کالم:حبیب الرحمن
اس بات میں کوئی دو آرا نہیں ہو سکتیں کہ جماعت اسلامی گزشتہ کئی برسوں سے جس بات کی بیداری عوام میں پیدا کرنا چاہ رہی ہے وہ ایسے مطالبات ہیں جس کا تعلق عوام کے ایسے مفادات سے ہے کہ جن کے حل ہوئے بغیر نہ تو ملک خوشحالی کی جانب پیش قدمی کر سکتا ہے اور نہ ہی عوام مہنگائی سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی بہر لحاظ عوام ہی کو نہیں بلکہ ملک کی بنیادوں کو بھی ہلاکر رکھ دے گی۔ وہ تمام افراد جو جو اس بڑھتی ہوئی مہنگائی کے شدید دباو? میں آئے ہوئے ہیں وہ اس بات پر مجبور ہو جائیں گے کہ اپنے ہاتھوں اپنی ہی زندگی کو ختم کر ڈالیں یا پھر ہر قسم کی شرافت کا لبادہ ا±تار کر چور اور ڈاکو بن جائیں۔ جس گھر کے بچے بھوک سے بلک رہے ہوں اور بوڑھے والدین علاج سے محروم ہو جانے کی وجہ سے سسک سسک کر مرنے کے قریب پہنچ رہے ہوں تو ایسے عالم میں کوئی بھی مرد گھر میں سکون کی نیند کیسے لے سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں اسے اپنے بیوی بچوں، والدین اور خود اپنی زندگی کی بقا کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ تو اختیار کرنا ہی ہوگا۔ مختصراً یہی کہا جا سکتا ہے کہ جب انسان چاروں جانب سے مصائب میں گرفتار ہو تو وہ نفسیاتی اعتبار سے اتنا کمزور ہو چکا ہوتا ہے کہ بہت کم وہ راہ راست کو منتخب کر پاتا ہے۔ اکثر ایسے عالم میں لوگ منفی رویہ ہی اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جس کا سب سے بڑا ثبوت ملک میں بڑھتی ہوئی خود کشیوں اور لوٹا گھسوٹی کی وارداتیں ہیں جس میں ہر آنے والے دن کے ساتھ اضافہ در اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مہنگائی میں اضافے کی بنیادی وجہ پٹرولیم کی مصنوعات اور بجلی کے فی یونٹ میں ناقابل ِ فہم اضافہ ہے جس پر اب تک اگر ملک میں کسی جانب سے مو?ثر آواز اٹھائی جا رہی ہے تو وہ صرف جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی جانب سے اٹھائی جا رہی ہے۔میری یاد داشت کے مطابق حافظ نعیم الرحمن 2016- 2017 سے بجلی اور پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف مسلسل آواز پر آواز بلند کرتے اور مہنگائی کے خلاف جدو جہد کرتے نظر آرہے ہیں۔ انہیں خوب اچھی طرح اس بات کا اندازہ ہے کہ یہی دونوں شعبے اگر اپنی فی یونٹ یا فی لیٹر میں اضافہ کرنے پر قابو پالیں تو مہنگائی کے سیلاب کو بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن آس وقت سے اِس جدو جہد میں مصروف ہیں جب ان کو ہی کیا، کسی کو بھی یہ اندازہ نہیں رہا ہوگا کہ وہ ایک دن جماعت اسلامی کا امیر بھی منتخب ہو جائیں گے۔ کسی بھی جماعت کا امیر بن جانے اور خاص طور سے جماعت اسلامی کا امیر منتخب ہونے کے بعد کسی کا ہر ہر لمحے صرف اور صرف عوامی جدو جہد میں اپنے آپ کھپا دینا کوئی سہل کام نہیں لیکن انہوں نے امیر جماعت بن جانے کے بعد اپنی آسی جدو جہد کو جاری رکھا جس کا مقصد مہنگائی کا خاتمہ اور پاکستان کے عوام کی خوشحالی سے وابستہ تھا بلکہ امیر بن کر اس جذبے میں اور بھی زیادہ تیزی دیکھنے میں آرہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی جدو جہد مسلسل تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی ہے لیکن خالص عوامی مسئلہ ہونے کے باوجود بھی اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ عوام ان کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے، اپنے جائز حقوق حاصل کرنے کے لیے، جماعت اسلامی کا ساتھ دینے کے لیے اور حافظ نعیم الرحمن کی آواز سے آواز ملانے کے لیے، اس طرح کیوں تیار نہیں ہو رہے جس طرح ان کو بھرپور طریقے سے اس جدو جہد میں شریک ہونا چاہیے تھا۔تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ جماعت اسلامی کو کسی بھی جانب سے کم سے کم رکاوٹوں کا سامنا رہا ہے۔ بہت ہی کم جگہوں پر حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مزاحمتیں دیکھنے میں آئی ہیں جس سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے سمجھدار اور طاقتور حلقے بھی یہی چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح حکومت کے تخت پر ایماندار، مخلص اور دیانتدار قیادت آکر بیٹھے۔ اتنا کچھ ہونے کے باوجود، جبکہ عوامی سطح پر جس بات کی جدو جہد کی جا رہی ہے وہ سارے مطالبات وہی ہیں جو یقینا عوام کی منشا کے مطابق ہیں اور عوام اس بات سے خوب واقف ہیں کہ اگر حافظ نعیم الرحمن کی جانب سے اٹھائے جانے والے مطالبات پر حکومت عمل در آمد کرنے پر تیار ہو جائے تو پاکستان کے سارے عوام کو کتنا بڑا ریلیف حاصل ہوسکتا ہے۔ اگر یہاں تک میرا تجزیہ درست ہے اور یقینا درست ہی ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام کی وہ توجہ، جس کی توقع یقینا جماعت اسلامی کو رہی ہوگی، اتنی بڑی تعداد میں کیوں حاصل نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے حکومت وقت پر کوئی خاطر خواہ دباو? ڈالنے میں کامیاب ہو سکے اور حکومت بجلی و پٹرولیم کی مصنوعات میں کمی لانے میں مجبور ہو جائے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر بہر صورت جماعت اسلامی کے اکابرین کو سر جور کر بیٹھنا ہوگا ورنہ جس قسم کے نتائج جماعت اسلامی حاصل کرنا چاہتی ہی وہ کسی صورت حاصل نہیں ہو سکیں گے۔
عوامی توجہ کیوں نہیں مل رہی
adminshuja
اگلی خبر →
پاکستان کا دورہ—چند تاثرات (حصہ اوّل)

Leave a Reply