتخاب کروں گا۔ مسلمانوں نے داستانوں کی بڑی روایت پیدا کی ہے۔ اب مغرب کے دانش ور بھی تسلیم کرنے لگے ہیں کہ ان کے پاس فلسفے اور سائنس کا جتنا علم ہے وہ مسلمانوں کا دیا ہوا ہے۔ مگر بدقسمتی سے اب مسلمانوں کا شاعری اور فلسفے سے کیا قرآن و حدیث کے علم سے بھی ”زندہ تعلق“ نہیں۔ چنانچہ مسلمانوں پر علم اثر انداز نہیں ہورہا۔ ایسے میں مسلم معاشرے پستی کا شکار نہیں ہوں گے تو اور کس چیز کا شکار ہوں گے۔
انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ معاشرے میں موجود ”کرداری نمونے“ بھی افراد کی زندگی میں انقلاب برپا کرتے ہیں۔ رسول اللہ? کے کرداری نمونے نے صحابہ کو پیدا کیا۔ صحابہ کے کرداری نمونوں نے تابعین پیدا کیے، تابعین کے کرداری نمونوں نے تبع تابعین کو جنم دیا۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اگر سقراط نہ ہوتا تو افلاطون کا بھی وجود نہ ہوتا اور اگر افلاطون نہ ہوتا تو ارسطو بھی نہ ہوتا۔ محمد حسن عسکری اردو ادب کے سب سے بڑے نقاد ہیں۔ ان کا علم قاموسی یا Encyclopedic تھا مگر وہ جب تک زندہ رہے اپنے اساتذہ فراق گورکھ پوری اور دیب صاحب کے گیت گاتے رہے۔ سلیم احمد اردو کے بڑے نقاد اور شاعر ہیں۔ انہوں نے ریڈیو کے لیے پونے دو سو ڈرامے لکھے۔ دو درجن سے زیادہ فلموں کے مکالمے لکھے۔ مگر وہ ساری زندگی کہتے رہے کہ انہوں نے جو کچھ لکھا ہے اپنے استاد محمد حسن عسکری سے سیکھا ہے۔ مگر ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ اب ہمارے معاشرے سے بڑے کرداری نمونے ا±ٹھ گئے ہیں یا اٹھالیے گئے ہیں۔ اب معاشرے کا Ideal اداکار ہیں، گلوکار ہیں، کرکٹرز ہیں، ماڈل گرلز ہیں، جرنیل ہیں، مال دار لوگ ہیں، ہم اپنی پوری تعلیمی زندگی میں استاد تلاش کرتے رہے۔ ہمیں نہ اسکول میں استاد ملا، نہ کالج میں فراہم ہوا نہ یونیورسٹی میں میسر آیا۔ معاشر بلندی کی طرف جائے تو کیسے؟ معاشرے میں بے حسی عام نہ ہو تو کیا ہو؟
معاشرہ بے حِس کیوں ہے؟
adminshuja
اگلی خبر →
منڈیلا نے قوم کو چنا، عمران خان نے کیا چنا؟

Leave a Reply