Daily Shujaat Quetta
August 25, 2026
🌤 Quetta,pk --°
تازہ خبریں
ٹیبل ٹینس فیملی کا سفر، والدین کے بعد طہٰ بلال بھی ایشین گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کیلئے تیارایران نے میرے ایک بیٹے کو قتل کرنے کی کوشش کی: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا دعویٰعالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کردیعمران خان کی قید اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائيں: جمائما کا برطانوی حکومت سے مطالبہسپریم کورٹ میں توہین عدالت کا جواب وزیراطلاعات یا وزیرقانون نہیں بلکہ وزیر داخلہ دیں گے، رانا ثنااللہٹرمپ کا دورہ تہران سے قبل فیلڈ مارشل کو فون، ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے اثر و رسوخ استعمال کی درخواست کی: رائٹرزدورہ ایران میں فیلڈ مارشل کی ایرانی رہنماؤں سے ملاقاتیں، کشیدگی میں مزید اضافے کی روک تھام، آبنائے ہرمز کھولنے پر تبادلہ خیالمحنت کش پاکستانیوں کا خون بہانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں،میرسرفرازبگٹیشہریوں کے تحفظ کےلئے جدید نگرانی کے نظام کومزید علاقوں تک وسعت دی جائےگی، سرفراز بگٹینیب بلوچستان کی جانب سے شکایات کنندگان کیلئے کھلی کچہری کا انعقادٹیبل ٹینس فیملی کا سفر، والدین کے بعد طہٰ بلال بھی ایشین گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کیلئے تیارایران نے میرے ایک بیٹے کو قتل کرنے کی کوشش کی: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا دعویٰعالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کردیعمران خان کی قید اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائيں: جمائما کا برطانوی حکومت سے مطالبہسپریم کورٹ میں توہین عدالت کا جواب وزیراطلاعات یا وزیرقانون نہیں بلکہ وزیر داخلہ دیں گے، رانا ثنااللہٹرمپ کا دورہ تہران سے قبل فیلڈ مارشل کو فون، ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے اثر و رسوخ استعمال کی درخواست کی: رائٹرزدورہ ایران میں فیلڈ مارشل کی ایرانی رہنماؤں سے ملاقاتیں، کشیدگی میں مزید اضافے کی روک تھام، آبنائے ہرمز کھولنے پر تبادلہ خیالمحنت کش پاکستانیوں کا خون بہانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں،میرسرفرازبگٹیشہریوں کے تحفظ کےلئے جدید نگرانی کے نظام کومزید علاقوں تک وسعت دی جائےگی، سرفراز بگٹینیب بلوچستان کی جانب سے شکایات کنندگان کیلئے کھلی کچہری کا انعقاد

پاکستان کا دورہ—چند تاثرات (حصہ اوّل)

تحریر: ڈاکٹرمحمد نورالامین
پاکستان کے مختلف صوبوں کے دو ہفتوں سے زائد طویل اور وسیع دورے کے بعد گزشتہ24 جولائی کو میں ڈھاکہ واپس پہنچا۔ اس سے قبل9 جولائی کی رات میں ‘بنگلہ دیش ایئرلائنز’ کی پرواز کے ذریعے کراچی پہنچا تھا۔ اس سفر میں میرے بیٹے ڈاکٹر فخر الامین محمد حسن البنا اور ان کے سالے، منارات انٹرنیشنل یونیورسٹی میں بزنس ایڈمنسٹریشن کے اسسٹنٹ پروفیسر اور اسلامی تحریک کے فعال نوجوان کارکن عاشق النبی میرے ہم سفر تھے۔ میرے دل میں پاکستان کی سیاحت کی خواہش ایک عرصے سے، بلکہ پانچ دہائیوں سے بھی زیادہ وقت سے تھی۔ میں نے 5اگست1971ئ کو آخری بار اس و قت کے مغربی پاکستان کا سفر کیا تھا۔ اس وقت ہم پاکستان ہی کا ایک حصہ یعنی مشرقی پاکستان تھے۔ اس زمانے میں مشرقی اور مغربی پاکستان دونوں کو ملا کر ملک کا کل رقبہ10,29,483 مربع لومیٹر تھا (مغربی پاکستان8,81,913 مربع کلومیٹر + مشرقی پاکستان 1,47,570 مربع کلومیٹر)۔ 16 دسمبر 1971ءکو بنگلہ دیش نے آزادی حاصل کی، جس کے نتیجے میں فی الوقت پاکستان اس وقت کے مغربی پاکستان کے چار صوبوں پر مشتمل ہے اور اس کا رقبہ گھٹ کر 8,81,913 مربع کلومیٹر رہ گیا ہے۔
14 اگست 1947ءسے پہلے دنیا کے نقشے پر پاکستان نامی کسی ریاست کا وجود نہیں تھا۔14 اگست 1947ئ کو دو قو می نظریے کی بنیاد پر ہندوستان کے مسلم اکثریتی علاقوں کو ملا کر پاکستان اور ہندو اکثریتی علاقوں پر مشتمل ہندوستان (جمہو ریہ ہند) قائم ہوا۔
بنگلہ دیش میں لفظ ‘پاکستان’ کے حوالے سے کچھ لوگ مغالطے کا شکار ہیں۔ چند لوگوں کا خیال ہے کہ اس ملک کا نام کسی مقدس (پاک) مقام کی رعایت سے ‘پاکستان’ رکھا گیا۔ لیکن اصل حقیقت اس سے مختلف ہے؛ وہاں ‘پاک’ یا ‘ناپاک’ کا کوئی معاملہ ہی نہیں تھا۔ سچی بات یہ ہے کہ1930ءمیں الٰہ آباد میں منعقدہ ‘آل انڈیا مسلم لیگ’ کے 21ویں سالا نہ اجلاس میں مسلم بیداری کے شاعر و فلسفی علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے دو قومی نظریے کا تصور پیش کیا اور وہ اس اجلاس کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہے کہ مذہب، عقیدے، رسم و رواج، ثقافت، رہن سہن اور طعام و قیام ہر لحاظ سے ہندو اور مسلمان دو بالکل الگ اور جداگانہ قومیں ہیں، اور اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ انہوں نے ہندوستان کے شمال مغر بی علاقوں خصوصاً پنجاب، سندھ، بلوچستا ن اور شمال مغربی سرحدی صوبے (خیبر پختونخوا) پر مشتمل ایک علیحدہ مسلم ریا ست کی تجویز پیش کی، جسے اجلاس میں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ ان کے اسی فلسفے کی روشنی میں برطانیہ کی کیمبرج یونیو رسٹی کے ایک طالب علم چوہدری رحمت علی نے لفظ ‘پاکستان’ ترتیب دیا۔ انہوں نے پنجاب سے P، افغانیہ (سرحد) سے A، کشمیر سے K، سندھ سے S اور بلوچستا ن سے Tan لے کر Pakistan کا لفظ بنایا، اور بعد میں اسے ذوقِ سماعت کے لیے پرترنم بنانے کی خاطر K اور S کے درمیان I کا اضافہ کر کے Pakistan مکمل کیا۔ انہوں نے 28جنوری 1933ءکو لندن میں منعقدہ تیسری گول میز کانفرنس میں شریک سیاسی رہنماو¿ں کے سامنے “Now Or Never: Are We to Live Or Perish Forever?” کے عنوان سے ایک پمفلٹ کی صورت میں یہ تجویز پیش کی۔ بعد ازاں 1940ءمیں مسلم لیگ کے لاہور اجلاس میں شیرِ بنگال اے کے فضل الحق نے علامہ اقبال کی اسی تجویز کا احاطہ کرتے ہوئے اسے ‘قراردادِ پاکستان’ کے طور پر پیش کیا، جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔
1757ءمیں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھوں بنگال، بہار اور اڑیسہ کے آخری آزاد نواب سراج الدولہ کی شکست کے بعد تدریجاً پورا ہندوستان کمپنی کی حکمرانی کے نیچے چلا گیا۔ ان سے آزادی حاصل کرنے کے لیے پورا برصغیر سائے کی طرح مچلنے لگا، جبکہ دوسری طرف اپنی حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے برطانوی تاجروں کے مظالم، استحصال اور ناانصافیاں حد سے بڑھنے لگی تھیں۔ اسی پس منظر میں 1857ءمیں ہندوستان کی آزادی کی تحریک نے ایک نیا موڑ لیا۔ لندن کے قریب اینفیلڈ نامی جگہ پر واقع ایک چھاو¿نی اور اسلحہ خانے میں ایک رائفل تیار کر کے فوجیوں میں تقسیم کی گئی۔ ‘اینفیلڈ رائفل’ نامی اس ہتھیار میں گولی بھرنے کے لیے کارتوس کا خول دانتوں سے کاٹ کر کھولنا پڑتا تھا۔ اس بات کی عام افواہ پھیل گئی کہ اس کارتوس پر گائے اور سور کی چربی لگی ہوئی ہے، جس سے ہندو اور مسلم سپاہیوں میں شدید اشتعال پھیل گیا۔ ہندو¿وں کے لیے گائے اور مسلمانوں کے لیے سور کا گوشت و چربی حرام تھی۔ یہ خیال کیا گیا کہ برطانوی حکمرانوں نے دونوں مذاہب کے سپاہیو ں کا دھرم اور ذات خراب کرنے کے لیے منصوبہ بندی کے تحت یہ چربی استعمال کی ہے۔ اس کے نتیجے میں فوج میں بغاوت پھیل گئی، جسے محدود معنوں میں ‘سپاہی بغاوت’ اور وسیع معنوں میں ‘آزادی کی پہلی جنگ’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کمپنی کی فوج میں کام کرنے والے ہزاروں سپاہی اور ہندو ستان بھر سے لاکھوں حریت پسند انقلابی شہادت اور مظالم کا نشانہ بنے۔ انہی شہد اءکی یاد میں ڈھاکہ کے صدر گھاٹ میں لیاقت ایونیو سے متصل وکٹوریہ پارک کے سامنے ساٹھ کی دہائی میں1857ءکے مجاہدینِ آزادی کی یادگار کے طور پر ایک عظیم الشان مینار تعمیر کیا گیا جو آج بھی سر اٹھائے کھڑا ہے۔ میرے اس تمام تفصیل کو بیان کرنے کا مقصد یہ سمجھانا ہے کہ ہندوستان کی آزادی، یعنی برطانو ی تسلط سے اس خطے کو آزاد کرا کے پاکستا ن اور ہندوستان میں تقسیم کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اس کے پیچھے تقریباً190 سال کی سخت جدوجہد اور قربانیاں کارفرما تھیں۔ برطانوی فوجیوں کی بغاوت کے علاوہ اس تحریک کے پیچھے علمائے کرام کی ان تھک محنت، ایثار اور جان و مال کی قربانیاں شامل تھیں۔ شاہ ولی اللہ دہلوی کی مزاحمتی تحریک، مولانا سید نثار علی تیتومیر کا بانس کا قلعہ، سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید کی سکھوں اور انگریزوں کے خلاف جدوجہد، مولانا محمود الحسن کی ‘ریشمی رومال تحریک’، حاجی شریعت اللہ کی ‘فرائضی تحریک’ اور ‘تحریکِ خلافت’ وغیرہ اس داستان کے چند روشن باب ہیں۔
ابتداءمیں اس تحریک اور جدوجہد کا مقصد صرف ہندوستان کی آزادی تھا، ہندوو¿ں اور مسلمانوں کے لیے الگ الگ وطن کا سوال ذہنوں میں نہیں تھا۔ یہ سوال اس وقت پیدا ہوا جب یہ بات واضح ہو گئی کہ ہندوستان کی اعلیٰ ذات کی ہندو قیادت حکومت چلانے، اور سماجی و اقتصادی مراعات کی تقسیم میں مسلمانوں کو ان کا ادنیٰ حق دینے کے لیے بھی تیار نہیں تھی۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح خود کانگریس کے ایک بڑے رہنما تھے۔ ہندوو¿ں کے متعصبانہ رویے اور مسلم دشمن طرزِ عمل نے انہیں بھارتی کانگریس چھوڑ کر مسلم لیگ میں شامل ہونے پر مجبور کیا۔ مسلم لیگ میں شمولیت کے بعد بھی انہوں نے اتحاد کی کوششیں جاری رکھیں اور ‘ہندو مسلم اتحاد کے سفیر’ کا لقب پایا۔ انہوں نے لندن گول میز کانفرنس میں ایک سمجھوتے کے طور پر اپنے چودہ نکات پیش کیے، لیکن ہندو کانگریس نے انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے کانگریس کا دامن چھوڑ کر مسلم لیگ کی قیادت مکمل طور پر سنبھال لی۔ ان کی قیادت میں پاکستان کا قیام، بنگال کے صوبائی انتخابات، اور سلہٹ و آسام کے ریفرنڈم میں مسلم لیگ اور پاکستان کے حق میں 90فیصد سے زائد ووٹوں کا آنا، ہندوو¿ں کی خواہشات کے برعکس بنگال اور آسام کی تقسیم کے ذریعے مشرقی پاکستان کی تشکیل—یہ سب ان کی دور اندیشی کا ثمر تھا۔ اگر پاکستان نہ بنتا تو آج بنگال کی تاریخ کا یہ دھارا اس طرح نہ بہتا اور نہ ہی بنگلہ دیش وجود میں آتا۔ یہ ہماری شاندار تاریخ کا وہ لاینفک حصہ ہے جس سے گزشتہ55 سالوں سے ہماری نسلوں کو ناواقف رکھا گیا ہے۔ اس تاریخ سے جس طرح آج بنگلہ دیش کے نوجوان بے خبر ہیں، اسی طرح پاکستان کے بیشتر نوجوان بھی اس سے ناآشنا ہیں۔ پاکستان کے سفرنامے کی شروعات میں تمہید کچھ لمبی ہو گئی، جس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں۔میں نے5 اگست1971ءکو اپنے اس وقت کے مغربی پاکستان کے سفر کا ذکر کیا۔
اس وقت میری عمر ساڑھے چوبیس سال تھی۔ اب میں ساڑھے اناسی (79.5) سال کا ہوں۔ اس زمانے میں مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کی قیادت میں بھارتی شہاور امداد سے جنگ جاری تھی اور اس کے نام پر پورے صوبے میں ایک ہولناک صورتحال پیدا کر دی گئی تھی۔1970ئ کے انتخابات میں آل پاکستان سطح پر اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی عوامی لیگ کو اقتدار کی منتقلی میں تاخیر کی غرض سے جب قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کیا گیا، تو پورا صوبہ احتجاج کی لپیٹ میں آ گیا۔ عوامی لیگ کے شدت پسند کارکنوں نے جلوسوں، سرکاری و نجی املاک پر حملوں، آتش زنی، اور غیر بنگالی بہاریوں سمیت مخالف سیاسی جماعتوں (خصوصاً جماعتِ اسلامی، مسلم لیگ، اور نظامِ اسلام پارٹی) کے کارکنوں کو نشانہ بناتے ہوئے تخریبی کارروائیاں شروع کر دیں۔ اس صورتحال میں جب شہری انتظامیہ امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام ہو گئی تو ملٹری ایڈمنسٹریشن نے فوجی کارروائی کے ذریعے حالات پر قابو پانے کی کوشش کی۔ اس سے حالات مزید بگڑ گئے۔ مشرقی پاکستان کی صورتحال ملکی و غیر ملکی اخبارات اور میڈیا کی سرخیاں بن گئی۔ اس پس منظر میں حکومت نے قومی اور بین الاقوامی تقاضوں کے تحت “White Paper on the Crisis of East Pakistan“ کے عنوان سے ایکقرطاسِ ابیض (White Paper) شائع کیا۔ اس وائٹ پیپر کی اشاعت کے موقع پر5 اگست1971ئ کو مرکزی حکومت کے سیکرٹری اطلاعات جنرل روئیداد خان نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس طلب کی۔ اس کانفرنس میں مشرقی پاکستان کے اخبارات کی طرف سے ہم درج ذیل صحافیوں نے شرکت کی:
روزنامہ ‘مارننگ نیوز’ کے ایڈیٹر جناب بدرالدین
روزنامہ ‘پاکستان ا?بزرور’، روزنامہ ‘پوربو دیش’ اور روزنامہ ‘وطن’ کی نمائندگی کرتے ہوئے اسسٹنٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے میں خود (محمد نور الامین)
روزنامہ ‘اتفاق’ کے ایڈیٹر بیرسٹر معین الحسین
روزنامہ ‘ا?زاد’ کے ایڈیٹر جناب مجیب الرحمن خان
روزنامہ ‘پاکستان’ کے قائم مقام ایڈیٹر شاعر شاعر حسام الرحمن (شمس الرحمن)
روزنامہ ‘سنگرام’ کے ایڈیٹر پروفیسر مولانا اختر فاروق
روزنامہ ‘ا?زادی’ (چٹاگانگ) سےایڈیٹر محمد خالد اور ایگزیکٹو ایڈیٹر جناب عبدالملک۔
آٹھ رکنی اس وفد میں، میں سب سے کم عمر تھا۔ ان میں سے دو افراد،روزنامہ ‘اتفاق’ کے بیرسٹر معین الحسین اور چٹاگانگ کے روزنامہ ‘آزادی’ کے محمد خالد—1970ئ کے انتخابات میں عوامی لیگ کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن (MNA) منتخب ہوئے تھے۔ وفد کے متفقہ فیصلے کے مطابق بیرسٹر معین الحسین نے ہمارے قائد کی ذمہ داری سنبھالی۔ تقریب کے اختتام پر راولپنڈی کے ہوٹل انٹرکانٹی نینٹل میں منعقدہ کھلے اجلاس میں مشرقی پاکستانی صحافیوں کے وفد کا ایک ہی متفقہ مطالبات تھا، اور وہ یہ تھا:
“مسٹر جنرل روئیداد! ہم مشرقی پاکستان کے مسئلے کا ایک سیاسی حل چاہتے ہیں۔ ہم دہراتے ہیں کہ ہم متحدہ پاکستان کے فریم ورک کے اندر ہی ایک سیاسی حل چاہتے ہیں۔”
بدقسمتی سے دو وجوہات کی بنائ پر ملک متحد نہ رہ سکا۔
اول: ملٹری جنتا نے سیاسی مسئلے کے فوجی حل کو ترجیح دی۔
دوم: انہوں نے پاکستان (اور موجودہ بنگلہ دیش) کے ابدی دشمن، برہمن وادی بھارت کی چالاکیوں اور طاقت کو بہت ہلکا سمجھا۔ پاکستان صرف ایک ملک کا نام نہیں تھا، بلکہ ایک خواب، ایک جذبے اور ایک امنگ کا نام تھا۔1947ئ میں پاکستان بننے کے بعد بنگال کی ہزاروں جگہوں پر ‘پاکستان بازار’ کے نام سے دیہی ہاٹ (بازار) قائم ہوئے تھے۔ میرے گھر کے مشرقی جانب ‘گجاریا بازار’ نامی ایک ہاٹ ہے، جس کا پرانا نام ‘پاکستان بازار’ تھا۔ نواکھالی کے کمپنی گنج میں واقع با منی ہائی اسکول میں، میں نے کچھ عرصے تعلیم حاصل کی تھی۔ اس اسکول میں محمد ادریس نامی ایک چپراسی (دفتری) تھا۔14 اگست کو جس دن پاکستان بنا، وہ خوشی میں اس قدر سرشار ہوئے کہ دن بھر ‘پاکستان، پاکستان’ کے نعرے لگاتے ہوئے ناچتے رہے۔ اہل علاقہ نے ان کا نام ہی ‘پاکستان’ رکھ دیا۔ ادریس جب تک زندہ رہے، اسی نام سے جانے گئے۔
اب ذرا موجودہ سفر کی بات کرتے ہیں۔ میرے اس بار کے سفر کی بنیادی طور پر دو تحریکیں تھیں:
ایک: گزشتہ55 سالوں سے بھی زائد عرصے سے دیسی و غیر ملکی اخبارات میں مسلسل جاری پاکستان مخالف پروپیگنڈا، اور اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اسلامی تحریک ‘جماعتِ اسلامی’ کے خلاف زہر افشانی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مطلب دہشت گردی اور انارکی ہے، اور جماعت و جمعیت جنو بی ایشیا میں ایک جنون پر مبنی مذہبی اسلامی تحریک اور جماعت ہے جو 9/11 کے بعد سے عالمی برادری کی دہشت گردی مخالف تمام کاوشوں کو ناکام بنا رہی ہے، لہٰذا انہیں قائم رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ چند سال قبل امریکہ کے نیویارک شہر میں واقع یو این پلازا ہوٹل میں “Terrorism, Democracy and Economic Development in Bangladesh“ کے عنوان سے منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں ایک برطانوی سیاسی و انٹیلی جنس تجزیہ کار کرس بلیک برن (Chris Blackburn) نے “Jamaat-e-Islami: A Threat to Bangladesh“ کے عنوان سے ایک مقالہ پڑھا تھا۔ اس مقالے میں انہوں نے بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی پر پاکستان کے ساتھ تعلقات کا الزام لگاتے ہوئے، پاکستان کی آئی ایس آئی کے ذریعے فنڈنگ اور رقم کی منتقلی کے ہوائی الزامات عائد کیے اور دعویٰ کیا کہ یہ جماعت شریعت پر مبنی اسلامی ریاست کے قیام کی راہ پر بہت آگے نکل چکی ہے۔
میں ممنون ہوں کہ کراچی کے روزنامہ ‘جسارت’ کے میرے کرم فرما سید طاہر اکبر، اور اسلام آباد کے معروف غیر سرکاری ادارے ‘الرحمہ’ کے صدر، نیز آزاد جموں و کشمیر جماعتِ اسلامی کے نائب امیر، ممتاز مصنف و صحافی جناب صغیر قمر کا جنہوں نے مجھے پاکستان کے سفر کی ترغیب دی، میرا ویزا اسپانسر کیا، اور مجموعی طور پر میرے سفر کے شیڈول کی تیاری، عمل درآمد اور ہم آہنگی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے سفر کو کامیاب بنانے کے لیے ہر لمحہ تعاون کیا۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا،9 جولائی بروز جمعرات بنگلہ دیش ایئرلائنز کی پرواز سے آدھی رات کو ہم کراچی کے قائدِ اعظم انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے۔ کراچی کے اخبار ‘جسارت’ کے صحافی اور کراچی پریس کلب کے میرے پیارے ساتھی گلدستے لیے ہمارے باقاعدہ استقبال کے لیے پہلے سے منتظر تھے۔ وہ ہمیں گاڑی کے ذریعے کراچی کے ایک خوبصورت علاقے گلشانِ جمال کے ایک گیسٹ ہاو¿س ‘گیلیکسی ان’ لے گئے۔ خوبصورت اور پرسکون ماحول کا حامل یہ گیسٹ ہاو¿س کافی دلکش تھا۔
اگلے دن جمعہ کو آرام اور ناشتے کے بعد ہم کراچی کی مشہور ‘نیو میمن مسجد’ میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے گئے۔27,000 مربع فٹ پر محیط اس مسجد کا افتتاح 1949ئ میں ڈھاکہ کے نواب خاندان کے چشم و چراغ خواجہ ناظم الدین نے اس وقت کیا تھا جب وہ پاکستان کے گورنر جنرل تھے۔ نماز کے بعد ہم کراچی کی ایک معروف این جی او ‘ایدھی فاو¿نڈیشن’ کے دفتر گئے۔ اس ادارے کے بانی نامور سماجی رہنما و خدامِ خلق جناب عبدالستار ایدھیتھے۔ غربت کا خاتمہ، خواتین و بچوں کی فلاح و بہبود، صحت کی سہولیات، پینے کے پانی کی فراہمی، مفت ایمبولینس سروس، اور قدرتی و انسان ساختہ آفتوں میں امدادی سرگرمیاں اس فاو¿نڈیشن کے نمایاں کام ہیں۔ جناب عبدالستار ایدھی اب اس دنیا میں نہیں رہے، ان کی عدم موجودگی میں ان کے صاحبزادے ان کے شروع کردہ اس فلاحی مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ دوپہر کے کھانے کے بعد ہم نے کراچی کے ساحلی علاقے سی ویو کے دلنشین مناظر کا لطف اٹھایا اور رات کا کھانا ساحلی ریستوران میں کھایا۔ اگلے دن ہفتے کی صبح، میں نے کراچی پریس کلب میں منعقدہ ‘آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی’ (APNS) کے صدر سینیٹر شمشاد علی کی طرف سے دیے گئے دوپہرانے میں شرکت کی…

شیئر کریں: WhatsApp

adminshuja

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *