کالم:احمد حسن
عدالت عظمیٰ کے سابق جج جناب جسٹس منصور علی شاہ نے الزام لگایا ہے کہ ملک کو سب سے زیادہ نقصان جرنیلوں اور بیوروکریٹس نے نہیں ججوں نے پہنچایا ہے انہوں نے کہا کہ عدلیہ کا بنیادی مقصد شہریوں کے لیے ڈھال بننا تھا اور وہ واحد ادارہ ہونا چاہیے تھا جو قانون کی طاقت کے ذریعے اقتدار کے سامنے ”ناں“ کہنے کی صلاحیت رکھتا ہو، جب ٹینک سڑکوں پر نکلے تو عدالتوں نے بار بار ہاں کہہ دیا انہوں نے نظریہ ضرورت تراشا تاکہ اقتدار پر قبضے کو قانونی جواز دیا جا سکے، غاصبوں سے حلف لیا گیا اور قانون کی خلاف ورزی کو قانون کا لباس پہنا دیا گیا۔ایک طرف خود عدالت عظمیٰ کے سابق جج کی یہ رائے ہے اور دوسری طرف وفاقی حکومت نے عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ کے ججوں کی تنخواہوں، الاو?نسز اور دیگر مراعات میں بھاری اضافہ کر دیا ہے یہ تنخواہیں اس وقت بڑھائی گئی ہیں جب ملک شدید ترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے، انتہائی مہنگائی کے باعث عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں، خاص بات یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ کے لیے اس اضافے کو 10 دسمبر 2025 سے موثر قرار دیا گیا ہے یعنی ججوں کو اس مدت کے واجبات بھی ادا کیے جائیں گے۔اب عدالت عظمیٰ کے جج کی بنیادی تنخواہ 15 لاکھ روپے اس کے ساتھ ہی جوڈیشل الاونس بھی 15 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے یعنی بنیادی تنخواہ قریباً 30 لاکھ روپے ماہانہ، نئے پیکیج کے تحت ججوں کو ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ میڈیکل الاونس بھی دیا جائے گا۔ ہائی کورٹ کے جج کی بنیادی تنخواہ 12 لاکھ پانچ ہزار روپے ماہانہ ہو گئی ہے ان کا ہاﺅس رینٹ تین لاکھ پچاس ہزار روپے ماہانہ کر دیا گیا ہے، ہائی کورٹ کے ججوں کا سپیریئر جوڈیشل الاﺅنس 10 لاکھ 90 ہزار روپے ماہانہ کر دیا گیا ہے یعنی ججوں کو بنیادی تنخواہ، جوڈیشل الاﺅنس اور ہاﺅس رینٹ ملا کر 26 لاکھ 45 ہزار روپے ماہانہ ادا کیے جائیں گے۔
عدالت عظمیٰ کے ہر جج کو دو سرکاری گاڑیوں کا حق بھی ہے، ایک گاڑی جج کے لیے اور دوسری اس کے خاندان کے استعمال کے لیے ہوگی، دونوں گاڑیاں 1800 سی سی تک کی ہو سکتی ہیں اور ان کی دیکھ بھال بھی حکومت عدالت عظمیٰ بجٹ سے ہوتی ہے، دونوں گاڑیوں کے لیے مجموعی طور پر 600 لٹر ماہانہ پٹرول دیا جا سکتا ہے، ہر جج کو دو ڈرائیور دیے جاتے ہیں دونوں کی تنخواہیں اور متعلقہ اخراجات سرکاری عدالتی بجٹ سے ادا ہوتے ہیں، دو گاڑیوں کے علاوہ کسی ہنگامی یا غیر معمولی صورت میں تیسری گاڑی بھی فراہم کی جا سکتی ہے عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس کی حفاظت کے لیے دو سیکورٹی گاڑیاں ہوتی ہیں جبکہ دیگر ججوں کو ایک گن مین اور ایک سیکورٹی گاڑی دی جاتی ہے۔ عدالت عظمیٰ کے جج کو بلا کرایہ سرکاری رہائش کا حق حاصل ہے اس مکان کی مینٹیننس کا خرچ جج سے وصول نہیں کیا جاتا مینٹیننس میں بجلی، گیس، پانی اور مقامی ٹیکس وغیرہ شامل ہیں۔ سرکاری رہائش نہ ہونے کی صورت میں ہاﺅس رینٹ الاو?نس ادا کیا جاتا ہے۔عدالت عظمیٰ کے ریٹائرڈ جج کو قریباً 21 لاکھ سے 25 لاکھ 50 ہزار روپے ماہانہ تک پنشن ملتی ہے۔ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کو ماہانہ قریباً 16 لاکھ سے 18 لاکھ 36 ہزار روپے تک پنشن ادا کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ریٹائرڈ ججوں کو سیکورٹی، گاڑی، ڈرائیور اور مخصوص یوٹیلیٹی سہولتیں بھی حاصل ہوتی ہیں۔
اب یہ دیکھتے ہیں کہ انصاف کے شعبے میں عالمی سطح پر پاکستان کو کس نظر سے دیکھا جا رہا ہے، ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے قانون پر عملداری اشاریے کے مطابق 143 ملکوں میں پاکستان کی پوزیشن 130 ویں ہے حتیٰ کہ جنوبی ایشیا کے چھے ممالک میں بھی پاکستان پانچویں نمبر پر ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے جو الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کو جرنیلوں اور بیوروکریٹ سے زیادہ نقصان ججوں نے پہنچایا ہے عدلیہ کا ماضی بھی اس کی گواہی دیتا ہے جب بھی کسی فوجی حکمران نے آئین معطل کیا۔
منتخب حکومت کو برطرف کیا یا پارلیمنٹ کو بے اختیار کیا تو عدالتیں آمروں کے سامنے مزاحمت کرنے کے بجائے ان کے غیر آئینی اقدامات کو قانونی جواز فراہم کرتی رہیں جسٹس منیر، جسٹس ارشاد حسن خان، جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور دیگر نے انتہائی افسوسناک فیصلے دیے۔ جسٹس منیر 1954 میں وفاقی عدالت کے چیف جسٹس بنے اس دور میں گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی توڑ دی، دستور ساز اسمبلی کے صدر مولوی تمیز الدین نے اس اقدام کو سندھ چیف کورٹ میں چیلنج کیا جہاں ان کے حق میں فیصلہ دیا گیا لیکن وفاقی عدالت نے وہ فیصلہ ختم کر دیا اس فیصلے نے گورنر جنرل کے اختیار کو وسیع کیا اور پاکستان میں آئینی بالادستی کے بجائے انتظامی اقتدار کے لیے خطرناک مثال قائم کر دی 1958 میں صدر اسکندر مرزا نے 1956 کا آئین منسوخ کر دیا، اسمبلیاں توڑ دیں اور مارشل لا نافذ کر دیا چند دن بعد ہی جنرل ایوب خان نے اسکندر مرزا کو ہٹا کر مکمل اقتدار سنبھال لیا اس اقدام کے بعد ڈوسو کیس میں چیف جسٹس منیر کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ نے کامیاب انقلاب کے بارے میں ایسا قانونی اصول اختیار کیا جس کے نتیجے میں فوجی قبضے کے بعد پیدا ہونے والے نئے نظام کو قانونی حیثیت مل گئی، اس فیصلے نے عملاً نے یہ تصور مضبوط کیا کہ اگر کوئی انقلابی اقدام کامیاب ہو جائے تو وہ قانونی نظام قائم کر سکتا ہے۔ یہ نظریہ ملک کے لیے بدترین نتائج کا حامل ثابت ہوا اور فوجی قبضوں کی راہ ہموار ہو گئی بعد ازاں مختلف ادوار میں جسٹس انوار الحق جسٹس ارشاد حسن خان، جسٹس عبدالحمید ڈوگر وغیرہ فوجی آمروں کے حق میں فیصلے دیتے رہے، عدالت عالیہ لاہور کے جج جسٹس عبدالقیوم نے سیاسی جانبداری کی انتہا کر دی ان کی ایک فون ریکارڈنگ بھی سامنے آئی جس میں وہ شریف فیملی سے اپنی مکمل وفاداری کا اظہار کر رہے ہیں، جسٹس قیوم کے خلاف عدالت عظمیٰ نے انتہائی سخت ابزرویشنز دیں، اس سے واضح ہوا کہ جسٹس قیوم کا معاملہ محض سیاسی الزام نہیں تھا۔ آج بھی پاکستانی عوام اپنے نظام انصاف سے قطعی مایوس ہیں، مظلوم عدالت جانے سے گھبراتا ہے جبکہ ظالم اس سے کہتا ہے کہ تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، جانا چاہتے ہو تو عدالت چلے جاو? ان حالات میں ججوں کی تنخواہوں الاو?نسز اور مراعات میں بھاری اضافے کے حکومتی فیصلے نے عوام کی مایوسیوں میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا ہے۔
عدلیہ کا کردار اور ججوں کی تنخواہوں میں بھاری اضافہ
adminshuja
اگلی خبر →
No honor lift in honor list

Leave a Reply