کالم:تجزیہ: سمیع اللہ ملک
یہ عہدجس کی دہلیزپرانسان اپنی فکری فتوحات کے جھنڈے نصب کئے کھڑاہے،دراصل صرف ترقی کاجشن نہیں بلکہ آزمائشوں کی ایک پیچیدہ تمہیدبھی ہے۔یہ وہ زمانہ ہے جس میں عقلِ انسانی نے کائنات کے سربستہ رازوں پرسے پردہ اٹھانے کی جسارت کی،اورایٹم کے سینے میں چھپی ہوئی قوت کومسخرکرکے گویاقدرت کے خاموش صحیفوں کوزبان دے دی۔ مگرعلم کی وسعتو ں کودیکھتے ہوئے اس تنبیہ کو ہم بھول جاتے ہیں کہ ہرانکشاف اپنے سا تھ ایک نئی ذمہ داری بھی لے کرآتاہے اوریہی ذمہ داری جب شعورکی گرفت سے ڈھیلی پڑ جائے توعلم خودایک آزمائش بن جاتاہے۔
ایٹمی توانائی،جوبظاہرچراغِ تمدن کی لو کو تیز کرتی ہے،اپنے دامن میں ایک ایسی مہیب خاموشی بھی سموئے ہوئے ہے جوبقول اکابرین، آگ کے اس الاوکی مانندہے جس سے حرارت بھی حاصل کی جاسکتی ہے اوراگراحتیاط کادامن چھوٹ جائے تویہی آگ خاکستربھی کر سکتی ہے۔انسان نے ایٹم کے پردے چاک کرکے توانائی کے خزانے تودریافت کر لیے،مگراس کے ساتھ وہ ایک ایسے دہانے پربھی آکھڑا ہواجہاں روشنی اور ہلاکت کے درمیان فاصلہ محض ایک لمحے کی لغزش رہ گیاہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں عصرِحاضرکی اصل کشمکش جنم لیتی ہے ،برق رفتارترقی اورسست رفتاراحتیاط کے درمیان ایک مسلسل اور تھکادینے والی کشمکش۔ہم نے صنعت وترقی کے چراغ روشن کیے، مگران چراغوں کی لوکے پیچھے ایک سایہ بھی پروان چڑھتارہاایک ایساسایہ جوانسا نی کوتاہیوں،ادارہ جاتی کمزوریوں اور معلومات کے غیرمحتاط استعمال سے اور بھی گہراہوتا جاتاہے۔یہ خوف کسی خار جی دشمن کانہیں بلکہ خودانسان کے اپنے ہاتھوں کی پیداوارہے؛وہی ہاتھ جوتعمیر بھی کرتے ہیں اورانہدام کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
انڈیا کے ” کوڈن کولم“ جوہری پاورپلانٹ سے متعلق حالیہ ڈیٹالیک کاواقعہ اسی تہذیبی تضادکاایک واضح استعارہ ہے۔ یہ واقعہ محض ایک تکنیکی خلل یاحفاظتی لغزش نہیں بلکہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہمارے عہدکی فکری،سیاسی اوراخلاقی الجھنیں پوری وضاحت کے ساتھ جھلکتی ہیں۔یہاں سوال صرف معلومات کے افشا کا نہیں، بلکہ اس پورے نظامِ فکرکا ہے جس میں ترقی کوسرعت توحاصل ہے مگر تحفظ کی بنیادیں ابھی تک اسی استحکام سے محروم ہیں جس کی یہ متقاضی ہے۔ اگربصیرت افروزنگاہ سے اس منظرکود یکھاجائے تویہ واقعہ ہمیں اس عدمِ تواز ن کی یاددلاتاہے جس کاشکارجدید تہذ یب بارہاہوتی آئی ہے جہاں علم کی وسعت توبڑھتی ہے مگرحکمت کی گہرائی اس کے شانہ بشانہ نہیں بڑھ پاتی۔ یہی وہ خلاہے جہاں سے خطرات جنم لیتے ہیں اور معمولی سی لغزش ایک بڑے سانحے کی تمہیدبن جاتی ہے۔
اے اہلِ فکرونظر!یہ واقعہ محض ایک خبرنہیں،بلکہ ایک استفسارہے ایسااستفسا جوعقل کے ایوانوں میں بھی گونجتاہے اوردل کی خلوتوں میں بھی اضطراب پیدا کرتاہے۔یہ ہمیں دعوت دیتاہے کہ ہم اس کے ظاہرکو ہی نہیں بلکہ اس کے باطن کوبھی دیکھیں،اس کے اعدادو شمار سے آگے بڑھ کراس کے معانی اورمضمرات کوسمجھیں۔یہ سوال اٹھاتاہے کہ کیاہم نے ترقی کی دوڑ میں احتیاط کی رفتارکو بہت پیچھے تونہیں چھوڑ دیا ؟کیا ہماری ترجیحات میں توازن باقی ہے یاہم ایک ایسے راستے پرگامزن ہیں جہاں روشنی کے تعاقب میں سایہ ہمارامقدر بنتا جارہا ہے؟
یہی وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ،فکراوربصیرت تینوں ہمیں ایک نئے محاسبے کی طرف بلاتے ہیں۔ہمیں اپنے علمی غرورکوحکمت کی زنجیرمیں جکڑناہوگا،اورترقی کے اس سفرکوذمہ داری کے چراغ سے منورکرنا ہوگاورنہ وہی ایٹم جسے ہم نے روشنی کااستعارہ بنایا ہے،کسی دن ہمارے اپنے ہاتھوں میں ایک سوالیہ نشان بن کرکھڑا ہو گا۔ پس،کوڈن کولم کایہ واقعہ ایک تنبیہ ہے ہمیں یاددلاتی ہے کہ تہذیبیں صرف علم سے نہیں بلکہ احتیاط،بصیرت اورتوا زن سے بھی زندہ رہتی ہیں۔اگرہم نے اس سبق کونظرا ندازکیاتوترقی کایہ سفر، جسے ہم اپنی کامیا بی سمجھتے ہیں،کسی انجا نے موڑپر ہماری آزمائش بن سکتا ہے۔
جب کسی جوہری تنصیب سے متعلق معلو مات کے افشاہونے کی خبرافقِ خبرپرنمو دارہوتی ہے تویہ محض ایک تکنیکی اطلاع نہیں رہتی بلکہ اجتماعی شعورکی گہرائیوں میں ایک اضطراب، ایک انجاناارتعاش پیداکردیتی ہے۔ کوڈن کولم جوہری پاورپلانٹ سے متعلق مبینہ ڈیٹا لیک نے بھی اسی نوع کی ایک فکری ہلچل کوجنم دیاایسی ہلچل جس نے نہ صرف ماہرین بلکہ عام انسان کے ذہن میں بھی یہ سوال جگایاکہ آیایہ واقعہ کسی بڑے خطرے کا پیش خیمہ ہے یامحض ایک سراب جسے حالات نے غیرمعمولی رنگ دے دیاہے ۔سرکاری سطح پر،نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ نے اس امرکی وضاحت کرتے ہوئے یہ موقف اختیارکیا کہ افشا ہونے والی معلومات حساس نوعیت کی حامل نہیں،بلکہ وہ انتظامی اورتعمیراتی پہلو ﺅں تک محدود ہیں۔ بظاہریہ وضاحت ایک حدتک اطمینان کا سامان فراہم کرتی ہے ایک ایسااطمینان جوسطح نظرکومطمئن توکردیتاہے مگر بصیرت کی گہرائیوں میں اترنے سے قاصررہتاہے۔
مگر،تاریخ کی گواہی کچھ اورکہتی ہے۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خطرہ ہمیشہ اپنی مکمل ہیئت کیساتھ ظاہرنہیں ہوتا؛وہ اکثر معمولی دراڑوں، بظاہربے ضرر جزئیات اورمنتشر معلومات کے ان ذرا ت میں پوشیدہ ہوتاہے جوکسی ماہرذہن کے لئے ایک مکمل نقشہ تشکیل دے سکتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سرکاری بیانیہ اورعلمی وفکری حلقوں کی تشویش کے درمیان ایک خاموش مگرگہرا فاصلہ جنم لیتاہے۔
اے اہلِ فکر!کیاخطرہ ہمیشہ اپنے نام کے ساتھ واردہوتاہے؟کیاہرزہراپنی شنا خت واضح کر کے پیش کیا جاتا ہے ؟حقیقت یہ ہے کہ خطرے کی اصل ماہیت اکثر پردہ اخفامیں رہتی ہے،او راس کی شناخت کے لئے محض ظاہری مشاہدہ نہیں بلکہ گہری بصیرت درکارہوتی ہے۔ کوڈن کولم کے اس واقعے نے ہمیں اسی بنیادی سوال کے روبرولاکھڑاکیاہے کہ آیاہم خطرے کوصرف اس کی موجودہ صورت میں پرکھتے ہیں یااس کے ممکنہ ارتقائی مراحل اوراثرات کوبھی سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟یہ کہناکہ افشا شدہ معلومات براہِ راست جوہری تحفظ سے متعلق نہیں،بلاشبہ ایک محدوددائرے میں درست ہوسکتاہے؛مگردانش کی آنکھ اس دائرے کو توڑ کر آگے دیکھتی ہے۔خطر ہ ہمیشہ براہِ راست حملے کی صورت میں ظاہرنہیں ہوتا،بلکہ وہ معلومات کے ان منتشراجزا میں بھی پنہاں ہوسکتاہے جو یکجاہوکرایک بڑے خطرے کی تمہیدبن جائیں۔یہی وہ نکتہ ہے جسے نظراندازکرنا دراصل خودکو ایک فریب میں مبتلاکرنے کے مترادف ہے۔پس،یہ واقعہ ہمیں ایک نہایت اہم سبق دیتاہے، سکیورٹی صرف مضبوط دیواروں،پیچیدہ نظاموں یا مہلک ہتھیاروں کانام نہیں، بلکہ یہ معلومات کے ہرذرے،ہر سطراور ہر ممکن اشارے کی حفاظت کانام ہے۔کیونکہ جدید عہد میں معلومات ہی وہ قوت ہے جویاتوتحفظ کی بنیاد بن سکتی ہے یاخطرے کادروازہ کھول سکتی ہے۔یوں کوڈن کولم کایہ ڈیٹالیک محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک فکری آئینہ ہے ایساآئینہ جس میں ہم اپنی اجتماعی بصیرت،اپنی ترجیحات اوراپنے حفاظتی تصورات کی اصل صورت دیکھ سکتے ہیں۔اوریہی ادراک،اگرصحیح معنوں میں حاصل ہوجائے،توشایدہمیں آنے والے خطرات کی پیش بندی کاشعوربھی عطاکر دے۔
جب کوڈن کولم کے واقعے کے پس منظرمیں سرکاری سطح پریہ وضاحت سامنے آئی کہ افشاشدہ معلومات کاتعلق محض کامن سروس فیسیلیٹیزسے ہے یعنی وہ بنیادی صنعتی سہولیات جوکسی بھی پاورپلا نٹ یابڑے تکنیکی نظام کالازمی حصہ ہوتی ہیںتوبظاہریہ ایک ایسابیان تھا جو اضطراب کی شدت کوکم کرنے کے لئے کافی محسوس ہوتاہے۔یہ وضاحت ایک حدتک ذہنی اطمینان بھی فراہم کرتی ہے، گویامعاملہ محض تعمیراتی یاانتظامی نوعیت تک محدودہے اوراس میں کوئی ایسی جہت شامل نہیں جوبراہِ راست جوہری تحفظ یاسلامتی کے دائرے کومتاثر کرے مگر،جب اس بیانیے کوفکری اورتحقیقی نگاہ سے پرکھاجائے توایک اہم سوال سراٹھاتاہے:کیاواقعی کسی پیچیدہ اورمربوط نظام میں کوئی جزایساہوسکتاہے جسے مکمل طورپرغیراہم قراردیاجاسکے؟کیاوہ سہولیات جوبظاہر معاون یاضمنی حیثیت رکھتی ہیں،حقیقت میں بھی اسی درجے کی سادگی کی حامل ہوتی ہیں،یاان کے اندروہ ربط پوشیدہ ہوتاہے جوپورے نظام کی تفہیم کی کنجی بن سکتا ہے؟
تاریخ اورتجربہ اس امرکے گواہ ہیں کہ بڑی ساختیں ہمیشہ چھوٹے اجزاکے باہمی اتصال سے وجود میں آتی ہیں۔ایک عظیم الشان نظام، خواہ وہ صنعتی ہو یا عسکری،اپنی بنیادمیں انہی بظاہرمعمولی اکائیوں پرقائم ہوتاہے۔اگران اکائیوں میں سے کسی ایک کی نوعیت،محلِ وقوع یاباہمی ربط کوسمجھ لیاجائے توپورے نظام کی ساخت،اس کی رفتاراوراس کی کمزوریوں تک رسائی کاامکان بڑھ جاتاہے۔یوں یہ معاملہ محض تعمیراتی تفصیلات کانہیں رہتابلکہ ایک ایسے نقشے کی صورت اختیارکرلیتاہے جوصاحبِ نظرکے لئے پورے نظام کی تفہیم کادروازہ کھول سکتاہے۔
کنٹرول روم کے نقشے اوردیگرتکنیکی تفصیلات شامل ہیںتویہ محض ایک عددی اطلاع نہ رہی بلکہ ایک ایسے حقیقت نامے میں تبدیل ہوگئی جس نے جدید دنیا کے تحفظاتی تصورات کوازسرِنوسوچنے پرمجبورکردیا۔یہ واقعہ اپنے اندرایک گہراپیغام سموئے ہوئے ہے کہ معلومات کا افشا اب صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایساعمل ہے جوعالمی سطح پراثراندازہوسکتاہے۔
ڈارک و یب یہ نام محض ایک تکنیکی اصطلاح نہیں بلکہ جدیدتہذیب کے اس سایہ دارگوشے کی علامت ہے جہاں پوشیدگی،بے نامی اورغیرمرئی روابط ایک ایسی منڈی کوجنم دیتے ہیں جس میں اشیا نہیں بلکہ معلومات کالین دین ہوتاہے۔یہ وہ بازارہے جوکسی شہرکی گلیوں میں نہیں بلکہ ڈیجیٹل خلاکی تاریکیوں میں آبادہے، جہاں نہ ریاستی سرحدیں معنی رکھتی ہیں اورنہ ہی روایتی قوانین اپنی پوری قوت کے ساتھ نافذہوپاتے ہیں۔یہاں ایک فائل کاتبادلہ بھی کسی بڑی تبدیلی کاپیش خیمہ بن سکتاہے۔
اے اہلِ بصیرت!یہ وہ عہدہے جس میں جنگوں کی نوعیت بدل چکی ہے۔اب توپ وتفنگ کی گھن گرج کے بجائے خاموشی سے بہنے والے ڈیٹاکے دھارے فیصلہ کن کردارادا کرتے ہیں۔یہ ایک ایسا میدان ہے جہاں گولی کی آوازسنائی نہیں دیتی مگراس کے اثرات کہیں زیادہ گہرے اوردیرپا ہوتے ہیں۔ایک نقشہ، ایک خاکہ،یاایک تکنیکی تفصیلیہ سب مل کرکسی ریاست کے حفاظتی توازن کو متاثرکرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یہ واقعہ ہمیں اس حقیقت سے بھی آگاہ کرتاہے کہ معلومات کی حفاظت اب محض فزیکل حدود، دیواروں اورحفاظتی حصاروں تک محدود نہیں رہی۔ ڈیجیٹل دنیامیں سرحدیں غیرمرئی ہیں اورخطرات بے آواز۔یہاں نہ کوئی دروازہ ٹوٹتاہے اورنہ کوئی قلعہ فتح ہوتادکھائی دیتا ہے،مگرمعلومات کابہاو? خاموشی سے نظاموں کی بنیادوں تک رسائی حاصل کرلیتاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں معمولی سی کوتاہی بھی ایک بڑے بحران کی تمہیدبن سکتی ہے۔
ڈارک ویب پراس نوع کی معلومات کی موجودگی دراصل ایک خاموش خطرے کی علامت ہے ایساخطرہ جوبظاہرنظرنہیں آتامگراپنی اثرانگیزی میں کسی طوفان سے کم نہیں۔یہ ہمیں یاددلاتاہے کہ جدید دنیامیں تحفظ کامفہوم بدل چکاہے:اب حفاظت صرف زمین،فضائ یا سمندرکی نہیں بلکہ ڈیٹا،معلومات اورسائبرخلا کی بھی کرنی ہے۔ پس، کوڈن کولم کے اس تناظر میں ڈارک ویب کا کردار ایک تنبیہ بن کرسامنے آتاہیایک ایسی تنبیہ جوہمیں بتاتی ہے کہ اگرہم نے ڈیجیٹل تحفظ کواپنی ریاستی حکمت عملی کا بنیادی ستون نہ بنایاتویہ غیرمرئی بازار ہماری سب سے بڑی کمزوری بن سکتاہے۔یہی وہ ادراک ہے جو جدید عہدکی سکیورٹی فکرکونئی سمت عطاکرتاہے،اورہمیں اس حقیقت کے قریب لاتاہے کہ آج کی اصل جنگ خاموش ہے، مگراس کے نتائج نہایت گرج دارہوسکتے ہیں۔
ایٹم کا چراغ اور خطرہ کا سایہ
adminshuja
اگلی خبر →
مکہ دفاعی معاہدہ

Leave a Reply